مودی حکومت بند گلی میں پھنس چکی اب کشمیر آزاد ہوگا

وزیراعظم عمران خان نے آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں حالات اب بگڑتے جائیں گے، مودی حکومت بند گلی میں پھنس چکی اور اب کشمیر آزاد ہوگا۔
یوم استحصال کشمیر کے موقع پر مظفرآباد میں آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان سمیت صدر اور وزیراعظم آزاد کشمیر نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران آزاد کشمیر قانون سازی اسمبلی میں بھارتی اقدام کے خلاف مذمتی قرارداد بھی پیش کی گئی جس کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔
آزاد کشمیر اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جو صلاحیت پاکستان میں ہے کسی ملک میں نہیں اور پاکستانیوں کو اپنی صلاحیت کا خود بھی اندازہ نہیں، ملک کو تیزی سے اوپر جاتے دیکھا او پھر نیچے کی جانب آتے دیکھا، 60 کی دہائی میں پاکستان کو دنیا میں مانا جاتا تھا، دنیا کی تاریخ دیکھیں تو قوم اصولوں پر چلتی ہے تو اوپر جاتی ہے اور اصولوں سے ہٹ جاتی ہے تو نیچے آجاتی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی نیم خود مختار حیثیت کے خاتمے کے بھارتی اقدام کو ایک سال مکمل ہونے پر آزاد کشمیر اسمبلی سے خصوصی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مدینہ کی ریاست کی بات کرتے ہیں تو اس ریاست میں نبی ﷺ نے قانون بنائے تھے جن پر عمل کرکے وہ ریاست آگے گئی۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں سے اصول اپنائے تھے اس لیے انہیں کامیابیاں ملیں لیکن جب اصولوں سے پیچھے ہٹ گئے تو پھر زوال کا سامنا کرنا پڑا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ اللہ پاک کشمیریوں کو ایسے حالات سے گزار رہا ہے جس کا نتیجہ آزادی ہے، انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو نریندر مودی بہت بڑی غلطی کر بیٹھا ہے۔ انہوں نے نریندر مودی نے 4 مفروضوں پر یہ اقدام اٹھایا جس میں سے ایک الیکشن میں ہندو کارڈ کھیل کر پاکستان کے خلاف نفرت کو ہوا دے کر کامیابی حاصل کرنا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے مزید آگے بڑھ کر کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیا اور ہندوتوا سے بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت سمجھ رہا تھا کہ کشمیر کے حوالے سے اس کے اقدام پر پاکستان خاموشی سے بیٹھا رہے گا کیوں کہ ہم امن اور بات چیت کے خواہاں تھے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے یہ اقدام تکبر میں اٹھایا کیوں کہ بھارت ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے اور انہیں لگا کہ دنیا اس پر چپ رہے گی اور مغربی ممالک اسے چین کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں اس لیے وہ بھی خاموش رہیں گے۔
اس کے علاوہ مودی نے خیال کیا کہ پہلے سے 8 لاکھ فوج میں اضافہ کر کے مزید فوج پہنچادینے سے لوگوں کو اغوا کر کے اور آبادی کا تناسب تبدیل کر کے دہشت پھیل جائے گی اور کشمیری بالآخر پسپا ہوجائیں گے۔ لیکن میرے خیال میں بھارت نے اسٹریٹیجکلی غلط فیصلہ کیا دنیا کی طاقتور قومیں تکبر میں فیصلے کر کے تباہ ہوگئیں۔ انہوں نے کہا اس اقدام پر پاکستان خاموش نہیں رہا بلکہ دنیا بھر میں آواز اٹھائی اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کے اجلاس میں 1965 کے بعد 3 مرتبنہ بعد کشمیر کا معاملہ زیر غور آیا اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی 2 رپورٹس منظر عام پر آئیں۔ وزیراعظم نے کہا میں نے خود مغربی ممالک کے سربراہان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون وغیرہ سے بات کی اور انہیں سمجھایا کہ کشمیر میں ہو کیا رہا ہے جس سے انہیں آہستہ آہستہ اس معاملے کی سمجھ آنے لگی۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو آہستہ آہستہ مسئلہ کشمیر کی سمجھ آئی، نیویارک ٹائمز میرا مضمون نہیں چھاپتا تھا لیکن انہیں سمجھایا کہ نریندر مودی کی آئیڈیالوجی، اور آر ایس ایس بنانے والے ہٹلر اور نازیوں کے نظریات سے متفق تھے اور ان کے اقدامات کو درست مانتے تھے اور یہی ہمیں مسلمانوں کے ساتھ کرنا چاہیئے، میں نے اس کے گورننگ بورڈ کو سمجھایا جس سے تبدیلی آئی۔ انہوں نے کہا بنگلہ دیش بننے کے بعد پورا مغربی میڈیا بھارت کا حمایتی اور پاکستان مخالف ہوگیا اور دونوں کو موازنے میں بھارت کے مثبت جبکہ پاکستان کے منفی پہلو اجاگر کیے جاتے تھے، لیکن اس ایک سال میں مغربی میڈیا میں پہلی مرتبہ تنقیدی مضامین شائع ہوئے، کیوں کہ انہوں نے جب خود دیکھا تو انہیں اندازہ ہوا کہ مودی کا نظریہ وہی ہے جو نازی کا تھا۔ وزیراعظم نے کہا انسانی تاریخ میں 2 طرح کے لیڈر پائے گئے ایک لیڈر جیسے ہمارے نبی ﷺ جو انسانوں کو متحد کرتے ہی، تقسیم نہیں کرتے اسی طرح قائد اعظم جو ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے، جنوبی افریقا میں نسل پرستی عروج پر پہنچی تو نیلسن منڈیلا ابھرا جس نے سب کو متحد کیا۔ دوسرا لیڈر وہ ہوتا ہے جو نفرتیں پیدا کرتا ہے، جس طرح کراچی میں ایک نے لسانیت کے نام پر نفرتیں پھلائیں اور شہر کو تباہ کیا، یہ نریندر مودی بھی اسی قسم کا لیڈر ہے جس نے مسلمانوں کے خلاف نفرتیں پھیلا کر قتل عام کروایا، حتیٰ کہ یہ بلیک لسٹ ہوگیا مغربی ممالک میں نہیں جاسکتا تھا۔
قبل ازیں وزیراعظم نے مظفر آباد میں مزاحمتی ریلی کی قیادت کی اس دوران ان کے ہمراہ آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان اور وزیراعظم راجا فاروق حیدر کے علاوہ وفاقی وزرا بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے مظفر آباد میں مزاحمتی دیوار کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔اسمبلی کے اجلاس میں اراکین اسمبلی نے پاکستان کے ساتھ مکمل وابستگی کا اظہار کیا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ظالمانہ اقدامات کی مذمت کی۔اس موقع پر وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر نے ایوان میں قرار داد پیش کی جس میں کہا گیا کہ آزاد کشمیر اسمبلی کا ایوان بھارت کے گزشتہ 5 اگست کے اقدام کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔انہوں نے کہا کشمیر میں لاک ڈاؤن نہیں بلکہ محاصرہ ہے اور مقبوضہ کشمیر میں نافذ کرفیو اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیریوں نے بھارت کے اس اقدام کو مسترد کردیا ہے۔قرار داد میں کہا گیا کہ ایوان، صحافیوں، سیاسی رہنماؤں اور حریت قیادت کی گرفتاری کی بھی مذمت کرتا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے بہن بھائیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔قرار داد میں مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں مائیں بیٹیاں، اپنے باپ شوہروں اور بیٹوں کا انتظار کررہی ہیں جن کے بارے میں علم ہی نہیں کہ وہ زندہ ہیں بھی یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان سے امید ہے کہ وہ کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور کشمیریوں کے لیے ایک مضبوط توانا پاکستان ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button