ملک میں دوسالہ نگران حکومت کا منصوبہ ترک کر دیا گیا؟

سینئر صحافی حذیفہ رحمان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات کرانے کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا ہے۔نگران حکومت کے طویل ہونے کے سارے مفروضے دم توڑ چکے ہیں۔عام انتخابات کی حتمی تاریخ کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے،لیکن قوی امکان ہے کہ جنوری 2024ء کے آخری ہفتے سے فروری کے دوسرے ہفتہ کے درمیان عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جائیگا۔ انتخابات کے بعد نواز شریف کا چوتھی مرتبہ وزیر اعظم  بننا یقینی دکھائی دیتا ہے کیونکہمقتدر حلقے اب کسی قسم کا تجربہ نہیں کرنا چاہتے بلکہ ملک تجربہ کار لوگوں کے حوالے کرکے پانچ سال تک نتائج پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں حذیفہ رحمان کا مزید کہنا ہے کہ عام انتخابات کے بارے میں ادارے کی رائے تقسیم تھی۔ ایک رائے یہ تھی کہ نگران کابینہ کا دورانیہ ڈیڑھ سے دو سال کیا جائے۔ جس میں اسٹیبلشمنٹ کی منتخب کردہ نگران حکومت زبردست کارکردگی دکھائے اور یوں نگران حکومت کی بہتر کارکردگی کا کریڈٹ وہ لے سکے۔ اس طرح عوام کی اکثریت جو اس وقت مہنگائی اور بدا نتظامی سے نالاں ہے۔ جب نگران حکومت مہنگائی کو کم کرے گی تو عوام میں اسٹیبلشمنٹ کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا۔ یہ رائے رکھنے والوں کا یہ بھی خیال تھاکہ اسٹیبلشمنٹ تحریک انصاف کیساتھ ساتھ مسلم لیگ ن اور پی پی پی کے بھی کچھ وزراء کیخلاف احتساب کی کارروائی کرے ،تاکہ عوام میں تحریک انصاف کیخلاف یکطرفہ کارروائی کا تاثر زائل ہوسکے۔ جب عمران خان اور تحریک انصاف کے درجنوں ممبران کیخلاف نیب کیسزدرج ہونگے اور ساتھ ساتھ ایک ،دو مسلم لیگ ن اور پی پی پی کے وزراء کیخلاف بھی کارروائیاں ہوتی نظر آئینگی تو اس سے عمومی تاثر جائیگا کہ بلاامتیاز احتساب کیا جارہا ہے۔ اس طرح عمران خان کی خاطراسٹیبلشمنٹ نے گزشتہ پانچ سال کے دوران جیسے اپنی ساکھ داؤ پر لگائی ہے، نگران حکومت کی دو سالہ مدت سے وہ بحال ہو جائیگی۔ جبکہ اسٹیبلشمنٹ کی طاقتور ترین شخصیات کی رائے قدرے مختلف تھی۔ وہ روز اول سے یہ سمجھتی ہیں کہ موجودہ معاشی مسائل کا حل جلدازجلد فوری عام انتخابات میں ہے۔ اور عام انتخابات کے نتیجے میں بھی ایسی حکومت معرض وجود میں آئے جو اپنی اتحادی جماعت کی بیساکھیوں پر نہ کھڑی ہو۔بلکہ پوری دنیا کو یہ پیغام جائے کہ ہم جس حکومت سے بات کر رہے ہیں ،وہ سیاسی حوالے سے مستحکم ہے اور پانچ سال کا مینڈیٹ لیکر آئی ہے۔

اس لئے پاکستان سے ٹھوس بنیادوں پر بات کی جاسکتی ہے۔ حذیفہ رحمان کا مزید کہنا ہے کہ آج اسٹیبلشمنٹ کے فیصلہ سازوں نے حتمی فیصلہ کرلیا ہے کہ عام انتخابات میں آئینی گنجائش سے ہٹ کر ایک دن کی بھی تاخیر نہ کی جائے۔ اس لئے عام انتخابات کا انعقاد ہونے جارہا ہے۔جبکہ ان انتخابات کے نتیجے میں پاکستان میں ایک مستحکم اور بیساکھیوں کے بغیر حکومت وجود میں آئیگی۔ شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کی اکثریت کی پسندیدہ چوائس ہیں۔لیکن شہباز شریف خود چاہتے ہیں کہ وہ میاں نوازشریف کو چوتھی مرتبہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر بٹھائیں اور وہ اپنے سفر کا وہیں سے آغاز کریں ،جہاں سےیہ جولائی 2017ء میں اختتام پذیر ہوا تھا۔ شہباز شریف کی ہر ممکن کوشش اور منصوبہ بندی ہے کہ میاں نوازشریف کو ایک مستحکم پارلیمنٹ کا قائد ایوان منتخب کرایا جائے۔حالات بتارہے ہیں کہ شہباز شریف اپنی اس کوشش میں کامیاب ہو جائیں گے۔ حذیفہ رحمان کا مزید کہنا ہے کہ نواز شریف کی اکتوبر میں واپسی کا فیصلہ حتمی ہے۔ پاکستان عام انتخابات کی طر ف جارہا ہے۔ میاں نوازشریف عام انتخابات کے نتائج کے بعد ایک مستحکم حکومت سنبھالیں گے۔ ایک ایسی حکومت جسے اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کا اعتماد حاصل ہوگا۔ کیونکہ یہ طے ہے کہ جب تک تمام ادارے منتخب حکومت کے پیچھے کھڑے ہونے کا تاثر نہیں دینگے، تب تک نہ ہی عوام کا اعتماد بحال ہوگا اور نہ ہی سیاسی استحکام قائم ہوگا۔ بیرونی سرمایہ کاری لانے کیلئے اشد ضروری ہے کہ دنیا کو یہ پیغام جائے کہ جس وزیراعظم سے وہ بات کررہے ہیں، اس کو آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔

حذیفہ رحمان کا مزید کہنا ہے کہ فروری 2024ء کے بعد وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان نے ایک ٹرائیکا کی طرح کام کرنا ہے۔پاکستان کو 2017ء سے ری اسٹارٹ کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ عدلیہ سمیت جس جس ادارے نے ماضی میں غلطیاں کی ہیں، آنے والے چند ماہ میں وہ ادارہ خود ان غلطیوں کا مداوا کریگا۔ اکتوبر میں وطن واپس آنیوالے نوازشریف بھی ماضی کے مقابلے میں ایک مختلف نوازشریف ہونگے۔ نوازشریف سب کچھ بھولنا چاہتے ہیں۔ جو کچھ انکے ساتھ2017ء کے بعد ہوا وہ ان تلخ یادوں کو کسی صورت دہرانا نہیں چاہتے۔ بیگم اور والدہ کی وفات سمیت تمام زیادتیوں کو بالائے طاق رکھ کر نواز شریف پاکستان کو دوبارہ ٹریک پر لانے کیلئے پاکستان آرہے ہیں۔ وہ اس حوالے سے بہت تفصیلی ہوم ورک مکمل کر چکے ہیں۔ وزیراعظم منتخب ہوکر کس کس ملک سے سرمایہ کاری لانی ہے اور غریب آدمی کو کیسے ریلیف دینا ہےان کی اس حوالے سے مکمل تیاری ہے۔ عام انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے وہ پنجاب کے ہر ،ہر ضلع میں جاکر خود جلسے کرینگے اور عمران پروجیکٹ کے ذمہ داران کا عوام کے سامنے پردہ چاک کرینگے۔ حذیفہ رحمان کے مطابق نواز شریف کی اولین ترجیح غریب آدمی کو ریلیف دینے کے حوالے سے ایک روڈ میپ دینا ہے۔ حالات و واقعات بتارہے ہیں کہ وہ چوتھی مرتبہ وزیراعظم بننے میں کامیاب ہو جائینگے۔ مسلم لیگ ن پنجاب اور مرکز میں اپنی حکومت بنائے گی اور 2017ء سے ری اسٹارٹ کرکے پاکستان نوازشریف کے حوالے کیا جائے گا۔

Back to top button