موسیقاروں کی حوصلہ افزائی کیلئے مختلف پلیٹ فارمز ہونے چاہیئں

میوزک بینڈ اسٹرنگز کے رکن اور نامور کمپوزر و گلوکار بلال مقصود نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے فلم انڈسٹری کی بحالی کے اقدامات کی منظوری دینے کے بعد کہا ہے کہ موسیقاروں کی حوصلہ افزائی کےلیے ملک میں مختلف پلیٹ فارمز ہونے چاہیئں۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے ثقافت اور قومی ورثے کے فروغ کےلیے ملک میں فلم انڈسٹری اور سنیما کی بحالی کے اقدامات کی منظوری دے تھی۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے فلم اور سنیما انڈسٹری کی بحالی سے متعلق ایک ورکنگ پیپر پیش کیا تھا جسے وزیر اعظم نے منظور کرلیا۔ اجلاس میں فلم اور سنیما انڈسٹری سے وابستہ لوگوں کو مراعات دینے کا فیصلہ کیا گیا اور وزیراعظم نے معیاری فلمیں بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ اس حوالے سے بلال مقصود نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو جاری کی اور ساتھ ہی کیپشن میں لکھا کہ یہ اہم چیز ہے اور میرے خیال سے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اپنے ویڈیو پیغام میں بلال مقصود نے کہا کہ میں نے اخبار کے فرنٹ پیج پر ایک تصویر دیکھی جس میں وزیراعظم، ملک میں سنیماکی بحالی سے متعلق اجلاس کی سربراہی کررہے تھے اچھی بات ہے ایسا ہونا چاہیے۔ بلال مقصود نے کہا کہ لیکن یہ بھی بتادیں میوزک انڈسٹری کےلیے کیا اقدامات کیے جارہے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ہمیں بتائیں کہ ملک میں موسیقاروں کی کیا اہمیت ہے کیوں کہ ہمارے عوام کا نظریہ ہے کہ ہم بہت برا کام کررہے ہیں، اگر ہماری حکومت موسیقاروں سے متعلق عوام کے نظریے اور سوچ سے اتفاق کرتی ہے تو ہمیں بتادیں۔
ویڈیو میں بلال مقصود نے مزید کہا کہ میں پُریقین ہوں کہ ہماری حکومت عوام کے اس نظریے سے اتفاق نہیں کرتی کیونکہ وزیراعظم عمران خان کی دنیا کے بڑے بڑے نامور موسیقاروں سےدوستی ہے اور وہ ایسا نہیں سوچتے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا اگر وزیراعظم ایسا نہیں سوچتے تو ایسے پلیٹ فارمز بنائیں جس سے عوام کی سوچ تبدیل ہو اور موسیقار کو ڈر ڈر کر قدم نہ رکھنا پڑے، چاہے سوشل میڈیا ہو یا کنسرٹ ہمیں ہر جگہ دشمنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بلال مقصود نے کہا کہ اگر ہم اسی سوچ کے ساتھ چلتے رہے تو میوزک بہت جلد اس ملک سے ختم ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک موسیقار کےلیے عزت بہت ضروری چیز ہے، میں نے حکومت کی جانب سے آرٹسٹ فنڈ ایک فارم دیکھا جو دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا کہ اس میں لکھا تھا کہ اگر آپ کو حکومت سے پیسے چاہئیں تو آپ کے پاس ایوارڈز ہیں، کتنے گانے گائے، کتنی ویڈیوز ہیں اور اس کی بنیاد پر حکومت سے 25 سے 50 ہزار روپے لیے جاتے ہیں۔ گلوکار کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اگر سمجھتی ہے کہ ایسا کرکے اچھا کام کررہی ہے تو یہ شارٹ کٹ ہے، حکومت کو کام کرنا چاہیے کہ فنکار کو پیسے مانگنے نہ پڑیں اسے عزت چاہیے اور وہ چاہے تھوڑا سا کمائے اور اپنے پیسے اپنے گھر لے کر آئے۔
بلال مقصود نے زود دیا کہ موسیقاروں کی حوصلہ افزائی کےلیے ملک میں مختلف پلیٹ فارمز ہونے چاہیئں، لوگوں کی سوچ بدلنا بہت ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button