ملک ریاض کا انٹرویو، عمران اور ثاقب نثار کی منجی ٹھوک دی؟

سینئر صحافی ، کالم نگار اور اینکر پرسن جاوید چودھری نے دعوی کیا ہے پاکستان کے طاقتور پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض نے بھی ایک تہلکہ خیز انٹرویو ریکارڈ کروا دیا ہے جس میں سابق وزیر اعظم عمران خان ، ان کے سہولت کاروں اور سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کے گھناؤنے کردار اور کا لے کرتوتوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے .اپنے ایک وائرل وی لاگ میں جاوید چوہدری نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کے دھماکہ خیزانٹرویو کے حوالے سے پھیلی قیاس آرائیوں کا خاتمہ کردیا .انہوں نے انٹرویو ریکارڈ ہونے کی تصدیق کے ساتھ ساتھ اہم انکشافات بھی کیے ہیں کہ ملک ریاض اس انٹرویو میں کون کون سے رازوں سے پردہ اٹھانے والے ہیں۔جاوید چودھری کا کہنا ہے کہ یہ انٹرویو جلد آنے والا ہے جو کہ اب تک کا سب سے تہلکہ خیز انٹرویو ہو گا اور سب کو ہلا کر رکھ دے گا
ویڈیو کے آغازمیں صحافی و ٹی وی میزبان بتاتے ہیں کہ ملک ریاض نے پہلی مرتبہ زبان کھولنے کا فیصلہ کیا ہے یا انہوں نے زبان کھول لی ہے۔۔ یہ 2 چیزیں ہیں اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ انٹرویو ریکارڈ ہوچکا ہے تاہم ملک ریاض سے رابطہ کیا تو نہ انہوں نے ’ہاں‘ کی اور نہ ہی ’’ناں‘ کی‘ ۔جاوید چوہدری نے دعویٰ کیا کہ ملک ریاض نے انٹرویو کے مواد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ، ’ہاں، یہ بات درست ہے‘۔ ویڈیو میں ان کا کہناہے کہ ملک ریاض کا انٹرویو 3 چیزوں پر مبنی ہے، نمبر ایک یہ کہ سپریم کورٹ کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کی مد میں عائد کیے جانے 460 ارب روہے کے جرمانے میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکا کیا کردار تھا۔اور انہوں نے ملک ریاض سے کیا کیا مراعات حاصل کی تھیں۔ دوسرا، 2014 میں عمران خان کے دھرنے میں ملک ریاض کا کیا کردار تھا اور یہ دھرنا کس کی پلاننگ تھی ، خوراک، ادائیگیوں کے لیے رقوم اور پیغامات کہاں سے آتے تھے۔ جاوید چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اس دھرنے کے دوران ملک ریاض نے نواز شریف کو پیغام بھجوایا تھا کہ وہ استعفیٰ دے دیں یا چھٹی لے کر ملک سے باہر چلے جائیں، انٹرویو میں پہلی بار یہ تمام چیزیں بھی تفصیلات سے بتائی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک ریاض نے انٹرویو میں یہ بھی کھل کر بتایا ہے کہ عمران خان کے دور میں کس کا کیا کردار تھا۔ کسی کے کہنے پر انہوں نے نواز شریف اور آصف علی زرداری کی ملاقاتیں بھی کروائی تھیں۔ اس دوران کچھ اداروں کو اندیشہ پیداہوگیا تھا کہ یہ دونوں اکٹھے ہوگئے تو عمران خان کی حکومت کو نقصان پہنچ سکتا تھا، ملک ریاض نے اس وقت دونوں کو اکٹھا نہیں ہونے دیا تھا۔ یہ سب بھی وہ پہلی بار بتا رہے ہیں۔جاوید چوہدری نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ دھماکہ خیز انٹرویو پاکستان میں تہلکہ مچا دے گا۔ تاہم اس والے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ انٹرویو کس وقت نشر کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ، ’یہ اطلاع مکمل طور پر درست ہے کہ یا تو ملک ریاض نے یہ انٹرویو ریکارڈ کروادیا ہے، یا کروا ریے ہیں یا مواد تیار کرلیا گیا ہے بہرحال یہ اسی دائرے کے گرد گھومے گا . ویڈیو میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ انٹرویو کسے دیا گیا ہے ، جاوید چوہدری کے مطابق یہ تہلکہ خیز انٹرویو جلد ٹی وی اسکرین یا سوشل میڈیا پر دیکھا جاسکے گا۔ واضح رہے کہ ملک ریاض اس وقت سخت مشکلات کا شکار ہیں . وہ سابق وزیر اعظم عمران خان عمران خان اور ان کی اہلیہ بشری بی بی کے خلاف ایک سو نوے ملین پاونڈ کیس میں بھی ملوث ہیں جبکہ ان کے ادارے بحریہ ٹاؤن کے خلاف کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جس میں اربوں روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی اور سینکڑوں ایکڑ اراضی پر ناجائز قبضے کے معاملات سامنے آرہے ہیں.22 نومبر کے روز پاکستان کی سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی سے متعلق 2019 کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے رقم ادائیگی کے شیڈول میں ترمیم کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ چھ گھنٹے کی سماعت کے اختتام پر عدالت نے تفصیلی حکمنامہ لکھوایا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ واضح ہے۔ سپریم کورٹ کے 2019 کے فیصلے کی خلاف ورزی پر اگر بحریہ ٹاؤن ڈیفالٹ ہوا تو ڈیفالٹ تصور کیا جائے گا۔عدالت نے حکم دیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن نے اب تک اقساط کی صورت 30 ارب روپے دیے وہ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ سے سندھ حکومت کو منتقل کیے جائیں۔ حکمنامے کے مطابق بیرون ملک سے آئے ہوۓ 35 ارب روپے (190 ملین پاؤنڈ) سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ سے نکال کر نیشنل بینک میں حکومت پاکستان کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے جائیں۔
عدالتی آرڈر میں لکھا گیا کہ سروے رپورٹ کے مطابق بحریہ ٹاؤن کا 16896ایکڑ سے زائد زمین پر قبضہ ہے۔ جبکہ بحریہ ٹاؤن نے یکطرفہ طور پر اقساط کی ادائیگی روک دی اور اضافی زمین پر بھی قبضہ کر رکھا ہے۔

Back to top button