کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن، پنجاب میں ن لیگ نے میدان مارلیا

ملک بھر میں قائم 42 کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں پولنگ کا عمل مکمل ہوگیا پنجاب میں ن لیگ اور خیبر پختو خوا میں تحریک انصاف نے میدان مار لیا بقیہ صوبوں میں تحریک انصاف اور ن لیگ میں مقابلہ جاری ہے جب کہ آزاد امیدواروں کی بھی بھاری اکثریت کامیاب ہوئی ہے۔۔پنجاب میں مسلم لیگ ن کا پلڑا بھاری ہے اور اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن 44 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے۔آزاد امیدوار 31 نشستوں کے ساتھ دوسرے اور تحریک انصاف 27 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
لاہور میں والٹن اور لاہور کینٹ مسلم لیگ ن نے جیت لیے جبکہ چکلالہ کینٹ میں بھی پی ٹی آئی کو اپ سیٹ شکست ہوئی۔واہ کینٹ میں مسلم لیگ ن نے 10 میں سے 8 نشستیں جیت کر تحریک انصاف کو بڑا دھچکا پہنچایا۔وہیں گوجرانوالا میں تحریک انصاف نے 10 میں سے 6 نشستیں جیت کر مسلم لیگ ن کو مات دی، اس کے علاوہ بہاولپور، جہلم اور کھاریاں میں تحریک انصاف نے میدان مار لیا۔ملتان کینٹ کی 10 میں سے 9 نشستیں آزاد امیدوار لے اُڑے۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نےکہاہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں ن لیگ پر اپنے ووٹ کے ذریعے اعتماد کا اظہار کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھاکہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں جو کامیابی مل رہی ہے، عوام کا مسلم لیگ ن پر بھروسے اور یقین کا ثبوت ہے۔ان کا کہنا تھاکہ یقین دلاتے ہیں کہ عوام کو مایوس نہیں کریں گے اور ان کی مشکلات اور مسائل کو حل کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔شہباز شریف کا کہنا تھاکہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں ن لیگ پر اپنے ووٹ کے ذریعے اعتماد کا اظہار کرنے پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔


دوسری طرف ملک بھر کےکنٹونمنٹ بورڈز کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہےملک کے 41کنٹونمنٹ بورڈز کے 205 وارڈز میں 1569 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا جبکہ پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا جو شام 5 بجے تک جاری رہا۔اب تک کے 205 میں سے 195 وارڈز کے غیرسرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے 62، مسلم لیگ ن کے 52، آزاد امیدوار 49، پیپلزپارٹی کے 13، متحدہ قومی موومنٹ کے 10، جماعت اسلامی کے 5، بلوچستان عوامی پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے 2، 2 امیدوار کامیاب قرار پائے۔
صوبہ خیبرپختونخوا میں کنٹونمنٹ بورڈ کے تمام 37 وارڈ کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی 18، آزاد امیدوار 9، مسلم لیگ ن 5، پیپلزپارٹی 3 اور عوامی نیشنل پارٹی 2 وارڈ میں کامیاب ہوئی۔
ملک بھر کے 42 کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کے لیے پولنگ صبح آٹھ بجے شروع ہوئی جو بغیر کسی وقفے کے شام پانچ بجے تک جاری رہی۔ مقررہ وقت گزرنے کے بعد جو ووٹرز پولنگ اسٹیشن اندر داخل ہوچکے انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت دے دی گئی۔پریذائیڈنگ افسران ووٹوں کی گنتی کے فوراً بعد نتائج کا اعلان پولنگ اسٹیشن پر کریں گے جبکہ ریٹرننگ افسر وارڈز کے نتائج کی تکمیل کے بعد فوری طورپر غیر حتمی نتائج کا اعلان کریں گے۔
ملک بھر کے 42 کنٹونمنٹ بورڈز میں 219 وارڈز ہیں، 7 نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوگئے ہیں، کامرہ کے 5 میں سے 4 وارڈز میں حلقہ بندی کے تنازع کے باعث الیکشن نہیں ہوا جب کہ راولپنڈی اور پنوں عاقل کے ایک ایک وارڈ میں بھی امیدواروں کے انتقال کےباعث انتخاب ملتوی کردیئے گئے، اس طرح 206 وارڈز میں ووٹنگ ہوئی۔
کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں مجموعی طور پر ایک ہزار 559 امیدوار میدان میں آئے، سب سے زیادہ 180 امیدوار پی ٹی آئی نے اتارے، مسلم لیگ (ن) کے 143، پیپلز پارٹی 112، جماعت اسلامی 104، کالعدم تحریک لبیک پاکستان 86، اللہ اکبر تحریک کے 74 ، ایم کیو ایم کے 42، پی ایس پی 35، (ق) لیگ 34 اور جے یوآئی کے 25 امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا، اس کے علاوہ 659 آزاد امیدوار نے بھی کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن میں قسمت آزمائی کی۔
امن وامان کو یقینی بنانے کے لیے پولنگ اسٹیشنز پر پولیس تعینات رہی جب کہ پولنگ اسٹیشنز کی حدود کے باہر رینجرز اور ایف سی اہل کار بھی موجود تھے۔ رینجرز اور ایف سی کے انچارج افسران کو مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کیے گئے۔ حساس ترین پولنگ اسٹیشنز کے اندر سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کیے گئے۔
کراچی کے 6 کنٹونمنٹ بورڈ کے 42 وارڈز میں 9 خواتین سمیت 343 امیدوار میدان میں تھے، 238 کا تعلق مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے تھا جبکہ 105 امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑرہے تھے۔کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ میں صدر مملکت عارف علوی، گورنر سندھ عمران اسماعیل سمیت مختلف سیاسی و سماجی شخصیات، اراکین اسمبلی، کھیلوں اور شوبز کے میدان میں شہرت پانے والے کھلاڑیوں اور فنکاروں کے ووٹ بھی موجود ہیں۔
حیدرآباد کنٹونمنٹ بورڈ کی 10 نشستوں پر8 سیاسی ومذہبی جماعتوں کے 54 اور 20 آزاد امیدواروں مدمقابل تھے، 48 ہزار سے زائد مرد و خواتین ووٹرز کے لیے 35 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے، جن میں سے7 پولنگ اسٹیشن کو انتہائی حساس قرار دیے گئے تھے۔
لاہور اور والٹن کنٹونمنٹ میں 10، 10 وارڈز ہیں جبکہ 20 نشستوں پر 268 امیدوار مدمقابل تھے۔ لاہور کنٹونمنٹ میں 110 جب کہ والٹن میں 158 امیدوار میدان میں اترے ۔
ضلع راولپنڈی کے 5 کنٹونمنٹ بورڈز راولپنڈی، چکلالہ، مری ، ٹیکسلا اور واہ میں بھی پولنگ ہوئی، راولپنڈی، چکلالہ اور واہ کنٹونمنٹ بورڈز میں 10، 10 ، ٹیکسلا کنٹونمنٹ بورڈ میں 5 جب کہ مری بورڈ میں 2 وارڈ ہیں، جہاں 6 لاکھ 64 ہزار 894 رجسٹرڈ ووٹرز کے لئے ایک ہزار 604 پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے تھے۔
خیبرپختونخوا میں مجموعی طور پر 33 کنٹونمنٹ وارڈز میں انتخابات ہوئے، ایبٹ آباد میں 10، پشاور میں 5، نوشہرہ میں 4، رسالپور اور کوہاٹ میں 3،3 ، مردان، بنوں،ڈی آئی خان اور حویلیاں میں 2،2 نشستوں پر پولنگ کا عمل بالاتعطل مکمل ہوا۔
بلوچستان کے کوئٹہ ، ژوب اور لورالائی کنٹونمنٹ بورڈز کے 9 میں سے 8 وارڈز پر پولنگ ہوئی، کوئٹہ کے 5 وارڈز میں مجموعی طور پر 35 جب کہ ژوب کی 2 نشنستوں پر 7 امیدوار میدان میں تھے، لورالائی کے 2 وارڈز میں سے ایک پر آزاد امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوچکا ہے جب کہ ایک نشست پرپولنگ ہوئی۔

Back to top button