منصور شاہ چیف جسٹس بن گئے تو حکومت پریشان کیوں نہیں ہو گی؟

سینئیر صحافی اور تجزیہ کار انصار عباسی نے کہا ہے کہ اگر اتحادی حکومت آئینی ترامیم کا پیکج منظور کروا لیتی ہے اور آئینی عدالت بھی بن جاتی ہے تو پھر عمراندار جج سمجھے جانے والے جسٹس منصور علی شاہ کے چیف جسٹس سپریم کورٹ بننے سے حکومت کو کوئی پریشانی نہیں ہو گی چونکہ تمام سیاسی مقدمات آئینی عدالت کے پاس چلے جائیں گے۔

اپنے تازہ تجزیے میں انصار عباسی کہتے ہیں کہ پی ایم ایل این اور پیپلز پارٹی کی جانب سے مجوذہ آئینی ترامیم کا بنیادی مقصد کسی جج یا ججز کو موجودہ نظام کے لیے خطرہ بننے اور سیاسی عدم استحکام کا باعث بننے سے روکنا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ججز کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کا مقصد موجودہ چیف جسٹس کے تسلسل کو یقینی بنانا تھا، جو جسٹس منصور علی شاہ کی چیف جسٹس کے طور پر تین سال تک ترقی میں تاخیر کر دیتا۔اب زور ایک وفاقی آئینی عدالت کے قیام پر ہے۔ اگر یہ مقصد حاصل ہو گیا تو حکومتی اتحاد یا اسٹیبلشمنٹ میں سے کوئی بھی جسٹس منصور علی شاہ کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر تقرری پر اعتراض نہیں کرے گا۔ آئینی عدالت کے قیام کے بعد سپریم کورٹ کو آئینی اور سیاسی مقدمات سننے کا اختیار نہیں ہوگا اور یہ اختیار آئینی عدالت کے پاس چلا جائے گا۔جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کردہ مخصوص نشستوں کے مقدمے میں سنائے گئے 12 جولائی کے فیصلے کو موجودہ نظام کے لیے خطرہ سمجھا جا رہا ہے، جسے اسٹیبلشمنٹ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حمایت حاصل ہے۔ تینوں سیاسی استحکام چاہتے ہیں اور فکر مند ہیں کہ عدلیہ کی جانب سے کوئی ʼمہم جوئیʼ معیشت کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جو اب کافی بہتری کے آثار دکھا رہی ہے۔

انصار کہتے ہیں کہ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کے فیصلے کے بعد، جو آٹھ ججوں نے جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں فل کورٹ سماعت میں سنایا تھا، پی ٹی آئی اور عمران خان نے شہباز حکومت کے خاتمے کی امید لگائے لی تھی۔ انکا کہنا تھا کہ اکتوبر 2024 کے آخری ہفتے میں نئے چیف جسٹس کی آمد کے بعد پی ٹی آئی حکومت کے قیام کی راہ ہموار یو جائے گی۔ دوسری طرف، مسلم لیگ ن کو تشویش ہونے لگی تھی کہ 8 فروری کے انتخابات کے تنازعات جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بعد سپریم کورٹ پی ٹی آئی کے حق میں چلی جائے گی۔ مخصوص نشستوں کے فیصلے نے طاقت کے مراکز کو بھی پریشان کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے فیصلے کے بعد اعلیٰ عدلیہ میں اصلاحات کے لیے آئینی ترمیم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس اکثریتی فیصلے کے مصنف عمراندار کہلانے والے جسٹس منصور علی شاہ تھے۔

ایجنسیوں نے سفارت کاروں پر حملے کو گنڈاپور کی ناکامی قرار دے دیا

انصار عباسی کہتے ہیں کہ حکومت کی آئینی ترمیمی پیکیج کو پاس کرنے میں حالیہ ناکامی کے بعد ممکنہ طور پر اگلے ہفتے اب دوبارہ کوشش کی جائے گی جس کی کامیابی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت قاضی فائز عیسیٰ آئین کے ارٹیکل 63 اے پر حکومت کی نظر ثانی اپیل کا فیصلہ کرنے جا رہے ہیں۔ اگر یہ فیصلہ حکومت کے حق میں آ جاتا ہے اور فلور کراسنگ کرنے والے کا ووٹ گنا جاتا ہے تو پھر کئی اپوزیشن اور آزاد اراکین کی جانب سے مجوزہ آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ ملنے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔ قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے چیف وہپ طارق فضل چوہدری کے مطابق آئینی ترامیم منظور کروانے کے لیے حکومت کے پاس پلان اے اور پلان بی، دونوں موجود ہیں۔ان کے مطابق پلان اے کے تحت ہدف مولانا فضل الرحمان کی حمایت سے آئینی پیکیج کو منظور کرانا ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو "ہمارے پاس پلان بی موجود ہے،” طارق فضل چوہدری نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کہ پلان بی کیا ہے۔ پہلی کوشش میں ناکامی کے بعد، مسلم لیگ ن نے اب یہ معاملہ پیپلز پارٹی اور اس کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے حوالے کر دیا ہے، تاکہ آئینی پیکج کے لیے زمین ہموار کی جائے جو کہ اب آئینی عدالت پر مرکوز ہے۔بلاول اور پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما اس وقت آئینی عدالت اور عدلیہ میں دیگر اصلاحات کے حق میں ایک بھرپور مہم چلا رہے ہیں۔ بلاول ملک کے مختلف حصوں میں وکلاء کے اداروں سے خطاب کر رہے ہیں۔وہ اصرار کرتے ہیں کہ سب کو وفاقی آئینی عدالت کو قبول کرنا ہوگاجس میں تمام صوبوں کی نمائندگی ہوگی۔ایک حالیہ گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عدالتی نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں اور وہ اس وقت تک آرام نہیں کریں گے جب تک آئینی عدالت قائم نہیں ہو جاتی۔

تاہم حکومتی حلقے دعوی کر رہے ہیں کہ مجوزہ آئینی ترامیم کا پیکج منظور ہونے کا واضح امکان پیدا ہو گیا ہے جس کے بعد انہیں جسٹس منصور علی شاہ کے چیف جسٹس سپریم کورٹ بننے سے کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق یہ امکان بھی موجود ہے کہ آئینی ترامیم کے مجوہ پیکج میں سپریم کورٹ کے کسی ریٹائرڈ جج کو آئینی عدالت کا چیف جسٹس بنانے کی شق ڈالی جائے جس کے نتیجے میں قاضی فائز عیسی اس عدالت کے پہلے چیف جسٹس بن جائیں گے۔

Back to top button