ملک کا کوئی پرائیویٹ ہسپتال کرونا کا علاج نہیں کر رہا

پاکستان میں بڑھتے ہوئے کرونا وائرس کا شکار ہونے والوں کو اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ کوئی پرائیویٹ ہسپتال ان کا علاج کرنے کو تیار نہیں اور تمام مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں کی طرف روانہ کیا جارہا ہے۔
کرونا وائرس پھیلنے سے پہلے ملک میں اسپتال بنیادی طور پر دو کیٹگریز میں بٹے ہوئے تھے یعنی سرکاری ہسپتال اور پرائیویٹ۔ جن لوگوں کے پاس وسائل کی کمی ہوتی تھی وہ علاج کے لیے سرکاری اسپتالوں کا رخ کرتے تھے باقی جو افورڈ کرسکتے تھےان کی ترجیح پرائیویٹ اسپتال ہی ہوتی تھی، تاہم اب کرونا کے بعد صورت حال یکسر تبدیل ہوگئی ہے، ملک میں بہت سے کلینک اور چھوٹے اسپتال یا تو بند ہیں یا انہوں نے اپنی سروسز کو محدود کردیا ہے۔
اگر کسی کو کرونا کے علامات ہوں یا تشخیص ہوجائے تو سوائے سرکاری اسپتال کے کسی مریض کو پاکستان میں کوئی بھی پرائیویٹ اسپتال علاج کی سہولیات مہیا نہیں کررہا، مریضوں کو فوری طور سرکاری اسپتال رجوع کرنے کا کہہ دیا جاتاہے۔
پاکستان کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں کرونا کے حوالے سے پیچیدگی پیدا ہونے پر مریضوں کو سرکاری اسپتالوں کے آئسولیشن وارڈز میں رکھا جا رہا ہے جس کی وجہ ایک تو اس مرض کے حوالے سے سرکاری نگرانی ہے اور دوسری یہ کہ پرائیویٹ اسپتال عام طور پر ایسے مریضوں کو اپنے ہاں رکھنے سے بھی گریزاں ہیں۔
کراچی کے آغا خان اسپتال کے علاوہ ملک بھر کے پرائیویٹ اسپتال ان مریضوں کو بھی نہیں قبول کر رہے جو اپنے خرچے یا اپنی کمپنی کے خرچے سے کورونا کی کسی پیچیدگی جیسے سانس کی تکلیف وغیرہ کا علاج کروانا چاہیں۔
اسلام آباد کے سب سے بڑے اور مشہور پرائیویٹ اسپتال میں تو استقبالیہ پر ہی بورڈ لگا ہوا ہے کہ کرونا کے مریض پمز سے رابطہ کریں۔ اسپتال کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہاں پر ٹیسٹنگ کی سہولیات موجود نہیں ہیں اور یہ سہولیات گورنمنٹ کے پاس ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی جگہ پر مریض ٓاتا ہے پروٹوکول کے تحت دیکھا جاتا ہے اور اسکریننگ کےلیے پمز کی طرف بھیجا جاتا ہے۔ یہی حال اسلام آباد کے تمام پرائیویٹ اسپتالوں کا ہے۔
اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی پالیسی کے مطابق کرونا کے مریضوں کو وزارت صحت کے زیر نگرانی پمز، پولی کلینک اور این آئی ایچ کے اسپتالوں میں ہی علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تشویشناک حالت کے شکار مریض فی الحال صرف پمز میں ہی رکھے جا رہے ہیں جبکہ جن مریضوں کی حالت تشویشناک نہ ہو وہ گھروں میں ہی قرنطینہ کیے جا رہے ہیں۔ڈی سی اسلام آباد کے مطابق پرائیویٹ اسپتالوں نے بھی حکومت کو سو اضافی بیڈز دینے کی آفر کر رکھی ہے۔
لاہور کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر صفدر ورک کا کہنا ہے کہ لاہور میں کرونا کے مریضوں کومیو اسپتال، سروسز اسپتال اور دیگر سرکاری اسپتالوں میں ہی رکھا گیا ہے تاکہ ان کو حکومتی نگرانی میں رکھا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کی گنجائش موجود ہے تاہم اگر گنجائش ختم ہو گئی تو پھر انہیں پرائیویٹ اسپتالوں میں بھی شفٹ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ اسپتالوں کو کورونا کے مریضوں کے علاج پر مجبور کرنے کے لیے کوئی قانون موجود نہیں ہے تاہم حکومت نے ان کی ایسوسی ایشن سے بات کر رکھی ہے۔
خیبر پختونخواہ کی وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں ہی کورونا کے مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ اس وقت تک سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے ایک ہزار سے زائد مریضوں کو رکھنے کی گنجائش موجود ہے تاہم حکومت نے پرائیویٹ اسپتالوں کی نمائندہ تنظیم سے بات کر رکھی ہے جس کے تحت ضرورت پڑنے پر صوبے بھر میں پرائیویٹ اسپتال ساڑھے پانچ سو بیڈز فراہم کریں گے۔
کوئٹہ میں ابھی تک کورونا کے مریضوں کو صرف سرکاری اسپتالوں میں ہی علاج فراہم کیا جا رہا ہے تاہم پرائیویٹ اسپتالوں کے ساتھ صوبائی حکومت نے بات کر کے انہیں اس بات پر آمادہ کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ کورونا کے مریضوں کے لیے بیڈز فراہم کریں گے۔
کراچی پاکستان کا واحد شہر ہے جہاں پرائیویٹ آغا خان اسپتال نے شروع شروع میں کرونا کے مریضوں کی دیکھ بھال کی تاہم اب آغا خان کے کچھ ڈاکٹروں میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد اس اسپتال نے مزید مریض لینے اور انکے ٹیسٹ کرنے کا عمل فی الحال روک دیا ہے۔
کراچی میں جن اسپتالوں میں کورونا وائرس کا علاج کیا جا رہا ہے ان میں آغا خان اسپتال، انڈس اسپتال، جناح اسپتال، ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس، اور سول اسپتال شامل ہیں جبکہ اس کے علاوہ ضیاء الدین اسپتال، پی این ایس شفاء، ایس آئی یو ٹی اور چغتائی لیبارٹری میں ٹیسٹنگ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔
