مقدمات عدالتوں میں ہونے کے باعث ٹیکس وصولی میں مشکلات

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) 87 ارب 42 کروڑ روپے کی انکم ٹیکس وصولی مقدمات مختلف عدالتوں میں زیرسماعت ہونے کی وجہ سے ٹیکس دہنگان سے وصول نہیں کر پارہا۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے اجلاس میں پیش کی گئی آڈٹ رپورٹ کے مطابق کثیر تعداد میں رقم اس لیے پھنسی ہوئی ہے کیوں کہ ٹیکس دہندگان نے کسٹمز، ایکسائز اور سیلز ٹیکس ٹریبیونلز، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں انکم ٹیکس دعوؤں کو چیلنج کر رکھا ہے۔
ایف بی آر کی نگراں چیئرپرسن نوشین جاوید امجد نے پی اے سی کو بتایا کہ بیورو اس رقم کو اس لیے برآمد نہیں کرواسکتا کیوں کہ دعوؤں کے خلاف 96 کیسز زیر التوا ہیں اور چند کیسز ہائی کورٹس میں 2011 اور 2012 سے زیر التوا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے معاملہ سندھ، لاہور اور اسلام آباد ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز کے سامنے اٹھایا ہے اور ان سے درخواست کی ہے کہ مقدمات کو جلد نمٹانے کےلیے ٹیکس سے متعلق معاملات پر خصوصی بینچ تشکیل دیا جائے۔
اس پر پی اے سی کے چیئرمین رانا تنویر حسین نے کہا کہ ٹیکسز کی تیزی سے وصولی سے ٹیکس وصولی کا بہت بڑا فقدان کم ہوگا۔
دوران اجلاس ایف بی آر کے قانونی مشیر نے پی اے سی کو آگاہ کیا کہ 65 انکم ٹیکس سے متعلق مقدمات ٹریبونلز میں، 27 ہائی کورٹ میں اور 4 سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button