منصوبے کے تحت ملک میں بدامنی پھیلائی گئی،

جنوبی افریقہ کی صدر سیرل رمافوسا کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے سے جاری پرتشدد کارروائیاں اور احتجاج منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے اور ذمہ داران کو گرفتار کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

جنوبی افریقہ میں پرتشدد واقعات میں 212 ہلاک ہو چکے ہیں۔ سیرل رمافوسا نے صوبے کوازولو نیٹل (کے زی این) کا دورہ کیا جہاں ان کا کہنا تھا کہ یہ بات واضح ہے کہ تمام پرتشدد اور لوٹ مار کے واقعات اکسانے پر پیش آئے، کچھ لوگوں نے اس کی منصوبہ بندی اور معاونت کی۔

انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم ذمہ داران کا تعاقب کر رہے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بڑی تعداد میں لوگوں کی شناخت کرلی ہے جبکہ ملک میں انتشار اور تباہی پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

سیرل رمافوسا کے دفتر کی ایک وزیر کھمبوزو شاوہینی نے بعد ازاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات آگے بڑھ چکی ہے، تشدد پر اکسانے والے ملزمان میں سے ایک کی گرفتاری ہو چکی ہے جبکہ 11 کی نگرانی کی جاری ہے۔

پرتشدد واقعات کے دوران کے زی این اور جوہانسبرگ میں واقع شاپنگ مالز اور ویئرہاؤسز میں لوٹ مار کی گئی جس کے بعد پہلے سے معاشی بدحالی کے شکار ملک میں قلت اور تباہی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ہلاک ہونے والے 212 افراد میں سے 180 کا تعلق کے زی این سے ہے، کچھ ہلاکتیں فورسز کی فائرنگ اور لوٹ مار کے باعث ہوئیں۔

کھمبوزو شاوہینی نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں حالات بتدریج اور تیزی سے معمول پر آرہے ہیں۔

واضح رہے جنوبی افریقہ میں بدامنی اور مظاہرے سابق صدر جیکب زوما کو جیل بھیجنے کے بعد شروع ہوئے تھے جنہیں اقتدار کے دوران کرپشن کی تحقیقات میں پیش نہ ہونے کے باعث 15 ماہ کے لیے جیل بھیجا گیا تھا۔

جیکب زوما کا گھر کے زی این صوبے میں واقع ہے، انہیں حکمران جماعت افریقن نیشنل کانگریس (اے این سی) کی حمایت اور تعاون حاصل ہے جس کے اراکین انہیں غریبوں کے لیے چیمپئن بنا کر پیش کرتے ہیں۔

ملک میں پیش آنے والے لوٹ مار کے واقعات میں ڈکیتوں نے اسٹور، فارمیسز اور ایک بلڈ بینک لوٹا، پولیس کے ساتھ کھڑے ہونے پر سامان چھینا گیا لیکن پولیس بے بس نظر آئی۔

Back to top button