ملا عمر کا بیٹا افغان عسکری کمیشن کا سربراہ کیوں بنایا گیا؟

حال ہی میں افغان طالبان کے عسکری کمیشن کے سربراہ مقرر ہونے والے مولوی محمد یعقوب کی نامزدگی کا بنیادی مقصد امریکہ کے ساتھ افغان طالبان کے امن معاہدے کے حوالے سے افغان عوام اور معاہدہ مخالف طالبان دھڑوں کی حمایت اکٹھی کرنا ہے۔ یاد رہے کہ کراچی کے ایک مدرسے سے تعلیم حاصل کرنے والے ملا محمد یعقوب افغان طالبان کے بانی ملا محمد عمر کے صاحبزادے ہیں اور افغان عوام اور طالبان کے بیشتر دھڑے انھیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
ملا یعقوب اایک زیرک، سمجھدار اورسیاسی و عسکری سوچ کی حامل شخصیت ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں طالبان کا نائب امیر ہونے کے باوجود عسکری کمیشن جیسے اہم عہدے کا سربراہ بھی مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ اس اہم عہدے پر تعیناتی کے بعد عسکری اور سیاسی وِنگ کے درمیان رابطے کا کردار بھی ادا کریں گے۔ یاد رہے کہ مولوی محمد یعقوب کی تعیناتی چند روز پہلے افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ نے کی ہے۔ مولوی محمد یعقوب نے ابتدائی تعلیم کراچی کے ایک مدرسے سے حاصل کی اور ان کی عمر تقریباً 33 سال ہے۔ مولوی محمد یعقوب طالبان تحریک میں اہم شخصیت سمجھے جاتے ہیں اور ان سے تمام معاملات پر مشاورت کے بعد فیصلے کیے جاتے ہیں۔ مولوی محمد یعقوب ایک وقت میں طالبان تحریک کی امارت کے امیدوار بھی تھے لیکن انہیں نائب امیر مقرر کر دیا گیا تھا، اور اب انہیں نائب امیر کے علاوہ عسکری کمیشن کے سربراہ کا اضافی چارج بھی دے دیا گیا ہے۔
مولوی یعقوب افغان طالبسن کی عسکری ونگ میں پہلے بھی شامل رہے ہیں۔ جب طالبان اور ملا عمر کے خاندان کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے تو اس وقت ملا عمر کے بھائی عبدالمنان اخوند اور مولوی یعقوب کو عہدے دیے گئے تھے۔ اس وقت جب تحریک طالبان کی امارت کے لیے کچھ نام سامنے آئے تھے تو ملا عمر کے بھائی کو اس پر تحفطات تھے۔ مولوی یعقوب کو کچھ صوبوں کے عسکری ونگ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ مولوی یعقوب کی عسکری کمیشن کے سربراہ کے طور پر تعیناتی سے ان کمانڈرز کو بھی دودت کا پیغام دیاگیا ہے جو امریکہ کے ساتھ معاہدے پر تحفظات رکھتے تھے۔ مولوی یعقوب کی تعیناتی سے شاید ناراض طالبان کمانڈر اب اپنے مؤقف پر زیادہ زور نہیں دیں گے۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان بین الافغان مذاکرات سے پہلے افغان طالبان کے سٹرکچر میں بڑی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں جن میں یہ تعیناتی بھی شامل ہے۔ افغان طالبان کے امریکہ کے ساتھ قطر میں طے کیے گئے معاہدے کے تحت طالبان اور افغان حکومت کے قیدیوں کی رہائی کے بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے اور افغان طالبان نے افغان حکومت کے علاوہ دیگر تمام افغان جماعتوں اور گروہوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔
قطر میں قائم افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ ان کے رابطے تمام افغان جماعتوں، سیاستدانوں اور گروہوں کے ساتھ ہیں اور ان سے ملاقاتیں بھی کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ رابطے آئندہ بھی جاری رہیں گے اور ان رابطوں کا مقصد ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے قیام کے لیے یہ رابطے اور ایک دوسرے کے خیالات اور ان کے مؤقف کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے اور اس سے آسانیاں پیدا ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان رابطوں کا مقصد یہ معلوم کرنا بھی ہے کہ ان جماعتوں، گروہوں یا سیاستدانوں کے ساتھ مشترکہ نکات کیا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الافغان مذاکرات اس وقت شروع ہوں گے جب افغان حکومت اور طالبان دونوں جانب سے تمام قیدیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔
مولوی یعقوب کی تعیناتی کے بارے میں انہوں نے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ عالمی سطح پر کورونا وبا کے پھیلنے کے باعث اور ماہ رمضان کے آغاز سے قبل افغان حکومت نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا لیکن افغان طالبان نے ان کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔ طالبان نے مؤقف اپنایا تھا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان طے کیے گئے معاہدے میں تمام لائحہ عمل موجود ہیں، اور اگر افغان حکومت ان کے پانچ ہزار قیدی رہا کر دے تو اس کے بعد بتدریج مذاکرات بھی شروع ہو سکتے ہیں اور جنگ بندی بھی ہو سکتی ہے۔ افغان حکومت کے مطالبے اور معاہدے پر عمل درآمد میں تاخیر کے بعد امریکہ کے افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے قطر میں طالبان، کابل میں افغان حکومت اور پاکستان میں حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مولوی محمد یعقوب کی تعیناتی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ طالبان میں سیاسی حکام اور عسکری کمانڈرز میں رابطوں کی کمی کی وجہ سے طالبان قیادت کے لیے مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اب چونکہ طالبان مرکزی دھارے میں آنے کے لیے تیار ہیں، تو جہاں دیگر افغان دھڑوں، افغان حکومت اور عالمی سطح پر مذاکرات کے حوالے سے پالیسیاں ترتیب دینی ہیں، وہاں عسکری کارروائیوں پر بھی انہیں نظر رکھنی پڑے گی۔
