ملیر ضمنی انتخاب: سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ زیر حراست

پولیس نے ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما حلیم عادل شیخ کو حراست میں لے لیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے کراچی شرقی کے حلقے پی ایس-88 میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے سلسلے میں نوٹس جاری کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ کو حلقہ بدر کرنے کا حکم دیا تھا۔ ریجنل الیکشن کمشنر سید ندیم حیدر نے ایس پی ملیر کو خط لکھ کر حکم دیا تھا کہ وہ انتخابی عمل کی تکمیل تک منتخب رکن صوبائی اسمبلی کو کراچی شرقی کے حلقے پی ایس-99 سے نکال دے۔ ریجنل الیکشن کمشنر نے کہا تھا کہ ملیر پی ایس -88 میں شفا انتخابات یقینی بنانے کےلیے الیکشن کمیشن کی جانب سے تشکیل کردہ مانیٹرنگ ٹیموں کے مطابق حلیم عادل شیخ حلقے کا دورہ کررہے ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ حلیم عادل شیخ مسلح افراد کے ہمراہ ریلی کی شکل میں حلقے کا دورہ کررہے تھے اور کچھ افراد ووٹرز کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے میں رکاوٹ بن رہے تھے۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ایس-88 میں انتخابات کے دوران کسی بھی جماعت کے سینیٹر، وزرا، اراکین قومی یا صوبائی اسمبلی کو حلقے کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ حلیم عادل شیخ نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی جس کی وجہ سے پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔ حلیم عادل شیخ کے ترجمان ایم اے بلوچ نے تصدیق کی کہ ملیر کے علاقے درسانو چنو سے پولیس نے حلیم عادل شیخ کو حراست میں لے لیا۔ حلیم عادل شیخ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہاں پولیس گردی کی جا رہی ہے، مراد علی شاہ کی پولیس بے ایمانی کرا رہی ہے اور ثابت ہو گیا کہ پولیس کے ذریعے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن کو تحریری خط لکھ کر شکایت کی تھی جس پر الیکشن کمیشن نے انتخابی قواعد و ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی کا نوٹس لیا تھا۔ ادھر تحریک انصاف کی طرف سے پولنگ اور حلقے میں اسلحے کی نمائش پر پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمٰن نے الیکشن کمیشن سے نوٹس کا مطالبہ کیا۔ شیری رحمٰن نے کہا کہ تحریک انصاف رہنما کے مسلح افراد کے ساتھ پولنگ اسٹیشن کے دورے قابل مذمت ہیں اور الیکشن کمیشن علیم عادل شیخ کی طرف سے اسلحے کی نمائش کا نوٹس لے۔ ان کا کہنا تھا کہ حلیم عادل شیخ سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ہیں اور وہ الیکشن پر اثرانداز ہو رہے ہیں، تحریک انصاف کے رہنما اسلحے کے زور پر ووٹرز کو ہراساں کر رہے ہیں۔ شیری رحمٰن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی خاموشی قابل تشویش ہے، الیکشن کمیشن کو شفافیت برقرار رکھتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔ دوسری حلیم عادل شیخ کی جانب سے اسلحے کی نمائش کے معاملے پر پی پی سینٹرل الیکشن سیل نے الیکشن کمیشن کو تحریری شکایات کردی۔ تحریری شکایت میں کہا گیا کہ حلیم عادل شیخ مسلح افراد کے ہمراہ پی ایس 88 میں ووٹرز کو ہراساں کررہے ہیں۔ اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ ووٹروں کو پی ٹی آئی کے افراد ایک دفتر میں لے جا کر ان کی احساس پروگرام کی پرچیاں بھی بنوا رہے ہیں۔ پی پی سینٹرل الیکشن سیل کے سربراہ تاج حیدر نے چیف الیکشن کمشنر سے پی ٹی آئی کے مسلح افراد کو انتخابی حلقے سے باہر کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہ سیٹ گزشتہ سال وزیر برائے انسانی آبادکاری مرتضیٰ بلوچ کے جاں بحق ہونے کی وجہ سے خالی ہوئی تھی جو کورونا وائرس کا شکار ہو کر خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔ اس نشست پر پیپلزپارٹی نے مرتضیٰ بلوچ کے بیٹے کو ٹکٹ دیا ہے جب کہ تحریک انصاف کے امیدوار جان شیر جونیجو ہیں۔ اس نشست کےلیے تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھرپور انتخابی مہم چلائی گئی جس میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سرفہرست رہیں۔ حلقے میں 108 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں جس میں سے 36 کو حساس اور 33 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button