مولانا طارق جمیل دین سے زیادہ دنیا کے مولوی ہیں

ممتاز عالم دین اور تبلیغی جماعت کے روح رواں مولانا طارق جمیل نے جسم فروشی کے دھندے سے وابستہ لڑکیوں کو راہ راست پر لانے کے لیے ایک تحریک شروع کردی ہے۔ اس بات کا انکشاف انہوں نے ایک ٹی وی پروگرام میں کیا اور بتایا کہ میں طوائفوں کو راہ راست پر لانے کیلئے چالیس لاکھ روپے سالانہ خرچ کر رہا ہوں۔ یاد رہے کہ مولانا طارق جمیل کا تعلق خانیوال کے شہر تلمبہ سے ہے جو میاں چنوں کے قریب واقع ہے اور وہاں ایک ہیرا منڈی بھی ہے۔ مولانا تبلیغی جماعت کے سرگرم ترین رکن ہیں اور فیصل آباد میں ایک مدرسہ چلاتے ہیں۔ اُن کی تبلیغی کوششوں کے باعث بہت سے گلوکار، اداکار اور کھلاڑی دینِ اسلام کی طرف راغب ہوئے ہیں۔ لیکن اب انہوں نے جسم فروشی کے دھندے سے وابستہ لڑکیوں کو کو راہ راست پر لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایک ٹی وی پروگرام میں یہ انکشاف کرتے ہوئے مولانا طارق جمیل نے پاکستان میں جسم فروشی کے دھندے کی تاریخ بھی بیان کی اور بتایا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد ملتان ، کہروڑ اور تلمبہ میں طوائفوں کے تین بازار حسن بنوائے تھے جہاں سے ہر سال 100 کے قریب طوائفیں ناچ گانے کے فنکشن کرنے و دیگر آلودگی کی خاطر دبئی جاتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ تلمبہ کے علاقے سے تعلق رکھنے والی بہت سی جسم فروش عورتوں کو انہوں نے اس دھندے سے روک دیا ہے اور ماہانہ ان کے گھر خرچہ پہنچاتے ہیں جس پر طور پر چالیس لاکھ روپے ہر مہینے خرچ آتا ہے۔ مولانا طارق جمیل نے مزید کہا کہ میں نے جب طوائفوں کو اپنے پاس بلا کر کہا کے تم میری بیٹیاں ہو تو وہ رونے لگی اور انہوں نے کہا کہ ہمیں تو آج تک ہمارے والدین نے بھی بیٹی نہیں مانا ۔
یاد رہے کہ حال ہی میں سوشل میڈیا پر مولانا طارق جمیل کی کچھ خواتین کے ساتھ گفتگو کی آڈیو اور ویڈیو وائرل ہوئی ہیں جن کی بنا پر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
حاسدین اکثر اعتراض کرتے ہیں کہ مولانا فلمی ستاروں، کرکٹرز اور سیٹھوں سے خاص رغبت رکھتے ہیں۔ گزشتہ سال کسی نے غیر ملکی دورے کے دوران ان کی تصویر پھیلائی جس میں وہ ایک بہت ہی لمبی سی لیموزین سے اتر رہے ہیں۔ کسی نے کہا اور درست کہا کہ کون سی حدیث میں لکھا ہے کہ لیموزین میں بیٹھنا منع ہے۔
اگر ان کے میزبانوں نے اتنی بڑی گاڑی بھیج دی تو وہ کیا اب یہ کہیں کہ نہیں گاڑی واپس لے جاؤ۔ میں تو سوزوکی آلٹو میں ہیٹھوں گا۔ کسی اور بدزبان نے کہا کہ لیموزین اتنی بڑی بھی نہیں تھی۔ اس میں تو ان کے حصے کی ساری حوریں بھی فٹ نہ آئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ مولانا طارق جمیل گنہگاروں اور دنیا داروں کے مولانا ہیں۔ جو صالح ہیں انھیں تبلیغ کی کیا ضرورت۔ سیاسی نفرتوں میں بٹے اس معاشرے میں شاید وہ واحد عالم دین ہیں جو عمران خان کے ڈرائنگ روم میں افطاری کے بعد امامت بھی کر لیتے ہیں اور مرحومہ کلثوم نواز کی نماز جنازہ بھی پڑھا لیتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کو یقیناً ایسی شخصیتوں کی ضرورت ہے جو فروعی اختلافات سے بالاتر ہوکر برکتیں بانٹ سکیں۔ ریاست کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ وہ ہمارا قومی اثاثہ ہیں۔ وقتاً فوقتاً دفاعی اور سویلین اداروں میں ان کا خطاب کروایا جاتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مولانا طارق جمیل کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ بھی خصوصی تعلقات ہیں۔
تاہم مولانا کی جانب سے طوائفوں کو سدھارنے کی مہم چلانے پر ناقدین نے کہا ہے کہ پہلے مولانا کو اپنے تبلیغی بھائیوں کو سدھارنا چاہیے جنہوں نے حکومت کی جانب سے بار بار منع کئے جانے کے باوجود رائیونڈ میں تبلیغی اجتماع منعقد کیا جس کے نتیجے میں اب ہزاروں پاکستانی کرونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔
