ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشیں،کئی دیہات زیر آب

سندھ اور بلوچستان میں ہونے والی موسلادھار بارشوں نے تباہی مچادی جس کے باعث سیکڑوں دیہات زیر آب آگئے ہیں۔
بلوچستان میں مون سون کی بارشوں نے تباہی مچادی ہے، مستونگ، قلات، نوشکی، جھل مگسی، مچھ اور بولان میں نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں جب کہ کئی اضلاع کے ندی نالوں میں طغیانی کا سامنا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق ڈیرہ بگٹی میں 2، دالبندین میں ایک بچی، کوہلو، سوئی اور اوستہ محمد میں ایک ایک شخص سیلابی ریلے میں ڈوب کر جاں بحق ہوگئے۔بولان سبی شاہراہ کو سیلابی ریلے کے باعث بند کردیا گیا ہے تاہم این ایچ اے کے مطابق مکران کوسٹل ہائی وے کو تمام قسم کی ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا ہے، سیلابی ریلے کے باعث درجنوں جانور بہہ گئے ہیں جب کہ پانی میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔انتظامیہ نے بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کردی ہے جب کہ پی ڈی ایم اے نے متاثرہ علاقوں کے لئے امدادی سامان روانہ کردیا ہے۔
دوسری جانب نئی گاج ڈیم کا بند ٹوٹنے سے ضلع دادو، جھل مگسی میں سیلابی صورتحال ہے اور تحصیل جوہی کا بڑا رقبہ زیرآب آگیا ہے، 100 سے زائد دیہات میں ہر طرف پانی ہی پانی ہے جب کہ ہزاروں افراد برساتی ریلے میں پھنس گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے تحصیل جوہی اور کاچھو کے سیلابی علاقوں کا فضائی جائزہ لیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ سیلابی پانی سے تحصیل جوہی کی 8 یوسیز متاثر ہوئیں تاہم ہم عوام کے ساتھ ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق دادو اور جھل مگسی کے کئی علاقوں میں پاک فوج کا ریلیف و ریسکیو آپریشن جاری ہے، پاک فوج اور بحریہ کی امدادی، طبی اور انجینیئرنگ ٹیمیں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے سول انتظامیہ کی مدد کر رہی ہیں جب کہ سیلابی پانی میں پھنسے ایک ہزار افراد میں کھانا تقسیم کیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پسی پل ہر قسم کی ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا جب کہ جھل مگایہ وانگو میں پھنسے تمام ہندو خاندانوں کو 8 گھنٹے کے آپریشن کے بعد محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے، این65 بی بی نانی اور پنجرہ پلوں کے قریب سیلابی پانی کے باعث بند ہے جب کہ بی بی نانی پل کے قریب سے مرکزی گیس پائپ پائن بھی ٹوٹ گئی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق کوئٹہ جیکب آباد، گوادر کراچی اور سبی کوہلو شاہرائیں شدید بارش کے باعث مختلف مقامات سے بند ہیں جب کہ پارسی بریج ہر طرح کی ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا ہے اور کوسٹل ہائی وے سے رابطے بحال کردیے گئے ہیں۔
ملک کے مختلف حصوں میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔سندھ کے ضلع دادو میں کیر تھر کے پہاڑی سلسلوں میں بارشوں سے ندی نالے بپھر گئے ہیں۔تحصیل جوہی کے علاقے کاچھو کے پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی آگئی جب کہ کئی دیہات متاثر اور متعدد زیر آب آگئے ہیں۔
2067245 dadu 1596967919 320
سیلاب میں پھنسے افراد کو بچانے کے لیے پاک فوج اور رینجرز کے دستے جوہی پہنچ گئے ہیں، سیلاب میں پھنسے متعدد افراد کو نکال لیا گیا ہے جب کہ دیگر کو نکالنے کا کام جاری ہے۔ڈپٹی کمشنر راجہ شاہ زمان کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور پاک فوج کی جانب سے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ برساتی ریلے میں پھنسے افراد کو کشتیوں کی مدد سے نکالا جا رہا ہے، ابھی تک پھنسے ہوئے 100 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کے لیے سرکاری تعلیمی اداروں کی عمارتوں میں عارضی کیمپ قائم کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب آر ڈی 44 کے مقام پر حفاظتی بند میں پڑنے والے 10 فٹ چوڑے شگاف کو محکمہ انہار کا عملہ پرُ کرنے میں مصروف ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق سیلاب سے دادو کے 12 دیہات متاثر ہوئے ہیں، حالیہ بارشوں اور طوفان کے باعث نئی گاج ڈیم کےحفاظتی پشتےکو نقصان پہنچا اور گاج ڈیم کے حفاظتی بند میں شگاف پڑنے سے قریبی علاقے زیر آب ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی انجینئرز ، آرمی میڈیکل ٹیمیں اور پاک فوج کے جوان موٹر بوٹس کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے ہیں۔
bajra 1596968284
حیدرآباد، تھرپارکر، مٹھی، بدین، نوکوٹ، ٹنڈو محمد خان سمیت سندھ کے مختلف حصوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔
ادھر گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے گاؤں تھور میں موسلا دھار بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے۔تھور گاؤں کا لنک روڈ متعدد مقامات پربند ہوگیا جب کہ کوہستان میں لوٹر کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ قراقرم اور ناران میں شاہراہ بابو سرگیٹی داس کے مقام پر بند ہوگئی ہے، سڑکوں کی بندش سے مسافر اور سیاح پھنس گئے ہیں۔
truck 1596968199
پنجاب کے شہروں رحیم یار خان، چکوال میں تیز بارش ہوئی جبکہ کوہ سلیمان کے پہاڑی سلسلوں میں بارش کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے۔
stoone 1596968196
دوسری طرف بلوچستان کے ضلع بولان میں بارشوں کے باعث آنے والے سیلابی ریلے شکار پور سے کوئٹہ آنے والی 2 گیس پائپ لائنیں بہا کر لے گئے۔ترجمان سوئی سدرن گیس کمپنی کے مطابق ہفتہ کو ضلع بولان کے علاقے بی بی نانی میں سیلابی ریلے سے سوئی گیس کی 24 اور 12 انچ قطر کی 2 پائپ لائنیں بہہ گئیں۔پائپ لائنیں بہہ جانے کی وجہ سے مستونگ، قلات، پشین اور زیارت کو گیس کی سپلائی معطل ہوگئی جب کہ کوئٹہ میں بھی گیس پریشر کم ہو گیا۔ترجمان کے مطابق صورتحال بہتر ہونے پر پائپ لائنوں کی مرمت کا کام شروع کر دیا جائے گا۔
بلوچستان میں سیلابی صورتحال کے باعث محکمہ صحت نے صوبے کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے بتایا کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت صوبے کے تمام ڈویژن اور ضلعی اسپتالوں میں ڈاکٹرز اور طبی اسٹاف کو اپنی اپنی جائے تعیناتیوں پر حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے محکمہ صحت بلوچستان کے تمام پروگرامز ہیڈز ڈویژنل اور ضلعی افسران اور میڈیکل سپرینٹنڈنٹس کو موجودہ صورتحال کے تناظر میں مؤثر اقدامات کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔
پارلیمانی سیکرٹری صحت بلوچستان نے ڈویژنل ڈائریکٹرز، ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران، میڈیکل سپرینٹنڈنٹس اور پروگرامز ہیڈز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی اپنی جائے تعیناتیوں پر حاضری کو یقینی بناتے ہوئے اقدامات کی نگرانی کریں۔
خیال رہے کہ طوفانی بارشوں نے بلوچستان میں تباہی مچادی، مستونگ، خضدار، ہرنائی، نوشکی، لورا لائی، ڈھاڈر میں سیلابی ریلوں میں متعدد مویشی بہہ گئے، کچے گھروں کی دیواریں گر گئیں، کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا جبکہ قومی شاہراہوں پر جگہ جگہ آمدورفت معطل ہوگئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button