ملاکنڈ کی سیکیورٹی فوج سے لے کر پولیس کو کیوں دے دی گئی؟

وفاقی حکومت نے ایک طویل عرصے تک شورش، عسکریت پسندی اور فوجی آپریشنز کی زد میں رہنے والی خیبر پختون خواہ کی ملاکنڈ ڈویژن میں سیکیورٹی ذمہ داریاں مرحلہ وار پاکستانی فوج سے لے کر صوبائی پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کے حوالے کرنے کا اعلان تو کر دیا یے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا پولیس اور سی ٹی ڈی والے اس قابل ہو چکے ہیں کہ وہ مسلح دہشتگردوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرتے ہوئے عوام کو سیکیورٹی فراہم کر سکیں۔ یہ فیصلہ صوبائی حکومت کی جانب سے اس مسلسل مطالبے کے بعد کیا گیا کہ علاقے کا کنٹرول سول انتظامیہ کو سونپا جائے۔

یاد رہے کہ ملاکنڈ ڈویژن نو اضلاع پر مشتمل ہے جن میں سوات، بونیر، لوئر و اپر دیر، شانگلہ، باجوڑ، اپر و لوئر چترال شامل ہیں۔ یہ علاقہ جغرافیائی لحاظ سے اہم اور افغانستان سے ملحقہ سرحدوں کے باعث اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔ اگلے روز پشاور میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں کی امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، کور کمانڈر الیون کور عمر احمد بخاری سمیت اعلیٰ سول و عسکری حکام شریک تھے۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں اہم فیصلوں کا اعلان کیا گیا۔ ان میں پشاور کے کرکٹ سٹیڈیم میں رواں سال پاکستان سپر لیگ کے میچز منعقد کرانے کا فیصلہ بھی شامل ہے، جسے مبصرین امن کی بحالی کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ تاہم سب سے اہم فیصلہ ملاکنڈ ڈویژن میں فوج کی ذمہ داریوں کو صوبائی پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کرنے کا ہے۔ اعلامیے کے مطابق اس ماڈل کو بعد ازاں خیبر اور کرم کے علاقوں تک بھی توسیع دی جائے گی۔

اس کے علاوہ وزیراعلیٰ کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کاموں اورامن وامان کے اقدامات کا جائزہ لے گی۔

وزیراعلیٰ خیبر ہختونخواہ کے سیکریٹریٹ سے جاری اعلامیے میں فیصلوں کا سرسری ذکر کیا گیا، تاہم بعد ازاں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم اوردیگر مشیروں نے ویڈیو بیان میں مزید وضاحت کی۔ آفتاب عالم کے مطابق ملاکنڈ میں فوج سے سول اداروں کو اختیارات کی منتقلی بڑی خوشخبری ہے اور یہ امن کی بحالی میں سول و عسکری قیادت کی مشترکہ کامیابی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے نمائندوں اور قبائلی مشران کو اعتماد میں لینے کے لیے اجلاس بلایا جائے گا اور ان کی سفارشات پرعمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔ صوبائی حکومت کے مطابق ایپکس کمیٹی میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق نیشنل ایپکس کمیٹی میں بھی کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات شفیع جان نے بتایا کہ عمل درآمد کے طریقہ کار پر مزید اجلاسوں میں غور کیا جائے گا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ ہفتوں میں وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان رابطوں میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات اور اس کے بعد صوبائی سطح پر مشاورتی اجلاس اسی سلسلے کی کڑی قرار دیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انکی وزیر داخلہ محسن نقوی سے بھی بہت حوصلہ افزا ملاقات ہوئی ہے۔ 8 فروری کے احتجاج میں وزیر اعلیٰ کی عدم شرکت اور احتجاج کو ضلعی سطح تک محدود رکھنا بھی بعض حلقوں کے نزدیک اعتماد سازی کی کوشش تھی۔
لیکن ملاکنڈ اور سوات سمیت شمالی علاقوں میں اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ چند سال قبل طالبان سے مذاکرات اور شدت پسندوں کی واپسی کی خبروں کے بعد مٹہ اور دیگر علاقوں میں پرتشدد واقعات پیش آئے تھے، جس پر عوامی سطح پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔ ان واقعات کے بعد امن پاسون کے نام سے بڑی ریلیاں نکالی گئیں اور عوام نے واضح کیا کہ وہ مزید بدامنی نہیں چاہتے۔

سوات سے تعلق رکھنے والے صحافی عدنان باچا کے مطابق فوجی آپریشنز کے بعد علاقے میں کئی چوکیاں قائم تھیں جہاں سخت چیکنگ ہوتی تھی، جس سے شہریوں کو مشکلات پیش آتی تھیں۔ ان کے بقول جب حالات بہتر ہوئے تو عوام نے مطالبہ کیا کہ یہ چوکیاں پولیس کے حوالے کی جائیں۔ انکا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اگرچہ مکمل امن نہیں لیکن صورتحال اتنی کشیدہ بھی نہیں کہ ہر جگہ فوج کی تعیناتی ضروری ہو۔
پشاور کے سینیئر صحافی علی اکبر کا کہنا ہے کہ بیشتر علاقوں میں پہلے ہی سول انتظامیہ کو اختیارات حاصل ہیں اور فوج کو ضرورت پڑنے پر طلب کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اگر دیگر علاقوں میں بھی حالات بہتر ہوتے ہیں تو ملاکنڈ ماڈل کو وسعت دی جا سکتی ہے۔

سابق انسپکٹر جنرل پولیس اختر علی شاہ کے مطابق مالاکنڈ میں شدت پسندی کے واقعات 2004 سے شروع ہوئے اور 2007 کے بعد ٹی ٹی پی کی کارروائیوں میں تیزی آئی، جس کے نتیجے میں بڑے فوجی آپریشنز کیے گئے اور وسیع پیمانے پر نقل مکانی ہوئی۔ تجزیہ کار لحاظ علی کے مطابق اگرچہ تشدد کے واقعات میں کمی آئی ہے، لیکن شدت پسندوں کا مکمل خاتمہ نہیں ہوا۔ ان کے بقول سی ٹی ڈی کی ایک رپورٹ میں چار سے پانچ سو سخت گیر شدت پسندوں کی موجودگی کا ذکر ہے، جو مختلف اضلاع میں نقل و حرکت کرتے رہتے ہیں۔

حکومت نے ملاکنڈ ڈویژن کا کنٹرول فوج سے لینے کے تناظر میں پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے کے لیے نئی بھرتیوں، جدید تربیت، جدید اسلحے اور فنڈنگ میں اضافے جیسے اقدامات کیے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکار مقامی زبان، جغرافیہ اور سماجی ڈھانچے سے واقف ہوتے ہیں، جو ہیومن انٹیلی جنس کے لیے اہم عنصر ہے۔ تاہم اختر علی شاہ خبردار کرتے ہیں کہ پولیس کی صلاحیت بہتر ضرور ہوئی ہے، مگر وہ فوج کے برابر نہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردوں سے مقابلہ کرنا عام جرائم پیشہ عناصر کے مقابلے سے بہت مختلف کام ہے، خصوصاً جب انہیں سرحد پار حمایت اور جدید اسلحہ حاصل ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک متوازن ماڈل اختیار کیا جانا چاہیے جس میں فرنٹ لائن پر پولیس اور سول ادارے ہوں، جبکہ فوج پس منظر میں فوری معاونت کے لیے تیار رہے۔

مبصرین کے مطابق ملاکنڈ میں اختیارات کی منتقلی ایک اہم پیش رفت ہے، جو اگر کامیاب ہوئی تو نہ صرف مقامی اعتماد میں اضافہ کرے گی بلکہ سول اداروں کو مضبوط بنانے کی مثال بھی بنے گی۔ تاہم کسی بھی ناکامی کی صورت میں اس کے اثرات نہ صرف سیکیورٹی بلکہ سیاسی استحکام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اب نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ عمل درآمد کس رفتار سے ہوتا ہے اور آیا پولیس اور دیگر سول ادارے اس نازک ذمہ داری کو مؤثر انداز میں نبھا پاتے ہیں یا نہیں۔ ملاکنڈ ایک بار پھر قومی توجہ کا مرکز بن چکا ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار موضوع جنگ نہیں بلکہ امن کی منتقلی ہے۔

Back to top button