ملک بھر میں بین الصوبائی ٹرانسپورٹ دو روز کےلیے بند

کورونا کیسز میں اضافہ کے باعث ملک بھر میں بین الصوبائی ٹرانسپورٹ ہفتہ اور اتوار کو بند رکھی جائے گی صوبہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دو روز کےلیے ٹرانسپورٹ بند رہے گی جب کہ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ 25 اپریل تک ہفتے میں دو روز بند رہے گی۔ پابندی کے باعث شہری پبلک ٹرانسپورٹ پر ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں سفر نہیں کر سکیں گے ٹرانسپورٹرزکی حکومت کو بقیہ دنوں میں کورونا ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
انتظامیہ کا اس بابت کہنا ہے کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ٹرانسپورٹرز کے خلاف کارروائی ہوگی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تمام بس اڈے بھی کورونا ایس او پیز کے تحت رات 12 بجے بند کر دیے گئے تھے۔ گزشتہ روز اسلام آباد کی انتظامیہ نے اعلان کیا تھا کہ کورونا ایس او پیز کے تحت آج رات 12 بجے تمام بس اڈے بند کر دئیے جائیں گے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کے مطابق کوئی پبلک ٹرانسپورٹ نہ شہر میں داخل ہو سکے گی اور نہ باہر جا سکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پابندی اتوار کی رات 12بجے تک رہے گی انہوں نے کہا کہ یہ پابندی گڈز ٹرانسپورٹ پر نافذ نہیں ہوگی کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے سبب سندھ حکومت نے بھی بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ پر ہفتے میں 2 دن پابندی لگادی تھی۔ محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ہفتہ اور اتوارکو ہر قسم کی بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ بند رہے گی تاہم گڈز ٹرانسپورٹ اور ہنگامی طبی سروسز پر پابندی نہیں ہوگی اس سے قبل محکمہ ٹرانسپورٹ خیبر پختونخوا نے ہفتہ اور اتوار کے روز بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پر پابندی عائد کردی تھی بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ پر ہفتہ اور اتوار کو پابندی برقرار رہے گی۔ سیکرٹری ٹرانسپورٹ خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مال بردار گاڑیوں سمیت میڈیکل اور ایمرجنسی گاڑیوں پر پابندی نہیں ہوگی سیکرٹری ٹرانسپورٹ کے مطابق پابندی کورونا کی تیسری لہر میں شدت آنے کے باعث لگائی گئی ہے پابندیوں کے حوالے سے ٹرانسپورٹرز کو اعتماد میں لیا گیا ہے۔ سیکرٹری ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں 5 دن کورونا ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائیگا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button