ملتان میں آموں کے باغات کی کٹائی کی اصل کہانی

ملتان میں ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی یا ڈی ایچ اے اور سٹی ہاوسنگ سوسائٹی کے منصوبوں کی خاطر آموں کے باغات کی بے دریغ کٹائی کی اطلاعات بالکل درست نکلی ہیں، لیکن اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ ان باغات کے مالکان نے اچھی قیمت کے عوض اپنی مرضی سے یہ زمینیں فروخت کیں لہذا حکومت ان درختوں کی کٹائی کے خلاف کسی قسم کی کارروائی سے قاصر ہے۔
ان دنوں سوشل میڈیا پر ملتان شہر میں ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی اور دیگر رہائشی سکیمیں بنانے کے لئے آم کے باغات کی کٹائی کی ویڈیوز خوب وائرل ہو رہی ہیں۔ اس حوالے سے اب یہ پتہ چلا ہے کہ بوسن روڈ اور شجاع آباد روڈ پر واقع رسیلے آم کے باغات کے مالکان کو فی ایکڑ ایک کروڑ سے دو کروڑ روپے تک آفر ہوئی جس پر انہوں نے یہ زمین ہاؤسنگ سوسائٹی کے لئے فروخت کردیں۔ لہذا اب کئی ماہ سے یہاں گھروں کی تعمیر کے لئے دھڑا دھڑ آموں کے درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق وائرل ہونے والی ویڈیوز میں سے ایک ویڈیو، جس میں آم کے درخت کاٹ کر ایک ٹریکٹر ٹرالی پر رکھے جارہے ہیں، ملتان میں بوسن روڈ کی ہے۔ ایک مقامی زمیندار نے بتایا کہ بوسن روڈ کی یہ جگہ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کے منصوبے فیز ون کے لیے استعمال ہو رہی ہے جبکہ باقی کی درخت کاٹنیلے کی ویڈیوز شجاع آباد روڈ کی ہیں جہاں سٹی ہاوسنگ سوسائٹی کے فیز ٹو پر کام ہو رہا ہے۔مینگو گروور ایسوسی ایشن ملتان کے صدر طارق خان کے مطابق ایک ویڈیو شجاع آباد روڈ کے علاقے نشتر ٹو کی ہے جہاں سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی نے اپنے فیز ٹو منصوبے کی تعمیر کا اعلان کر رکھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سٹی ہاؤسنگ پروجیکٹ سے پہلے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی پراجیکٹ شروع ہوا تو اسی علاقے کے کسانوں سے ہزاروں ایکڑ زمین پر موجود آموں کے باغات خرید لیے گے اور درختوں کو کاٹ دیا گیا۔
اس حوالے سے ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈی جی آغا علی عباس کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر نجی ملکیت کی زرعی زمینیں جو زرعی زون میں نہیں آتیں وہاں محکمہ درختوں کی کٹائی، باغات اور زرعی زمنیں ختم کرنے اور کاٹنے پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے بعد اب سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کو بوسن روڈ پر فیز ون پر کام کرنے کی ’اجازت دی گئی ہے‘ جس میں وہ ’خریدی گئی زمینوں پر درختوں کی کٹائی سمیت ہر قسم کا ترقیاتی کام کر سکتے ہیں۔ لیکن ان کے مطابق شجاع آباد روڈ پر سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کو فیز ٹو پر منصوبہ شروع کرنے کی مشروط اجازت دی گئی تھی جس میں ابھی وہ درختوں کی کٹائی سمیت کوئی بھی تعمیراتی کام شروع نہیں کرسکتے ہیں۔ انکا کہنا یے کہ وہ شجاع آباد روڈ پر درختوں کی کٹائی سے متعلق تحقیقات کریں گے کیوں کہ ابھی تک وہاں تعمیراتی کام کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
تاہم انکا کہنا تھا کہ باغات اور زراعت کے لیے محفوظ قرار دیا گیا علاقہ جو کہ پندرہ، سولہ سو ایکڑ بنتا ہے وہاں کسی کو تعمیرات کی اجازت نہیں ہے۔ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی نے اپنے فیز ون منصوبے کے دوران اس علاقے میں تعمیرات کی کوشش کی تھی جس پر ان کا کام بند کروا دیا گیا تھا۔ ملتان کے محکمہ ماحولیات کے مطابق سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کو ابھی تک ماحولیات کے حوالے سے محکمے کی جانب سے فیز ٹو کے لیے کوئی این او سی نہیں ملا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی جنگلات کے حوالے سے پالیسی میں باغات شامل نہیں ہیں۔ جو درخت جنگلات کے ذمرے میں آتے ہیں، وہ کسی بھی وجہ سے کاٹنے کے لیے مالکان پر لازم ہے کہ وہ محکمہ جنگلات سے اجازت حاصل کریں گے۔ مگر باغات کے ذمرے میں آنے والے درخت جو کہ پھل دار درخت ہیں ان کو کاٹنے کے لیے مالکان کو کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے، ماسوائے اس کے اگر وہ کسی حکومتی پالیسی اور معاہدے کے تحت لگائے گئے ہوں۔ حکام کے مطابق اس وقت ملتان میں تیزی کے ساتھ ترقیاتی کام ہو رہا ہے، جس میں کئی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے منصوبے زیر تعمیر ہیں۔ بوسن روڈ کا علاقہ چند سال قبل تک تقریباً دیہی علاقہ تھا اور یہ اپنے آم کے باغات کے لیے شہرت رکھتا تھا۔ بوسن روڈ کے ایک زمیندار محمد اسحاق نے بتایا کہ یہ جگہ، جہاں پہلے آم کے درخت موجود تھے، انھوں نے اپنی مرضی سے فروخت کی ہے اور اب یہ ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کی نجی ملکیت ہے۔ شجاع آباد روڈ کے علاقے کے ایک زمیندار نے بتایا کہ انھوں نے باغ کا علاقہ ’زیادہ دام وصول کر کے فروخت کیا ہے۔ڈی ایچ اے ملتان اور سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی کا فیز ون ایک دوسرے کے قریب تعمیر ہو رہے ہیں اور ان دونوں مقامات پر آم کے درخت بڑی تعداد میں کاٹے گئے ہیں۔ اب یہاں تیزی سے کام جاری ہے جس میں رہائشی و کمرشل زمینیں لوگوں کے لیے دستیاب ہیں۔
ملتان مینگو گروور ایسوسی ایشن کے صدر طارق خان کا کہنا تھا کہ گذشتہ چند برسوں سے ملتان کے اندر زرعی زمینیں اور باغات کو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لیے فروخت کرنے کے رحجان میں اضافہ ہوا ہے۔ زمیندار خود اپنی خوشی سے مہنگے داموں یہ زمینیں فروخت کررہے ہیں۔طارق خان کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ باغات اور زرعی زمین سے زمیندار کی آمدن کا کم ہونا اور حکومت کی جانب سے اس پر کوئی توجہ نہ دینا ہے۔ ’اگر زمیندار کو مارکیٹ سے اچھے پیسے ملتے ہیں تو وہ زمینوں کو فروخت کر دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دو، تین بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے علاوہ چھوٹی بڑی کئی ہاؤسنگ کالونیاں اس وقت بن رہی ہیں جن کے لیے زرعی زمین اور باغات استعمال ہو رہے ہیں۔ نشتر کے علاقے میں اپنا باغ فروخت کرنے والے ایک زمیندار کا کہنا تھا کہ ’اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے باغ فروخت کیا ہے۔ ہم نے اس کے بہت اچھے دام لیے ہیں۔ ملنے والے پیسوں سے کوئی کاروبار وغیرہ شروع کرنے کا سوچ رہے ہیں کیونکہ زراعت سے اب ہم لوگوں کا چولہا نہیں جلتا ہے۔
ملتان میں پراپرٹی سے منسلک محمد پرویز کے مطاق ڈی ایچ اے کی تعمیر سے قبل اس علاقے میں زمین کی قیمت 25 سے 35 لاکھ روپے فی ایکٹر تھی۔جب ڈی ایچ اے ملتان نے اپنی تعمیرات کا اعلان کیا تو فی ایکٹر زمین کی قیمت ’ایک کروڑ تک پہنچ گئی تھی۔‘ لوگوں کو جب دگنے پیسے ملنے لگے تو انھوں نے اپنی زمینیں فروخت کرنا شروع کر دی تھیں۔’زمیندار اپنی زمین بھی فروخت کرتے تھے اور اس کے بدلے میں پلاٹ کے کاغذات بھی حاصل کرتے تھے۔ پرویز کا کہنا تھا کہ اب ڈی ایچ اے اور سٹی ہاوسنگ سوسائٹی کے فیز ون والے مقام پر فی ایکٹر کی قیمت دو کروڑ سے بھی زیادہ ہو چکی ہے جبکہ اگر کوئی مکمل سوسائٹی یا پلاٹنگ ہوئی ہے تو اس کی قیمت بہت زیادہ ہے۔ملتان مینگو گروور ایسوسی ایشن کے صدر طارق خان کا کہنا تھا کہ یہ ٹھیک ہے کہ اب رہائش اور گھروں کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ مگر اس کے ساتھ خوراک کی بھی ضرورت بڑھ رہی ہیں۔‘ وہ کہتے ہیں ہمیں دونوں چیزوں میں توازن قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ زرعی زمینوں اور باغات والے مقامات پر ہاؤسنگ سوسائٹیز کی اجازت نہ دے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ رہائشی مقاصد اور نئی سوسائٹیز کے لیے ایسی زمینیں استعمال ہوسکتی ہیں جو زراعت اور باغات کے استعمال کے قابل نہ ہوں یعنی ایسی زمینیں جو بنجر اور ناقابل کاشت ہوں وہاں پر سوسائٹی بن سکتی ہیں تاکہ ہمارے سرسبز علاقوں کو نقصان نہ پہنچ سکے۔‘
