موذی کرونا وائرس کیسے انسانی جان لیتا ہے؟تحقیقات مکمل

تازہ ترین تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کرونا وائرس نہ صرف انسانی پھیپڑوں کو متاثر کر کے انسانی نظام تنفس کو تباہ کرتا ہے بلکہ دل اور خون کی شریانوں کو بھی شدید متاثر کرتا ہے جس سے موت واقع ہو جاتی یے۔
پھیپھڑوں، گردوں، جگر، معدے، آنتوں اور انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو تباہ کرنے والے مہلک کرونا وائرس سے ہزاروں لوگ متاثر جبکہ سینکڑوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے بارے میں اب بھی بہت زیادہ معلومات حاصل نہیں ہوسکی ہیں مگر ایک بات واضح ہے کہ سنگین کیسز میں یہ وائرس جسم پر تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے اوراس سے صرف پھیپھڑے ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ انسانی جسم کا پورا نظام تباہ ہو جاتا ہے۔ کورونا وائرس کے جسم کے مختلف حصوں مرتب ہونے والے اثرات بارے تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ دیگر کورونا وائرسز بشمول سارز، مرس اور عام موسمی نزلہ زکام کی طرح کووڈ 19 بھی نظام تنفس کی بیماری ہے، اس سے پھیپھڑے ہی عموماً سب سے پہلے متاثر ہوتے ہیں۔ کرونا وائرس کی ابتدائی علامات میں بخار، کھانسی اور سانس لینے میں مشکل شامل ہیں اور یہ علامات وائرس کا شکار ہونے کے 2 سے 14 دن کے اندر نظر آنے لگتی ہیں۔
چین میں 17 ہزار سے زائد کیسز کے ڈیٹا سے ثابت ہوا ہے کہ 81 فیصد کیسز کی شدت معتدل ہوتی ہے جبکہ باقی کی شدت زیادہ یا سنگین ہوتی ہے، معمر افراد اور سنگین امراض کے شکار افراد میں اس کی شدت بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ کووڈ 19 پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے، کچھ افراد میں نظام تنفس کی علامات معمولی ہوتی ہے، جبکہ دیگر میں نمونیا نظر آتا ہے مگر کچھ افراد کے پھیپھڑوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔ اس وائرس سے پھیپھڑے سے متاثر ہونے والے اہم ترین عضو ہیں مگر سنگین کیسز میں باقی جسم بھی متاثر ہوتا ہے۔
کرونا وائرس کے شکار کچھ افراد نے معدے سے متعلق علامات جیسے قے یا ہیضہ کو رپورٹ کیا ہے، مگر یہ علامات پھیپھڑوں کو ہونے والے مسائل کے مقابلے میں بہت کم عام ہیں۔ کرونا وائرسز کے لیے پھیپھڑوں کے راستے جسم میں داخل ہونا آسان ہوتا ہے مگر آنتیں بھی ان وائرسز کی رسائی سے دور نہیں۔ حالیہ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق نئے نوول کورونا وائرس کے کچھ مریضوں کے فضلے میں یہ وائرس دریافت ہوا، تاہم محققین ابھی اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے کہ فضلے سے بھی وائرس ایک سے دوسرے انسان تک پھیل سکتا ہے یا نہیں۔
واشنگٹن یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی ڈاکٹر لورا ای ایوانز کے مطابق کرونا وائرس دل اور خون کی شریانوں پر بھی ممکنہ طور پر اثرانداز ہوسکتا ہے، جس سے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوسکتی ہے، ٹشوز کو خون کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے یا بلڈ پریشر کم ہوسکتا ہے، مگر تاحال ابھی تک یہ عندیہ نہیں ملا کہ یہ وائرس براہ راست دل کو نقصان پہنچاتا ہے۔
جب جگر کے خلیات ورم کا شکار ہوتے ہیں یا ان کو نقصان پہنچتا ہے تو وہ معمول سے زیادہ مقدار میں انزائز دوران خون میں خارج کرتے ہیں، ان انزائمز کی زیادہ مقدار ہمیشہ کسی سنگین مسئلے کی نشانی نہیں ہوتی، مگر یہ سارز یا مرس کے شکار افراد کے لیبارٹری ٹیسٹوں میں نظر آیا۔ ایک حالیہ رپورٹ میں دریافت کیا گیا کہ کووڈ 19 کے ایک مریض کے جگر کو نقصان پہنچنے کی علامات دریافت ہوئیں، ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ یہ ابھی واضح نہیں کہ وائرس یا اس مریض کے علاج کے لیے دی جانے والی ادویات اس نقصان کا باعث بنی۔ کووڈ 19 کے شکار ہوکر ہسپتال داخل ہونے والے کچھ افراد میں گردوں کے نقصان کو بھی دیکھا گیا، ایسا سارز اور مرس میں بھی دیکھنے میں آیا تھا۔ ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ کورونا وائرس انفیکشن سے آنے والی دیگر تبدیلیاں ممکنہ طور پر گردوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہیں، یعنی جب نمونیا ہوتا ہے یا جسم میں آکسیجن کی گردش کم ہوتی ہے تو گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
کسی بھی انفیکشن پر جسمانی مدافعتی نظام بیرونی وائرس یا بیکٹریا پر حملہ آور ہوکر ردعمل ظاہر کرتا ہے، ویسے تو یہ ردعمل عمل جسم سے انفیکشن کو نکالتا ہے مگر کئی بار اس سے جسم کو بھی نقصان پہنچ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کووڈ 19 سے جسم کو ہونے والا بہت زیادہ نقصان پیچیدہ مدافعتی ردعمل کا نتیجہ ہوتا ہے، جس سے جسم میں شدید ورم جیسا ردعمل بنتا ہے جو مختلف جسمانی نظاموں پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔
