ملک چلانا ٹیم چلانے سے بہت مشکل ہے، کپتان کا اعتراف

وزیر اعظم عمران خان نے بالآخر اس بات کا اعتراف کر لیا کہ ملک چلانا ایک کرکٹ ٹیم کی قیادت کرنے سے بہت مختلف اور مشکل کام ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف کپتان نے لیہ شہر میں 15 ارب روپے کے احساس آمدن پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ عمران خان نے کہا کہ ’کرکٹ کھیلنے اور ملک چلانے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔‘
وزیراعظم نے ویسے تو تقریب میں اور بھی بہت کچھ کہا لیکن کرکٹ اور ملک چلانے کے فرق کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ان کا اعتراف سوشل میڈیا صارفین کی والز اور ٹائم لائنز پر سب سے زیادہ مقبول دکھائی دیا۔ وزیراعظم عمران خان کے کرکٹ اور ملک چلانے کے فرق کو تسلیم کرنے سے متعلق سوشل میڈیا نے تبصروں کے انبار لگا دئیے۔
جمال عبداللہ عثمان نامی صارف نے وزیراعظم کے بیان کے جواب میں لکھا ’سر یہی بات ہم لوگ کئی سالوں کہتے رہے، مگر اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں آپ کی اناء آڑے آ جاتی تھی تاہم اچھا ہوا آپ نے بالآخر اس حقیقت کو تسلیم کر لیا۔ دیر آید درست اید۔ آپ کو احساس تو ہوگیا‘۔
تاہم یہ نا ممکن ہے کہ وزیر اعظم کے بیانات کا ذکر ہو اور سوشل میڈیا صارفین عمران خان کے سابقہ بیانات کو یاد نہ کریں۔ کپتان کے تازہ بیان کے بعد کسی نے نرسیں حور دکھائی دینے والے ٹیکے کو یاد کیا، تو کوئی جاپان و جرمنی کی سرحدوں اور خلیل جبران کے اقوام کو یاد کرتا نظر آیا کسی نے درختوں کے رات کے وقت آکسیجن خارج کرنے کا تذکرہ کیا تو کسی نے ترکی کی برصغیر پاک و ہند پر 600 سال حکومت کا بیان یاد کیا۔ جبکہ ایمن بتول نامی صارف نے اس بیان پر تاخیر کا شکوہ کر ڈالا اور لکھا ’بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے۔‘

کپتان کے بعض سیاسی مخالفین نے انہیں سابق وزیراعظم نواز شریف کا وہ بیان بھی یاد کروایا جس میں انہوں نے کہا تھا ’ملک چلانا تمہارا کام نہیں ہے، جاؤ جا کر کرکٹ کھیلو‘۔


سوشل میڈیا صارفین عمران خان کے یوٹرن یا اعلان کر کے اس سے پھر جانے کے فلسفے کو بھی یاد کرتے رہے۔ کسی نے کہا ’حکومت کو پانچ سال پورے کرنے کا موقع دیا گیا تو حکومت ہی رہ جائے گی عوام ختم ہو جائیں گے‘ تو کوئی مہنگائی اور ملکی معاشی حالات کا ذکر کرتا رہا۔

احساس آمدن پروگرام کے تحت اعلان کردہ منصوبے سوشل میڈیا صارفین کی بحث میں گم ہوتے دکھائی دیے جس پر حکومتی اور حکمراں جماعت کے سوشل میڈیا ہینڈلز نے صارفین کو بتایا کہ وزیراعظم نے کیا مزید اعلانات کیے ہیں۔
حکومتی پروگرام کی تفصیل کے سامنے آنے پر خاصے صارفین حکومتی کوششوں کو سراہتے دکھائی دیے، البتہ کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے وزیراعظم کی جانب سے سے خواتین کو گائیں بکریاں اور مرغیاں فراہم کر کے خود کفیل بنانے کے منصوبے کا مذاق اڑایا۔

وزیراعظم نے لیہ میں تقریب کے دوران نادار افراد کو اثاثہ جات فراہمی کا افتتاح کیا تھا۔ احساس آمدن پروگرام کے تحت نادار افراد کو چنگچی رکشے، زرعی اشیا، پالتو جانور اور کریانہ سٹور سے متعلق سامان فراہم کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے گزر بسر کا انتظام کر سکیں۔ وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ منصوبے کے تحت نادار خواتین کو ایک گائے، ایک بھینس اور تین بکریاں فراہمی کی جائیں گی۔ ہر ماہ 80 ہزار افراد کو سود سے پاک قرض فراہم کیے جائیں گے۔
