ملک بند کر کے کرونا کا مقابلہ نہیں کر سکتے

وفاقی وزیر توانائی اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک بند کر کے کرونا وبا کا مقابلہ نہیں کر سکتے، وائرس سے بچاؤ کا واحد حل احتیاط ہے۔وفاقی وزیر اسد عمر نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان کے ہمراہ کرونا صورتحال پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ملک بند کر کے وبا کا مقابلہ نہیں کرسکتے تاہم کرونا سے بچنے کا واحد حل صرف احتیاط ہے۔ کئی لوگ اب کرونا کو سنجیدہ نہیں لے رہے۔انہوں نے کہا کہ کرونا صورتحال میں سندھ حکومت کی بھرپور مدد کریں گے لیکن مکمل شہر بند کر کے اس وبا کا علاج نہیں ہو سکتا۔ سندھ اور بلوچستان میں ایس او پیز پر زیادہ عمل نہیں ہو رہا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے ویکسی نیشن کے لیے زیادہ لوگ آرہے ہیں۔ گزشتہ روز مجموعی طور پر ساڑھے 8 لاکھ کے قریب افراد کی ویکسی نیشن کا ریکارڈ بنایا جبکہ کل سندھ نے ایک لاکھ 69 ہزار ویکسی نیشن کرائی جو سندھ کا ریکارڈ ہے۔انہوں نے کہا کہ یکم اگست سے صرف ویکسین لگوائے ہوئے افراد ہی ہوائی جہاز پر سفرکرسکیں گے اور جن اساتذہ نے ویکسین نہیں لگوائی وہ بھی یکم اگست سے اسکولوں میں نہیں پڑھا سکیں گے۔اسد عمر نے کہا کہ اسکول ٹرانسپورٹ عملے کے لیے بھی ویکسی نیشن لازمی قرار دی گئی ہے اور 31 اگست کے بعد ویکسی نیٹڈ عملے کے بغیر ٹرانسپورٹ نہیں چل سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں، طالب علموں اور مارکیٹ میں کام کرنے والوں کے لیے ویکسی نیشن لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ ہوٹلز، ریسٹورنٹس میں کام کرنے والوں کے لیے بھی ویکسی نیشن کی آخری تاریخ 31 اگست ہے۔اس موقع پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا کیسزکی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور ملک بھر میں کرونا مثبت کیسز کی شرح 7.5 فیصد ہے۔انہوں ںے کہا کہ کراچی میں کرونا کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور کراچی کے ہسپتالوں میں 50 فیصد بیڈز پر کرونا مریض موجود ہیں۔ تشویشناک مریضوں کی تعداد3 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
