شریف گروپ کے سی ایف او کا 14روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

لاہورکی احتساب عدالت نے شریف گروپ آف کمپنیز کے چیف فنانشل آفیسر محمد عثمان کو 14 دن کے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا ہے. شریف گروپ آف کمپنیز کے چیف فنانشل آفیسر محمد عثمان کی نیب عدالت میں پیشی کے موقع پر نیب حکام نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی، نیب پراسیکیوٹر وراث علی جنجوعہ نے عدالت کو بتایاکہ محمد عثمان کو نیب میں گرفتار ملزمان کے بیانات کی روشنی میں گرفتار کیا گیا.نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ان کی گرفتاری ٹھوس شواہد کی روشنی میں عمل میں لائی گئی، محمد عثمان شریف فیملی کے لئے منی لانڈرنگ کرتے رہے ہیں.
عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیا ملزم کو بتایا گیا کہ اسےکس گراﺅنڈ پر گرفتار کیا گیا؟ نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ملزم کو باقاعدہ گراﺅنڈ آف اریسٹ دے دی گئی تھی‘اس موقع پر ملزم محمد عثمان نے بتایا کہ اسے دوروز قبل گرفتار کیا گیا، تاہم گزشتہ رات گرفتاری کی گراﺅنڈ بتائی گئی ہے. عدالت نےملزم سے استفسار کیا کہ آپ کو کہاں سے گرفتار کیا گیا، ملزم نے بتایا کہ دو روز قبل ملتان جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا،ملزم نے عدالت میں کہا کہ میں بلڈ پریشر کا مریض ہوں، گھر کا کھانا فراہم کیا جائے ملزم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ محمد عثمان چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹ اور قابل انسان ہیں، انہیں سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا ہے. محمد عثمان کے وکیل نے کہا کہ 28 جولائی کو چیئرمین نیب نے منی لانڈرنگ کیس میں خود میڈیا کو پریس ریلیز جاری کرائی، پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ منی لانڈرنگ کا ریفرنس تیار ہے جلد دائر کیا جا رہا ہے، اس کے باوجود یہ گرفتاری سمجھ سے بالاتر ہے.
واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) نے شریف فیملی کے ملازم اور چیف فنانشل افسر (سی ایف او) محمد عثمان کو شریف خاندان کے لیے منی لانڈرنگ کرنے کے الزام میں گزشتہ روزگرفتار کیا تھا‘ نیب نے ملزم محمد عثمان پر تقریباً 7 ارب کی بالواسطہ و بلا واسطہ منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا نیب کے مطابق وہ ملزم کو گزشتہ 8 ماہ سے تلاش کررہی تھی اور خفیہ اطلاع پر نیب کی تفتیشی ٹیم نے ملزم محمد عثمان کو حراست میں لیا.
اس حوالے نیب نے بتایاگیا تھا کہ محمد عثمان 2005 میں شریف گروپ آف کمپنیز کو جوائن کیا اور وہ اس وقت سے شریف فیملی کا سب سے زیادہ قابل اعتماد ملازم ہے‘لاہور نیب نے الزام لگایا کہ ملزم محمد عثمان شہباز شریف فیملی کے کالے دھن کو سفید کرنے میں ملوث تھا اور ملزم کو متعدد کال اپ نوٹسسز ارسال کیے لیکن وہ شامل تفتیش نہ ہوا. انہوں نے کہا کہ محمد عثمان شہباز شریف، سلمان شہباز اور حمزہ شہباز کے لیے منی لانڈرنگ کرتا تھا جبکہ شریف فیملی کے بے نامی دار اور بے نامی کمپنیوں کو بھی دیکھتا تھانیب کے مطابق شریف فیملی کے لیے قاسم قیوم کے ذریعے جعلی ٹرانزیکشن کا مکمل بندوبست ملزم محمد عثمان نے ہی کیا تھا.
انہوں نے کہا کہ دیگر شریک ملزمان محمد طاہر نقوی، مسرور انور، فضل داد عباسی، شعیب قمر اور راشد کرامت نے دوران تفتیش ملزم محمد عثمان کے کلیدی کردار کا اقرار کیا اور بتایا کہ محمد عثمان کی ہدایات پر ہی وہ تمام رقوم کا ہیر پھیر کرتے رہے‘واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے ساتھ ساتھ ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کے خلاف بھی تحقیقات کر رہا ہے اور اس سلسلے میں وہ کئی مرتبہ نیب کے سامنے بھی پیش ہوچکے ہیں.
اسی تحقیقات کی روشنی میں نیب حکام کی درخواست پر ان کا نام بھی ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا جبکہ انہیں ایک مرتبہ بیرون ملک جانے سے بھی روکا گیا تھاتاہم بعد ازاں اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کردیا گیا تھا اور لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی. یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ نیب کی ٹیم حمزہ شہباز کو صرف آمدنی سے زائد اثاثے کے کیس میں نہیں بلکہ مبینہ منی لانڈرنگ میں ثبوت کی بنیاد پر گرفتار کرنے پہنچی تھی اس سارے معاملے پر نیب ذرائع نے بتایا تھا کہ شہباز شریف کے اہل خانہ کی جانب سے اربوں روپے کی مبینہ منی لانڈرنگ کے ثبوت ملنے کا انکشاف ہوا، جس کی بنیاد پر حمزہ اور سلیمان شہباز کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے.
ذرائع نے بتایا تھا کہ نیب کو منظم مبینہ منی لانڈرنگ کی چونکا دینے والی اسکیم کا پتہ چلا، جس کے ذریعے شہباز شریف کے اہل خانہ کے اراکین نے حالیہ برسوں میں غیرقانونی دولت بنائی اور یہ سب اس وقت کیا گیا جب شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے ذرائع نے بتایا تھا کہ نیب کو کرپشن اور منظم مبینہ منی لانڈرنگ کے ذریعے 85 ارب روپے مالیت کے اثاثوں کا پتہ چلا ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملنے والے ثبوت ناقابل تردید ہیں اور شریف خاندان کے مختلف ارکان منظم مبینہ منی لانڈرنگ اور غیر قانونی دولت بنانے میں ملوث ہیں.
حمزہ شہباز کی جانب سے 2003 میں ظاہر کیے گئے اثاثے 2 کروڑ روپے سے کم تھے تاہم ان کے والد کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد ان کی ذاتی دولت مبینہ طور پر 41 کروڑ (تقریباً 2 ہزار فیصد) سے زائد بڑھ گئی تھی اسی سلسلے میں نیب نے حمزہ شہباز سے متعلق نیب کی جانب سے کچھ قریبی ساتھیوں اور سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے دوران تفتیش کرپش اور مبینہ منی لانڈرنگ کا پورا طریقہ بتایا تھا. یاد رہے کہ لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار 2 افراد قاسم قیوم اور فضل داد کو 15 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا.
واضح رہے کہ حمزہ شہباز کی جانب سے 2003 میں ظاہر کیے گئے اثاثے 2 کروڑ روپے سے کم تھے تاہم ان کے والد کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد ان کی ذاتی دولت مبینہ طور پر 41 کروڑ (تقریباً 2 ہزار فیصد) سے زائد بڑھ گئی تھی۔اسی سلسلے میں نیب نے حمزہ شہباز سے متعلق نیب کی جانب سے کچھ قریبی ساتھیوں اور سہولت کاروں کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے دوران تفتیش کرپش اور مبینہ منی لانڈرنگ کا پورا طریقہ بتایا تھا۔ساتھ ہی لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے اور مبینہ منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں گرفتار 2 افراد قاسم قیوم اور فضل داد کو 15 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا تھا۔
