مندر حملہ کیس ، ملزموں کی ایک ہفتے میں شناخت کا حکم

عدالت عظمیٰ نے رحیم یار خان کے مندر میں ہونے والے حملے کے کیس میں ملوث تمام ملزموں کی شناخت کرنے کا حکم دے دیا جبکہ آئندہ سماعت پر متعلقہ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو بھی عدالت طلب کر لیا گیا ہے ۔
چیف جسٹس گلزار احند کی سربارہی میں سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ نے ہندو بچے کو گرفتار کرنے والے ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا۔ عدالت نے گرفتار ملزمان کا ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر کرنے کی بھی ہدایت کردی۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے حکومتی وکیل سے کہا کہ فوٹیج میں ملزمان کے چہرے پہچانے جا سکتے ہیں ، آپ نے نادرا کا خط لکھ دیا ہوگا ، نادرا کی مرضی ہے کہ دو سال بعد جواب دے ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پولیس کا کام خط لکھنا ، پولیس نے کارروائی کرنا ہوتی ہے ، دوران سماعت سپریم کورٹ نے آئی جی پنجاب کو بھونگ کے علاقے میں ڈاکوئوں کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاکستان بنے اتنا عرصہ ہوگیا ہم ڈاکوئوں سے جان نہیں چھڑوا سکے ، اس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کہا کہ کچے کا علاقہ سندھ کے ساتھ بھی لگتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہر طرف سے ملکر کارروائی کریں تو کیسے نہیں کام ہوتا۔ پنجاب حکومت اور آئی جی کچے میں سیکیورٹی یقینی بنائیں۔ سپریم کورٹ نے گاؤں بھونگ میں سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی برقرار رکھنے کی ہدایت کردی۔
