ملک سے بھاگنے پر مجبور بلاگرز باہر بھی غیر محفوظ کیوں ہیں؟

پانچ سال پہلے خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے چار پاکستانی بلاگرز اپنی زندگی کو لاحق خطرات کے پیش نظر پاکستان چھوڑ کر بیرون ملک تو چلے گے تھے لیکن انکا کہنا ہے کہ جو لوگ ان کے پیچھے لگے تھے، وہ آج بھی انہیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اوروہ بیرون ملک بھی ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
یاد رہے کہ 2017 کا آغاز وسطیٰ پنجاب سے چار بلاگرز کی گمشدگی کی خبر سے ہوا تھا۔ اس واقعے نے لاپتا افراد کے معاملے کو خبروں کی زینت بنایا اور اس پر باقاعدہ طور پر عوامی احتجاج کے ساتھ ساتھ سوالات اٹھنے لگے، بات چیت اور تجزیے ہونے لگے تھے۔ وسطی پنجاب سے لاپتہ ہونے والے پاکستانی بلاگرز کے لیے ہونے والے احتجاج کے دوران خفیہ اداروں کا نام سُننے کو ملا مگر اس دوران فوج کے شعبہ تعلقات عامہ اور انٹیلیجنس ذرائع نے متعدد مرتبہ اس تمام تر معاملے سے اظہار لاتعلقی کیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے اُس وقت کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اس حوالے سے 31 جنوری 2017 کو ایک پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ پاکستانی فوج کا بلاگرز کی گمشدگی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
تاہم اِن بلاگرز پر بعد ازاں توہینِ مذہب کا الزام لگایا گیا اور پتہ چلا کہ وہ ایجنسیوں کی حراست میں تھے۔ عدالتوں سے ضمانت حاصل کرنے کے بعد بعد ان تمام افراد کو جان کے خطرے کے پیش نظر پاکستان چھوڑنا پڑا تھا۔ یاد رہے کہ اسلام آباد کی ہائی کورٹ میں سلمان حیدر، احمد وقاص گورایہ، عاصم سعید، احمد رضا نصیر اور ثمر عباس کے خلاف درخواست دی گئی تھی جس میں اُن پر فیس بک اور ٹوئٹر پر ایسے صفحات چلانے کا الزام لگایا گیا تھا جس پر مبینہ طور پر توہین آمیز مواد شائع کیا گیا تھا۔ تاہم وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے اس مقدمے کی کارروائی کے دوران دسمبر 2017 میں عدالت کو بتایا گیا تھا کہ جن بلاگرز پر سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد شائع کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے ان کے خلاف کسی ایسے اقدام کے شواہد نہیں ملے تھے۔
بی بی سی نے ان بلاگرز سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ انھوں نے کب فیصلہ کیا کہ رہائی کے بعد انھیں پاکستان سے چلے جانا چاہیے اور اب ان کی زندگیاں کس ڈگر پر چل رہی ہیں؟ بلاگر سلمان حیدر اس سے پہلے اسلام آباد کی فاطمہ جناح یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے اور اس وقت اُن کی شہرت پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکن کی تھی۔ سلمان حیدر نے بتایا کہ پاکستان سے جانے کا فیصلہ اُن کے لیے آسان نہیں تھا کیونکہ یہ ایسا فیصلہ تھا جو انھیں باامر مجبوری کرنا پڑا۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں توہینِ مذہب کا جھوٹا الزام بھی ایک ایسی چیز ہوتی ہے کہ اگر آپ کی ذاتی طور پر کسی سے لڑائی ہو یا یونیورسٹی میں ساتھیوں کے درمیان حسد کا معاملہ ہو، تو یہ تلوار آپ کے سر پر لٹک رہی ہوتی ہے۔ کوئی بھی فرد کسی بھی وقت آپ کی گردن پر یہ تلوار رکھ سکتا ہے۔ میرے لیے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا کہ میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پاکستان سے نکلوں، لیکن خطرہ بہت تھا اس لیے میں نے طے کیا کہ بہتر یہی ہے کہ میں پاکستان سے نکل جاؤں۔
بلاگر وقاص گورایہ نے بتایا کہ ان کو غیر قانونی حراست سے چھوٹنے کے بعد گھر آ کر پتا چلا کہ انھیں اگلے دس منٹ میں اپنا سامان سمیٹنا ہے اور ملک چھوڑنا ہے۔ میں نے سب سے پہلے اپنے ابو کو فون کیا تھا، کہ مجھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ ابو نے کہا کہ گھر مت آنا، یہاں حالات بہت خراب ہیں۔ میں صرف امی اور ابو سے ملنے گیا اور دس منٹ کے اندر اندر گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ مجھے کہا گیا کہ لوگ آپ کا چہرہ نہ پہچان لیں، تو گھر آنے کے بعد 24 گھنٹے صرف جان بچانے کے لیے محفوظ جگہ پر پہنچنے میں گزر گئے۔
اسی طرح بلاگر عاصم سعید جب رہائی کے بعد گھر پہنچے تو اُن کو اس وقت یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان تمام بلاگرز پر توہینِ مذہب کا الزام لگ چکا ہے۔ عاصم نے بتایا کہ وہ چھوٹنے کے بعد سب سے پہلے اپنی داڑھی اور بال کٹوانا چاہتے تھے۔ لیکن گھر والوں نے انھیں ایسا کرنے سے روک دیا۔ عاصم کے بقول میرے والدین انتہائی پریشان تھے، انھوں نے مجھے کہا کہ آہستہ بات کرو کوئی سُن نہ لے۔ میں نے پوچھا کہ پہلے مجھے یہ تو بتائیں کہ میں نے کیا کیا ہے؟ ان تمام افراد نے بتایا کہ اس واقعے کا اُن پر اور ان کے خاندان والوں پر کافی گہرا اثر پڑا۔ ان تمام بلاگرز نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے کا اور پھر پاکستان چھوڑنے کا اُن پر اور اُن کے خاندان پر کافی گہرا اثر پڑا ہے۔ سلمان حیدر نے بتایا کہ پاکستان سے جانے کے بعد ان میں پوسٹ ٹرامیٹک ایپلپسی کی تشخیص ہوئی، جو بنیادی طور پر سر پر لگنے والی کسی چوٹ کی وجہ سے تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’اور سر میں چوٹ لگنے کی وجہ شدید تشدد تھا جو دورانِ حراست مجھ پر کیا گیا تھا۔ اسی طرح مجھے منھ پر مکے اور تھپڑ لگنے کی وجہ سے اپنے دانت نکلوانے پڑے اور دوبارہ نئے دانت لگوانے پڑے۔اگرچہ پاکستان میں عام تاثر یہی ہے کہ یہاں سے بیرونِ ملک جانے والے افراد کے معاملات بہتر ہو جاتے ہیں اور پھر وہ خطرہ نہیں رہتا جس کے ڈر سے آپ وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیے جاتے ہیں لیکن وقاص اور ان سمیت دیگر بلاگرز کے کیس میں ملک سے باہر جانے کے بعد آزمائشوں میں اضافہ زیادہ ہوتا چلا گیا۔ فروری 2020 میں احمد وقاص گورایہ پر نیدرلینڈز میں ان کے گھر کے سامنے حملہ کیا گیا۔ پھر 28 جون 2021 کو لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے انسدادِ دہشتگردی یونٹ نے ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری کو گورایہ کو ’قتل کرنے کا منصوبہ بنانے‘ کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ جس کا ٹرائل شروع ہونے والا ہے۔ ان واقعات کے رونما ہوتے ہی پاکستان سے مختلف ممالک میں پناہ لینے والے افراد میں بھی خوف بڑھ گیا۔ اور سوال اٹھنے لگے کہ کیا بیرونِ ملک پاکستانی ان ممالک میں محفوظ ہیں؟ وقاص گورائیہ نے کہا کہ پاکستان چھوڑنے کے ایک سال بعد تک انھیں ایسا لگتا تھا کہ وہ محفوظ ہیں لیکن اب ایسا نہیں لگتا اور یورپ میں بھی میری جان کو خطرہ ہے۔ سلمان حیدر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ’ظاہر ہے کہ یہ ہمارے لیے بھی پیغام تھا کہ واضح خطرہ ہے۔ جو لوگ اس سارے عمل کے پیچھے تھے، وہ آج بھی نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
ان واقعات کے پسِ منظر میں یہ تمام بلاگرز اپنے مستقبل کے بارے میں انتہائی فکرمند نظر آتے ہیں۔ عاصم نے کہا کہ پاکستان تو اب میں نہیں آ سکوں گا اور اس بات کا اندازہ مجھے اسی دن ہو گیا تھا جب میں گھر واپس لوٹا تھا لہٰذا اب میں کہیں دور جانا چاہتا ہوں۔ جبکہ وقاص گورائیہ کا کہنا ہے کہ میری جان کو اب بھی خطرات لاحق ہیں۔ سچ پوچھیں تو مجھے یہ نہیں پتا کہ یہ انٹرویو شائع ہونے تک میں زندہ بچوں گا یا نہیں۔ سلمان حیدر کہتے ہیں کہ وہ پاکستان آنا چاہیں گے اور اُن کا پاکستان آنے کا ارادہ بالکل ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ جس نہج پر پاکستان میں معاملات چل رہے ہیں اس میں ظاہر ہے کہ اُن کے ایسا کرنے کے امکانات کم ہیں۔
