مودی نے 76 برس بعد انڈیا کا نام بدلنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

ہندوستان کو آزاد ہوئے 76 برس ہوچکے ہیں مگر وہاں کی حکومت کو تاحال معلوم نہیں کہ ان کے ملک کا نام ’انڈیا‘ ہے یا ’بھارت‘۔ تاہم اب انڈیا نے آئینی ترمیم کے ذریعے ملک کا نام تبدیل کر کے مستقل طور پر ’جمہوریہ بھارت‘ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔بھارت میں 9 اور10 ستمبرکو جی20 اجلاس کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ انڈین صدر دروپدی مرمو کی جانب سے غیرملکی رہنماؤں کو بھیجے گئے جی20 سَمِٹ کے دعوت ناموں پر ’پریزیڈنٹ آف انڈیا‘ کے بجائے ’پریزیڈنٹ آف بھارت‘ لکھے جانے پر سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔
انڈین میڈیا کے مطابق ایسا انڈیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی سرکاری دعوت نامے میں انڈیا کے بجائے بھارت کی اصطلاح استعمال کی گئی ہو۔

’این ڈی ٹی وی‘ کے مطابق جی20 سَمِٹ کے حوالے سے غیرملکی وفود کو بھیجے گئے کتابچوں میں بھی انڈیا کے بجائے لفظ بھارت کا استعمال کیا گیا ہے۔ ان کتابچوں کا عنوان ’بھارت، جمہوریت کی ماں‘ رکھا گیا ہے۔
انڈیا کی پالیسی میں تبدیلی پر حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) خوش نظر آ رہی ہے اور اس کے رہنما اسے ایک اچھا قدم قرار دے رہے ہیں۔بی جے پی سے منسلک وزیر دھرمیندر پرادھان نے لکھا کہ ’ایسا پہلے ہوجانا چاہیے تھا۔ اس سے دماغ کو کافی اطمینان پہنچا ہے۔ بھارت ہمارا تعارف ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے کہ صدر نے بھارت کو ترجیح دی۔‘

انڈیا کے لیجنڈ اداکار امیتابھ بچن اور سابق کرکٹر وریندر سہواگ بھی سرکاری دعوت ناموں میں لفظ ’بھارت‘ کے استعمال سے خوش نظر آئے۔دوسری جانب کافی سوشل میڈیا صارفین ایسے بھی ہیں جو انڈیا کے بجائے لفظ ’بھارت‘ کے استعمال پر ناخوش نظر آ رہے ہیں۔منیش تیواری نے ایک ٹویٹ میں انڈیا کے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ وہاں بھی ’پریزیڈنٹ آف انڈیا‘ لکھا گیا ہے۔تَمل ناڈو کے وزیراعلیٰ ایم کے سٹالن نے حکمراں جماعت پر شدید تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ’بی جے پی مخالف جماعتیں، جب فسطائیت پر اُتری ہوئی جماعت بی جے پی کو ہٹانے کے لیے متحد ہوگئیں اور اپنے اتحاد کا نام انڈیا رکھا تو اب بی جے پی انڈیا کو بھارت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔‘

انڈین ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ شاید انڈین حکومت انڈیا کا نام مستقل طور پر بھارت رکھنا چاہتی ہے۔اگر بی جے پی کی حکومت ایسا کرنا چاہتی ہے تو اسے آئین کے آرٹیکل 1 میں ترمیم کے لیے لوک سبھا میں بِل پیش کرنا ہوگا اور اسے سادہ اکثریت سے منظور کروانا ہوگا۔خیال رہے کہ اس سے قبل 2015 میں بی جے پی کی قیادت میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ ملک کا نام ’انڈیا‘ ہے اور اسے ’ہندوستان‘ کے نام سے نہ پکارا جائے۔ مفاد عامہ کی اس قانونی درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں سرکاری اور غیر سرکاری طور پر ملک کا نام ’بھارت‘ استعمال کریں۔ اس درخواست کا جواب دیتے ہوئے مودی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 1 میں تبدیلی سے متعلق غوروفکر کے لیے حالات و واقعات میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔ جبکہ آرٹیکل 1.1 کہتا ہے: ’انڈیا یعنی بھارت، ریاستوں کا اتحاد ہو گا۔‘

بھارتی وزارت داخلہ نے عدالت کے سامنے مؤقف اپنایا کہ جب آئین کا مسودہ تیار کیا گیا تو اس وقت آئین ساز اسمبلی نے ملک کے نام سے متعلق معاملے پرغوروفکر کیا تھا اور آرٹیکل 1 کی شقوں کو متفقہ طور پر منظور کیا تھا۔ حکومت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ آئین کے اصل مسودے میں ملک کا نام ’بھارت‘نہیں تھا بلکہ دستور ساز اسمبلی نے بحث کے دوران چند ناموں اور ترکیبوں پر غور کیا تھا جیسا کہ بھارت، بھارت بھومی، بھارت ورش، انڈیا یعنی بھارت، اور بھارت یعنی انڈیا۔دوسری جانب بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت نے ملکی آئین میں انڈیا کا نام تبدیل کر کے ’بھارت‘ رکھنے کا فیصلہ کرلیاہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ کا اجلاس 18 سے 22 ستمبر تک جاری رہے گا جس میں بھارتی آئین میں ترمیم کرتے ہوئے ملک کا نام صرف ’جمہوریہ بھارت‘ رکھا جائے گا۔

یاد رہے، مودی حکومت اس سے قبل کئی مرتبہ اس بات کا عندیہ دے چکی ہے کہ وہ ملک کا نام ’بھارت‘ رکھنا چاہتی ہے۔ 2022ء میں یوم آزادی کی تقریر میں وزیراعظم مودی نے بھارتی شہریوں سے کہا تھا کہ وہ غلامی کی بچی کھچی نشانیاں مٹا دیں کیونکہ ملک کا نام ’بھارت‘ رکھنا قومی شناخت اپنائے جانے کی علامت ہو گا۔

Back to top button