مودی سرکار ٹیپو سلطان کو متنازع بنانے پرتل گئی


بھارت میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد ہندوتوا کے ماننے والوں نے برصغیر کے عظیم سپہ سالار ٹیپو سلطان کو متنازعہ بنانے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ ریاست کرناٹک میں ٹیپو کے یوم پیدائش پر سالانہ جشن منایا جاتا ہے لیکن اب مودی سرکار نے ٹیپو کو متعصب اور ہندو دشمن حکمران ثابت کرنے کے لئے تاریخ کو مسخ کرنا شروع کردیا ہے۔ اس سلسلے میں گذشتہ دنوں ایک باریش عرب تاجر کی تصویر کو ٹیپو سلطان سے منسوب کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش بھی کی گئی کہ ٹیپو عام سی شکل و صورت والا مولوی ٹائپ حکمران تھا۔
انڈیا اور پاکستان میں میسور کے سابق حکمراں ٹیپو سلطان کو ایک بہادر اور محب وطن حکمراں کے طور پر ہی نہیں مذہبی رواداری کے علمبردار کے طور پر بھی یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن کچھ عرصے سے بی جے پی کے رہنما اور دائیں بازو کے نظریات کے مورخ ٹیپو کو ظالم اور ہندو دشمن مسلم سلطان کے طورپر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ٹیپو کو ہندوؤں کا قتل عام کرنے والا حکمراں بتایا جا رہا ہے۔ بہت سے بھارتیوں کے ذہن میں میسور کا ٹیپو اب بھی ایک محب وطن انگریزوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان دینے والا ہیرو اور سیکیولرحکمران ہے۔ میسور کے 18ویں صدی کے بہادر حکمراں ٹیپو سلطان انگزیزوں سے لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔ کرناٹک کی سابقہ کانگریس حکومت نے چند برس قبل ریاست کے کئی دیگر ہیروز کی طرح ٹیپو کو افتخارِ کرناٹک قرار دیا اور ان کے یوم پیدائش پر سرکاری طور پر جشن منانا شروع کیا۔ لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس اس کی مخالفت کر رہی ہیں۔ ان کے خیال میں ٹیپو متعصب حکمران تھا اور اس نے ساحلی علاقوں میں ہزاروں ہندوؤں کا قتل عام کیا اور مندر ڈھائے تھے۔
تاریخ پر نظر دوڑایئں تو یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ٹیپو سلطان کی سلطنت میں غالب اکثریت ہندوؤوں کی تھی۔ ٹیپو مذہبی رواداری اور روشن خیالی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے سری رنگا پٹنم، میسور اور اپنی سلطنت کے کئی دیگر مقامات پر متعدد مندر تعمیر کرائے اور مندروں کے لیے زمینیں دیں۔ خود ان کے اپنے محل کے داخلی دروازے سے محض چند سو میٹر کی دوری پر ایک بہت بڑا مندر واقع ہے لیکن ہندوتوا سے متاثر بہت سے دانشور اور مورخین ٹیپو کو ظالم اور ہندو مخالف حکمران قرار دیتے ہیں۔ کرناٹک کے ڈاکٹر چدانند مورتی کے مطابق ٹیپو بہت چالاک حکمراں تھا۔ اس نے میسور سلطنت کے اندر اپنی ہندو رعایا پر ظلم نہیں ڈھایا اور نہ ہی ان کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا لیکن ریاست سے باہر ساحلی کورگ علاقوں اور کیرالہ کے مالابار علاقے پر حملے میں اس نے ہندوؤں پر بہت ظلم ڈھائے۔ وہ ظالم، بے رحم اور متعصب حکمراں تھا۔
لیکن ٹیپو کا گہرا مطالعہ کرنے والے مورخ پروفیسر بی شیخ علی کہتے ہیں کہ ان دعوؤں کا کوئی تاريخی ثبوت نہیں ہے۔ ان کے خیال میں ٹیپو کی ظالم حکمراں کی نئی شبیہ تاریخ سے زیادہ موجودہ سیاسی ماحول سے متاثر لگتی ہے۔ جب مسلمان آئے تو انھوں نے اپنے حساب سے تاریخ لکھی، جب انگریز آئے تو انھوں نےاپنے حساب سے لکھی۔ اب پارٹی بدل گئی ہے تو وہ چاہتے ہیں کہ اسے اپنی طرح سے بدلا جائے۔ وہ تاریخ کو مسخ کرنا چاہتے ہیں۔ ملک کی بدلتی ہوئی سیاست میں تاریخ کی نئی تشریح کی جا رہی ہے اور اسے مسح کیا جا رہا ہے۔ اس بدلتے ہوئے پس منظر میں کوشش یہی ہے کہ مستقبل کی تاریخ میں ٹیپو سلطان جیسے ماضی کے حکمرانوں کو شاید فراموش کر دیا جائے یا پھر انھیں ہندو دشمن، ظالم حکمراں کے طور پر پیش کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button