ملک کےکاروباری شعبہ کا مستقبل روشن ہے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے سی ای او کلب اور منیجمنٹ ہاؤس کی جانب سے منعقدہ ‘سی ای او سمٹ ایشیا 2020’ سے خطاب میں کہا ہے کہ معاشی عدم استحکام کا بدترین دور اب ختم ہوچکا ہے اور ملک کےکاروباری شعبہ کا مستقبل روشن ہے۔
ترقی کے حوالےسے ان کا کہنا تھا کہ سیمنٹ کی فروخت، مشینری کی درآمد اور بڑے پیمانے پر مینوفکچرنگ کے جنوری کے اعداد و شمار تبدیلی کی ابتدائی علامتیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ‘ہم یہ اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے بدترین (وقت) کو پیچھے چھوڑ دیا’۔
اسٹیٹ بینک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملک کے کاروباروں کا آپ کے سامنے بہت روشن مستقبل ہے تاہم انہوں نے نجی شعبے میں ترقی کے لیے پبلک سیکٹر میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اقتصادی ترقی کو بڑھانے کےلیے اسٹیٹ بینک چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی ترقی کی متحرک طریقے سے حمایت کر رہا ہے۔
ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایس ایم ایز بینکوں سے مالی معاونت حاصل کرنے کے اہل ہوں ساتھ ہی ملک کے ایوان صنعت و تجارت پر زور دیا کہ وہ چھوٹے اور درمیانے طبقے کے شعبوں میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے اس بات کی طرف نشاندہی کی کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ملک کی برآمدات میں 4.5 فیصد ترقی بڑھتی ہوئی معاشی پیداوار کی طرف اشارہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی عرصے کے دوران بھارت کی برآمدات 2.5کم، تھائی لینڈ 2.5 فیصد، سری لنکا 3.6 فیصد، انڈونیشیا 5 فیصد، ملائیشیا 6 فیصد اور بنگلہ دیش 7 فیصد کم ہوئی۔
بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے کے مختلف ممالک میں کمی کے رجحان کے برعکس پاکستان نے حال ہی میں اپنی برآمدات میں اضافہ کیا۔
علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ مرکزی بینک تجارت کے لیے الیکٹرانک اور ڈیجیٹل منی پر کام کر رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button