ملک ریاض کے 50 ارب کے سکینڈل میں 21 عمرانڈوز طلب

نیب نے سابقہ دور حکومت میں بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کو 50 ارب روپے لوٹانے کے سکینڈل میں عمران خان کابینہ کے 21 اراکین کو طلبی کے نوٹس جاری کرتے ہوئے تحقیقات کے لیے طلب کرلیا ہے۔ یاد رہے کہ عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے ایک کابینہ اجلاس میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کی جانب سے ضبط کئے گئے پچاس ارب روپے سٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں ڈالنے کی بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں ڈالنے کی غیر قانونی منظوری دی گئی تھی تاکہ ملک ریاض ایک اور کیس میں خود پر واجب الادا جرمانہ ادا کر سکیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ کس فیصلے کی منظوری دی جا رہی ہے۔ تب وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر نے ایک ایجنڈا آئیٹم کی منظوری مانگتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو ریکارڈ پر نہیں لایا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم کی جانب سے شہزاد اکبر کی ہاں میں ہاں ملانے کے بعد ایجنڈا آئیٹم کی منظوری دے دی گئی۔ لیکن اس فیصلے کے نتیجے میں قومی خزانے کو پچاس ارب روپے کا بڑا جھٹکا لگ گیا۔

دوسری جانب پچاس ارب روپے کا فائدہ اٹھانے والے ملک ریاض نے عمران اور انکی اہلیہ کے نام پر اسلام آباد میں 458 کنال قیمتی اراضی الاٹ کر دی۔ لہذا اب نیب کی جانب سے یہ تحقیق کی جا رہی ہے کہ کیا اس زمین کی الاٹمنٹ عمران کو پچاس ارب روپے کے فائدے کے عوض بطور رشوت دی گئی کیونکہ اس کی کوئی قیمت وصول نہیں کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق اب نیب نے عمران حکومت کے 21 کابینہ ارکان کو نوٹس جاری کر دیے ہیں تاکہ برطانیہ سے پاکستان منتقل کیے گئے 50؍ ارب روپے کے سکینڈل کی تحقیقات کی جا سکیں۔ جن نمایاں لوگوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں اُن میں پرویز خٹک، شفقت محمود، مُراد سعید، حماد اظہر، اسد عمر، فروغ نسیم، شیخ رشید، فواد چودھری، فیصل واوڈا، علی امین گنڈا پور، شیرین مزاری اور دیگر شامل ہیں۔ کابینہ کے دیگر ارکان کو بھی تحقیقات میں شامل کیا جائے گا جبکہ سب سے آخر میں عمران خان کو نوٹس جاری کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب راولپنڈی اس انکوائری کیلئے پی ٹی آئی کی پوری کابینہ کو نوٹس جاری کر رہا ہے تاکہ اختیارات کے غلط استعمال، مالی فوائد حاصل کرنے اور جرائم سے حاصل ہونے والے اثاثہ جات برطانیہ سے پاکستان منتقل کرنے کے معاملے میں مجرمانہ اقدام کرتے ہوئے بھروسہ توڑنے اور اس کے بعد غیر قانونی انداز سے پورا ریکارڈ سر بمہر کرنے کے الزامات کی تحقیقات کی جا سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فنڈز کی اس مشکوک منتقلی کے معاملے میں مرکزی ملزم عمران خان اور ان کے معاون خصوصی برائے احتساب بیریسٹر شہزاد اکبر ہیں۔

نیب نے موقف معلوم کرنے کیلئے ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض کو بھی نوٹس جاری کیے ہیں۔ انہیں 12؍ اکتوبر کو نیب میں پیش ہونے کیلئے کہا گیا ہے۔ دفتر خارجہ کی جانب سے اس کیس میں برطانوی حکومت سے معاونت کے حصول کیلئے میوچوئل لیگل اسسٹنس بھی حاصل کی جا رہی ہے تاکہ کیس کی تحقیقات کی جا سکیں۔

نیب کی جانب سے عمران کی سابقہ کابینہ کے اراکین کو جاری ہونے والے نوٹسز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مقرر کردہ تاریخ پر پیش ہونے میں ناکامی کی صورت میں آپ کو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ پاکستانی تاریخ کا پہلا اور آخری واقعہ تھا جب وفاقی کابینہ کے اراکین نے اندھے، گونگے اور بہرے بن کر کر ایک ایسے فیصلے کی منظوری دے دی جس کے بارے میں انہیں پتہ ہی نہیں تھا۔ اس کابینہ اجلاس کے منٹس میں لکھا گیا کہ فیصلے کی رازداری کو یقینی بنانے کیلئے کابینہ نے کابینہ سیکریٹری کو ہدایت کی ہے کہ ضرورت پڑنے پر سربمہر نوٹ کھول کر عدالت میں پیش کر سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی نے 190؍ ملین پاؤنڈز پاکستان منتقل کیے تھے لیکن عمران خان کے حکم پر یہ رقم اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں ڈالنے کی بجائے سپریم کورٹ کے نیشنل بینک کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دی گئی تاکہ ملک ریاض پر ایک اور کیس میں عدالت کی جانب سے عائد کردہ جرمانہ ادا کیا جا سکے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق میسرز بحریہ ٹاؤن پرائیوٹ لمیٹڈ کے ملک ریاض نے سپریم کورٹ میں 460؍ ارب روپے جمع کرانا تھے۔ نیب نے عمران حکومت کے اس فیصلے کو 3؍ دسمبر 2019ء سے قبل القادر ٹرسٹ کے قیام کے ساتھ جوڑا ہے جسے ملک ریاض نے اربوں روپے مالیت کی 458؍ کنال قیمتی زمین الاٹ کی تھی۔

Back to top button