ملک میں کرونا وائرس حکومتی نااہلی اورغفلت کی وجہ سے پھیلا

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جب کرونا پیک پر ہے تو لاک ڈاؤن ختم کردیا گیا، حکومتی غفلت اورگومگوں کی کیفیت سے کرونا کے پھیلاؤ میں تیزی آئی موجودہ صورتحال پہلے 2 ماہ کی حکومتی غفلت کا نتیجہ ہے.وزیر خارجہ کو آج سندھ کارڈ والا بیان نہیں دینا چاہیے تھا، اٹھارویں ترمیم حل شدہ معاملہ اس کو مت چھیڑیں۔
کورونا صورتحال پر بلائے گئے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ شاہ محمود قریشی نے (ن) لیگ کے حوالے سے 10 سال حکومت کی بات کی، پنجاب میں اب تک جتنے کورونا کیسز ٹیسٹ کئے گئے، وہ سارے کے سارے ادارے (ن) لیگ نے قائم کئے، جنوبی پنجاب میں ہم نے 7 ادارے قائم کئے، جناح ہسپتال سے لے کر طیب اردوغان ہسپتال تک ہمارے دور حکومت میں قائم ہوئے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ہماری تیاری تھی، اب حکومت بتائے کہ 7 سال میں خیبر پختونخوا میں آپ نے کون سی تیاری کی؟ اب تک کورونا وائرس سے بچاؤ کا کوئی پلان ہمارے پاس نہیں، اب بھارت سے بھی اربوں روپے کی دوا منگوائی گئی ہے۔
لیگی رہنما نے کہا کہ یہ لمبی جنگ ہے لیکن اس کے آغاز میں ہی ہمارے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے ہیں۔ معیشت میں پہلے ہی ایمونٹی نہیں تھی کہ نئی بیماری لگے۔ غیب کا علم اللہ کے پاس، پتا نہیں کورونا معیشت کا کیا حال کرے گا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کرائسز کی آڑ میں دوسری جانب نیب اور ایف آئی اے سے اپوزیشن کو گرفتار کرایا جا رہا ہے۔ کہتے ہیں قومی سوچ پیدا کرنی ہے، کیا یہ ہے قومی سوچ؟ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف بہادری کے ساتھ جنگ لڑ رہے ہیں، میں انھیں قوم کی طرف سے سلام پیش کرتا ہوں، وہ ہمارے فرنٹ لائن سولجر ہیں لیکن کیا ہم نے موثر طریقے سے جنگ لڑنے کے لیے انھیں ہتھیار فراہم کیے؟ آج بھی کئی ڈاکٹرز کے پاس حفاظتی سامان نہیں ہے۔
خواجہ آصف نے مطالبہ کیا کہ تفتان سے لے کر پورے پاکستان کے قرنطینہ سینٹرز میں سہولیات چیک کرنے کے لیے ایوان کی کمیٹی بنائی جائے۔اٹھارویں ترامیم معاملے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اللہ کرے، اس اجلاس کے بعد حکومت کو ہوش آئے۔ یہ معاملہ ناکامی، نااہلی اور غیر سنجیدگی کا ہے۔ حکمران اٹھارویں ترامیم کا بحران پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اٹھارویں ترامیم 2010ء میں پاس ہوئی جس کے ذریعے صوبائی خود مختاری کا معاملہ حل کیا گیا، یہ حل شدہ معاملہ، اس کو مت چھیڑیں۔ اتفاق رائے سے تو معاملہ کھولا جا سکتا ہے لیکن ایسی نیت سے نہیں، اگر آئین میں کوئی مسئلہ ہے تو سی سی آئی میٹنگ میں اٹھایا جاتا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا کی پیک کے وقت لاک ڈاؤن ختم کردیا گیا، وزیراعظم نے بھی کہا کہ مئی میں وباء کی شدت ہوگی، موجودہ صورتحال حکومت کی 2 ماہ کی غفلت کا نتیجہ ہے، حکومت نے ہرموقعے پر گومگوں کی کیفیت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف طبی معالجین کی تجویز پر اجلاس میں شریک نہیں ہوئے، پاکستان میں جیسے کورونا کی وباء بڑھتی گئی، ہم مزید نرمی کرتے چلے گئے، جب وزیراعظم نے کہا کہ مئی میں یہ وباء شدت اختیار کرے گی ، لیکن جب مئی آیا تو ہم نے لاک ڈاؤن ختم کردیا، یہ گومگوں کی پالیسی اپنائی گئی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ڈاکٹر ظفرمرزا نے بتایا کہ پاکستان میں 78 فیصد کیسز تفتان سے آئے، 17 فیصد دوسرے ممالک سے اور 5 فیصد مقامی کیسز ہیں، جہاں بھی امیگریشن ہوتی ہے ، وہاں سارا عملہ وفاقی حکومت کا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب یہ 78 فیصد کیسز کا سیلاب آیا تو تب وفاقی ملازمین کہاں تھے؟ پہلی کھیپ 252 لوگوں کی آئی اور اپنے گھروں کو چلے گئے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ آج ہم حکومت کی 2اڑھائی مہینے کی غفلت کے باعث کھڑے ہیں، اگر ہم لاک ڈاؤن برقرار رکھتے تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ممالک لاک ڈاؤن کھول رہے ہیں وہاں کورونا کی پیک کا گراف نیچے آرہا ہے، لہذا حکومت کی یہ وضاحت اطمینان بخش نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرخارجہ نے کہا ہمارے پاس 20 ہزار سے زیادہ ٹیسٹنگ صلاحیت ہے، جبکہ کمیٹی نے بتایا کہ ہم 15روز میں 50 ہزار یومیہ ٹیسٹنگ کریں گے، لیکن آج پندرہ دن بعد بھی بیس ہزار کررہے ہیں۔ سارا پاکستان کہہ رہا ہے کہ اعدادوشمار کو چھپایا جا رہا ہے، ہر ہیلتھ سیکٹر کا ریگولیٹر ہوتا ہے لیکن صحت کے ریگولیٹر پر پابندی عائد ہے۔
