منی لانڈرنگ کیس، شہباز شریف 17 اپریل کونیب میں طلب

قومی احتساب بیورو (نیب) نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف کو 17اپریل کو نیب کے لاہور آفس میں طلب کر لیا ہے۔
نیب نے شہباز شریف سے وارثت میں موصول ہونے والی جائیداد کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ نیب کی جانب سے کہا گیا ہےکہ 1998 سے 2018 کے دوران آپ کی (شہبازشریف) فیملی کے اثاثے 23-367 ملین سے بڑھ کر-549 بلین ہوئے، آپ پبلک آفس ہولڈر ہونے کی حیثیت سے ان اثاثوں میں اضافے کی وضاحت دیں۔نیب نے سوال کیا ہےکہ شہبازشریف بیرون ملک اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اور 2005 سے 2007کے دوران بارکلے بینک سے لیا جانے والے قرض کی تفصیلات فراہم کریں۔
نیب کی جانب سے مزید پوچھا گیا ہےکہ فیملی کو دیے جانے والے اور موصول ہونے والے تمام تحائف کی تفصیلات فراہم کی جائیں، 2008 سے 2019کے دوران زرعی آمدنی کی تفصیلات فراہم کیں جائیں، بتایا جائے کہ ماڈل ٹاؤن 96 ایچ کتنے سال تک وزیراعلیٰ کیمپ آفس رہا۔
نیب نے منی لانڈرنگ کیس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے کہا ہے کہ وہ اپنے غیر ملکی اثاثوں اور دیگر کاروبار کی مکمل تفصیلات نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے 17 اپریل کو پیش کریں۔
شہباز شریف کو بھیجے گئے سوالنامے میں نیب لاہور نے کہا کہ سوالنامے کے ساتھ انہیں متعدد کال اپ نوٹس بھی جاری کیے لیکن ان کے جوابات ’غیر اطمینان بخش، نامکمل اور مضحکہ خیز‘ تھے۔ مراسلے میں کہا گیا کہ اس سلسلے میں آپ (شہباز شریف) کو ایک مرتبہ پھر خاندانی تصفیہ کے نتیجے میں ملنے والے اثاثوں کی تفصیلات (قیمت، نوعیت، نام اور مقام) فراہم کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ مراسلے کے مطابق کہ غیر ملکی اثاثوں کی بھی مکمل تفصیل فراہم کی جائے۔
بیورو نے شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز کو قصور میں تحفے میں ملنے والی اراضی کی تفصیلات تفصیلات طلب کرلی۔ علاوہ ازیں نیب نے شہباز شریف سے ان کے خاندان کے دیگر ممبروں کوملنے یا دینے والے تحائف کی بھی تفصیلات طلب کیں۔ نیب نے شہباز شریف سے زرعی آمدنی کی تفصیلات پیش کرنے کو بھی کہا ہے۔نیب نے شہباز شریف سے منی لانڈرنگ کیس میں 2 ملزمان علی احمد خان اور نثار احمد گل کے ساتھ ’تعلقات کی نوعیت‘ کی بھی وضاحت طلب کرلی۔علاوہ ازیں نیب نے 2008 اور 2019 کے دوران ٹیکس ادا کیے جانے سے متعلق ساری تفصیلات طلب کرلیں۔
اس کے علاوہ شہباز شریف سے کہا گیا کہ وہ اپنی کاروباری آمدنی کی مکمل تفصیلات فراہم کریں جیسا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے سامنے دعوی کیا گیا اور اس مدت کے دوران ہونے والی سرمایہ کاری اور اس کے حجم اور اخراجات کی تفصیلات جب ان کی ماڈل ٹاؤن رہائش گاہ کو وزیر اعلی ہاؤس قرار دیا گیا۔ نیب نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما سے ’ان کے کنبہ کے ممبروں کے ذاتی بینک کھاتوں میں بڑے پیمانے پر نقد رقم جمع کرنے کے وسائل اور ان کے نام پر رکھے ہوئے کاروبار میں ’نامعلوم نقد رقم جمع‘ کے بارے میں دریافت کیا۔
علاوہ ازیں شہباز شریف سے مکان نمبر 41-S، ڈی ایچ اے لاہور، اور کرایہ کی مدت کے کرایے کے معاہدے کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔ سابق وزیراعلیٰ سے وضاحت طلب کی گئی کہ 1998-2018 کے دوران ان کے اور اس کے کنبہ کے افراد کے اثاثے 2 کروڑ 37 لاکھ روپے سے بڑھ کر 3 ارب 50 کروڑ تک کیسے پہنچ گئے؟ نیب نے شہباز شریف کو پہلے ہی کال اپ نوٹس دیا تھا جس میں اس سے کہا گیا تھا کہ وہ 17 اپریل کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے پاس صوبائی ہیڈ کوارٹر ٹھوکر نیاز بیگ میں اپنا بیان ریکارڈ کروائیں۔
مسلم لیگ (ن) کے مطابق ’نیب – نیازی‘ اتحاد (حکومت اور بیورو کے مابین گٹھ جوڑ) ایک بار پھر اپوزیشن لیڈر کو نشانہ بنا رہا ہے اور اسے من گھڑت مقدمے میں ملوث کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
نیب نے شہباز شریف کو منی لانڈرنگ کیس میں 17 اپریل کو طلبی کے موقع پر وارثت میں ملنے والی جائیداد سمیت متعدد دیگر تمام ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔ نیب کے نوٹس کے مطابق شہباز شریف کو ہدایت کی گئی ہے کہ 2008 سے 2019 کے دوران زرعی امدنی کی تفصیلات فراہم کیں جائیں، ایف بی ار کے ریکارڈ کے مطابق اپنے تمام کاروبار کی تفصیلات فراہم کی جائیں، اہل خانہ کے اکاؤںنٹس میں ہونے والی بھاری ٹرانزیکشز کے ذرائع بتائیں، نیب کے مطابق 1998 سے 2018کے دوران فیملی کے اثاثے تیزی سے کیسے بڑھے اور پبلک آفس ہولڈر ہونے کی حیثیت سے ان اثاثوں میں اضافے کی وضاحت دیں۔
