مودی سرکار فرقہ ورانہ وائرس پھیلارہی ہے

بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ ہر بھارتی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے پھیلائے جانے والے فرقہ وارانہ منافرت کے وائرس سے متعلق پریشان ہونا چاہیے۔
کانگریس ورکنگ کمیٹی کے ویڈیو کانفرنس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 3 ہفتوں میں کورونا وائرس خطرناک طریقے سے پھیلا ہے اس حقیقت کے باوجود حکومت نے طبی ماہرین اور اپوزیشن اراکین کی تجاویز پر صرف جزوی اور غلط انداز میں عمل کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت ایک ایسے وقت میں ہمدردی اور لچک ظاہر کرنے میں ناکام ہوگئی جب کئی افراد لاک ڈاؤن سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
کانگریس کی صدر نے کہا کہ جب ہمیں کورونا وائرس سے نمٹنا چاہیے اس وقت بی جے پی فرقہ وارانہ تعصب اور نفرت کا وائرس پھیلارہی ہے۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ اس سے ہماری معاشرتی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچا ہے، اس نقصان کو ٹھیک کرنے میں ہمیں، ہماری پارٹی کو سخت محنت کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہ وزیراعظم نریندر مودی کو کئی مرتبہ تعمیری تعاون کی پیشکش کی تھی اور مختلف خطوط پر محنت کشوں کی مشکلات دور کرنے کی تجویز دی تھی۔
سونیا گاندھی نے کہا کہ بدقسمتی سے ان تجاویز پر صرف جزوی طور پر عمل کیا گیا، حکومت کی جانب سے جو تعاون، ہمدردی اور تیزی دکھائی جانی چاہیے تھی اس کی کمی واضح ہے۔ کانگریس کی صدر نے تجارت، کامرس اور صنعت رکنے کے بعد غیر منظم شعبے کے ورکرز، کنسٹرکشن ورکرز، مزدوروں، کسانوں اور کھیت کے مزدوروں کو درپیش مشکلات پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو واضح اندازہ نہیں ہے کہ 3 مئی کے بعد صورتحال کو کیسے سنبھالا جائے گا۔
سونیا گاندھی نے کہا کہ موجودہ نوعیت کا لاک ڈاؤن 3 مئی کے بعد اس سے بھی زیادہ تباہ کن ہوگا انہوں نے فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز کو حفاظتی لباس کی فراہمی اور لوگوں کی ٹیسٹنگ میں ناکامی پر بھی حکومت پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹنگ کی تعداد بہت کم ہے لیکن تاحال ٹیسٹنگ کٹس کی سپلائی کم ہے اور ہیلتھ ورکرز کو فراہم کیے گئے حفاظتی لباس ناکافی یا انتہائی خراب معیار کے ہیں۔ کانگریس کی صدر نے کہا کہ حکومت کم از کم ان 11 کروڑ افراد کو اناج دینے میں ناکام ہوگئی جن کے پاس راشن کارڈز نہیں ہیں۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ اس بحران کے وقت میں ہر ماہ ہر فرد کو 10 کلو اناج، ایک کلو دالیں اور آدھا کلو چینی فراہم کرنا ہمارا عزم ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ کورونا وائرس کے عالمگیر سطح پر خطرات کے پیش نظر بھارت میں پانچ ہفتے سے لاک ڈاؤن جاری ہے۔
بھارت نے 25مارچ کو ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا اسکے بعد سے ملک بھر میں تعمیراتی سرگرمیوں سمیت تمام تر صنعتیں اور ٹرانسپورٹ بند ہے۔
