ملزموں سے ضبط کیے گئے ڈالر آخر جاتے کہاں ہیں؟

پاکستان میں گزشتہ کچھ ماہ سے غیرملکی کرنسی ریکور کیے جانے کے بعد معاشی انڈیکس میں بہتری کی خبریں نمایاں ہوئیں، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ غیرقانونی طور پر جمع کردہ رقم کی ریکوری کے بعد قومی خزانے میں جمع ہونے سے ڈالر کی قیمت نیچے آئی حالانکہ یہ بالکل غلط ہے۔ایف آئی اے نے اپنی کارروائیوں کے دوران جتنی بھی غیرملکی کرنسی ریکور کی ہے وہ ابھی تک ایف آئی اے کے پاس ہی ہے، جب تک عدالت اس رقم کو قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم نہیں دے دیتی یہ رقم مال مسروقہ کے طور پر ایف آئی اے کے پاس ہی رہے گی۔ایف آئی اے کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’تین ماہ قبل ایف آئی نے روپے کی قیمت مزید گرنے سے روکنے کیلئے غیرقانونی منی چینجرز اور حوالہ ہنڈی کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں شروع کیں۔ اس سلسلے میں ائیر پورٹس سمیت تمام مقامات پر سکریننگ مزید سخت کر دی گئی تھی۔ اس دوران ایف آئی اے نے ملک بھر میں 277 چھاپے مارے، 281 ایف آئی آرز درج کیں جبکہ 395 ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔صرف یہی نہیں بلکہ غیرقانونی طور پر کرنسی کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف 48 انکوائریاں شروع کی گئیں جن میں سے 39 کو مقدمات میں تبدیل کیا گیا۔اس دوران مختلف چھاپوں میں مجموعی طور پر 95 کروڑ روپے سے زائد کی ملکی اور غیرملکی کرنسی برآمد کی گئی۔ چار لاکھ 17 ہزار 653 ڈالرز، 16 کروڑ، 36 لاکھ روپے مالیت کی دیگر غیرملکی کرنسی اور 66 کروڑ، 94 لاکھ پاکستانی روپے برآمد کیے گئے۔ایف آئی اے کا کہنا ہے یہ تمام مقدمات ابھی تک تحقیقاتی سٹیج پر ہیں۔ اس لیے ریکور کی گئی رقم قومی خزانے میں جمع نہیں کروائی گئی۔طریقہ کار کے مطابق یہ رقم ابھی تک ایف آئی اے کے پاس ہی ہے۔ ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور جب عدالت یہ فیصلہ دے گی کہ اس رقم کو قومی خزانے میں جمع کرا دیا جائے تب ہی اسے قومی خزانے میں جمع کرایا جائے گا۔ایف آئی اے حکام کے مطابق ’طریقہ کار بھی یہی ہے کہ جب بھی مال مسروقہ یا کوئی ایسی رقم جس کا قومی خزانے میں جمع کرانا لازم ہو وہ اس وقت تک قومی خزانے میں نہیں پہنچتی جب تک کوئی قانونی عدالت اس کے بارے میں کوئی حکم نامہ جاری نہیں کرتی۔

Back to top button