ملک بھر میں تعلیمی ادارے جون میں نہ کھولنے کا فیصلہ

وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ملک بھر میں تعلیمی ادارے یکم جون کے بعد بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیرصدارت صوبائی وزرائے تعلیم کی کانفرنس ہوئی۔ کانفرنس میں صوبائی وزرائےتعلیم نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ کانفرنس میں پنجاب ،سندھ اور بلوچستان نے یکم جون سے تعلیمی ادارے کھولنے کی تجویز کی مخالفت کی تاہم خیبر پختونخواہ سکول کھولنے کی حمایت کی اس دوران پنجاب، بلوچستان اور سندھ نے مطالبہ کیا ہے کہ کورونا کا خدشہ ہے لہذا تعلیمی ادارے بند رکھے جائیں۔
صوبوں میں اتفاق نہ ہونے پر معاملہ قومی رابطہ کمیٹی کے کل اجلاس میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس کو تجویز دی گئی کہ جون میں میں لاک ڈاؤن ختم کیا جاتا ہے تو 9ویں اور انٹر کے امتحانات کرائے جا سکتے ہیں جبکہ جولائی تک لاک ڈاؤن رہا تو تین جماعتوں کے امتحانات منعقد کرنا مشکل ہونگے۔قبل ازیں وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نے یکم جون سے تعلیمی ادارے کھولنے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ابھی اسکول کھلنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ صوبائی وزیر تعلیم مراد راس نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ اسکول کھولنے کے حوالے سے بھی مشاورت ہورہی ہے۔ واضح رہے کہ 26 مارچ کو وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کورونا وائرس کے باعث پنجاب بھر میں تعلیمی ادارے 31 مئی تک بند رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
خیال رہے کہ کورونا وائرس کا پاکستان میں پہلا کیس 26 فروری کو سامنے آیا تھا جس کے بعد سب سے پہلے سندھ حکومت نے تعلیمی ادارے بند کردیے تھے اور نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات بھی ملتوی کردیے گئے تھے۔اس کے بعد دیگر صوبوں نے بھی تعلیمی ادارے بند کردیے تھے اور نیا تعلیمی سال شروع نہیں ہوسکا تھا۔کورونا کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوئی تو تعلیمی اداروں کی بندش کو 30 مئی تک توسیع دے دی گئی۔سندھ حکومت نے تعلیمی پالیسی برائے سال 21-2020 بھی جاری کردی تھی جس کے تحت یکم جون سے پہلی تا آٹھویں جماعت کے امتحانات ہوں گے جبکہ 15 جون سے نویں اور دسویں کے امتحانات ہوں گے۔ تمام بورڈز دسویں جماعت کے امتحانی نتائج 15 اگست تک جاری کرنے کے پابند ہوں گے، گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات 6 جولائی سے شروع ہوں گے جب کہ دسویں جماعت کے نتائج کے بعد ہی گیارہویں جماعت کے داخلوں کا اعلان کیاجائے گا۔
ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب ہوتی جارہی ہے اور نئے کیسز اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ ملک بھر میں جزوی لاک ڈاؤن تو ہے لیکن اس پر سختی سے عمل نہیں ہورہا یہی وجہ ہے کہ کورونا کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے۔ایسی صورتحال میں محض کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے مکمل بند ہیں جس کی وجہ سے تاجروں کا معاشی اور طالب علموں کا پڑھائی کا نقصان ہورہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button