مولانا فضل الرحمن پر ڈیزل کے پرمٹ لینے کا الزام کتنا سچ ہے؟

طاقتور فوجی اسٹیبلشمینٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر اقتدار میں آنے والے وزیر اعظم عمران خان آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے منع کرنے کے باوجود مولانا فضل الرحمن کو جلسوں میں ڈیزل کہہ کر مخاطب کر رہے ہیں جس کے بعد یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آخر ڈیزل کا معاملہ کیا ہے؟ قصہ کچھ یوں ہے کہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں جب مولانا فضل الرحمٰن پی پی پی کے اتحادی تھے اور کشمیر کمیٹی کے سربراہ تھے تو تب کی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ ن نے یہ الزام لگانا شروع کر دیا کہ مولانا افغان طالبان کو ڈیزل کے پرمٹ فروخت کر رہے ہیں کیونکہ تب افغانستان میں ملا عمر برسراقتدار تھے۔
اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد اب عمران خان اپنی تقاریر میں فوجی سربراہ کے منع کرنے کے باوجود ماضی میں لگائے گئے اسی الزام کو دہرا رہے ہیں۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی مرکز میں حکومت کا چوتھا اور خیبر پختونخوا میں آٹھواں سال چل رہا ہے لہذا اگر یہ الزام سچ پر مبنی تھا تو اس تمام عرصے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے مولانا کے خلاف ڈیزل کے پرمٹ بیچنے کے الزام پر کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟
عمران خان سے پہلے بھی مولانا فضل الرحمٰن کو ان کے سیاسی مخالفین کی جانب سے ڈیزل کے نام سے پکارا کیا گیا ہے تاکہ انہیں کرپٹ ثابت کیا جا سکے لیکن عمران خان تو اس معاملے میں اخلاقیات کی تمام حدیں پھلانگ گے ہیں۔ موصوف نے دیر میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے آرمی چیف جنرل باجوہ نے مولانا فضل الرحمن کو ڈیزل کہنے سے منع کیا ہے لیکن میں نے انہیں بتایا کہ مولانا کا یہ نام میں نے نہیں بلکہ عوام نے رکھا ہے، اس کے بعد انہوں نے 9 مرتبہ مولانا کو ڈیزل کہہ کر مخاطب کیا اور پھر اسی تقریر میں نیوٹرل کو جانور قرار دے دیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دراصل نیوٹرل کا لفظ انہوں نے فوجی قیادت کے لئے استعمال کیا جو موجودہ سیاسی بحران میں ان کے ساتھ کھڑا ہونے کی بجائے غیر جانبدار رہنے کو ترجیح دے رہی ہے، جس کی عمران خان کو شدید تکلیف ہے۔ ان حالات میں عمران خان اپنے ہاتھ سے اقتدار جاتا دیکھ کر فرسٹریشن کا شکار ہو گئے ہیں اور اپنے سیاسی مخالفین سمیت فوجی قیادت کو بھی گالی گلوچ کر رہے ہیں۔
سینیئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر مولانا فضل الرحمن کو ڈیزل قرار دینے کی کہانی بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ 1993 میں جب بے نظیر بھٹو کی حکومت اقتدار میں آئی تھی تو مولانا فضل الرحمٰن ان کے اتحادی تھے اور خارجہ امور کے کمیٹی کے سربراہ بھی تھے۔ اسی دوران افغانستان میں طالبان کی حکومت آگئی، تو مولانا فضل الرحمٰن پر مسلم لیگ ن نے یہ الزام لگانا شروع کر دیا کہ مولانا طالبان کو ڈیزل کے پرمٹ فروخت کر رہے ہیں جن کا کوٹہ انہیں وفاقی حکومت سے مل رہا ہے۔ حامد میر نے بتایا کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے یہ الزام تو لگا لیکن اس حوالے سے کوئی ثبوت سامنے نہیں آئے۔ بعد میں جب پرویز مشرف 2002 کے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے، تو مسلم لیگ ق نے یہی الزام دہرایا، لیکن تب عمران خان مولانا اس معاملے پر مولانا کا دفاع کیا کرتے تھے۔ لہذا اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ محض ایک الزام ہے اور مولانا کے مخالفین صرف انکی شخصیت کا تاثر خراب کرنے کے لیے یہ الزام لگاتے ہیں۔
حامد میر نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے لیے یہ نام پہلے عطاالحق قاسمی نے اپنے ایک کالم میں استعمال کیا تھا، جو بعد میں سیاسی مخالفین نے ’اچھل اچھل‘ کر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اس حوالے سے حامد میر نے سال 2019 میں روزنامہ جنگ میں ایک کالم بھی لکھا ہے جس میں کہا گیا کہ مولانا کے سیاسی مخالفین اس اصطلاح کو طعنے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نواز شریف بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف تحریک نجات چلانے میں مصروف تھے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ عطاالحق قاسمی نے اسی الزام پر اپنے ایک اور کالم میں سال 2006 میں مولانا سے معافی بھی مانگی تھی۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ یہ الزام سراسر جھوٹ ہے اور اگر سچ ہوتا تو موجودہ اور سابق حکومتوں کو مولانا کے خلاف ریفرنس دائر کرنا چاہیے تھے۔ حامد میر کے مطابق بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حکومت کی جانب سے ڈیزل پرمٹ شخصیات کو نہیں بلکہ پیٹرول پمپس کو جاری کیے جاتے ہیں۔
حامد میر نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ ایک دن انہوں نے جے یو آئی کے رہنما مفتی نظام الدین شامزئی سے اس الزام کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے ’گھٹیا‘ الزام قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ آپ عطا الحق سے پوچھیں کہ انہوں نے یہ کالم کیوں لکھا تھا۔ ٹی وی سکرین پر ایک طویل عرصے تک غیرحاضر رہنے کے واپس لوٹنے والے حامد میر کے مطابق ’میں نے عطاالحق سے بھی پوچھا تھا لیکن انہوں نے ایک اخبار کی خبر کا ذکر کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے ڈیزل پرمٹ لیا تھا لیکن عطاالحق قاسمی کے پاس اس حوالے سے مزید کوئی تفصیل نہیں تھی کہ پرمٹ کس سے لیا اور کتنے میں لیا۔‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں بغیر ثبوت کے جعلی خبر کیسے شائع کروائی جاتی ہے اور پھر اسے سیاسی بیانیے کا حصہ بنانے کی مخالفین کوشش کرتے ہیں۔ حامد میر سے جب پوچھا گیا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن وزیر پیٹرولیم تھے اور انہوں نے اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے ڈیزل پرمٹ بیچے تھے، تو اس حوالے سے انہوں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن کبھی بھی پیٹرولیم کے وزیر نہیں رہے ہیں بلکہ وہ بے نظیر حکومت میں امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین تھے۔
شمیم شاہد پشاور کے سینیئر صحافی ہیں اور افغانستان جہدوجہد سمیت طالبان کی 90 کی دہائی کی حکومت کی کوریج بھی کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس زمانے میں قبائلی علاقہ جات افغانستان کے لیے ٹرانزٹ روٹ تھے جس طرح اب بھی ہیں اور تجارت اسی راستے سے کی جاتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے لیے گندم اور ڈیزل کے پرمٹ لیے جاتے تھے یعنی یہاں سے افغانستان ڈیزل برآمد کیا جاتا تھا اور اس کے لیے پرمٹ لینا پڑتا تھا۔ شمیم شاہد نے بتایا کہ ’یہی الزام مولانا فضل الرحمٰن پر لگایا جاتا ہے کہ ان کو بے نظیر حکومت نے ڈیزل کا پرمٹ دیا تھا۔‘
تاہم تحقیق کے دوران مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف ڈیزل پرمٹ لینے یا اس سے منسلک کسی قسم کی کرپشن کا کوئی الزام یا ریفرنس کبھی سامنے نہیں آیا۔ مولانا فضل الرحمٰن سے اس الزام کے بارے میں ماضی میں متعدد بار ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور ٹی وی پروگرامز میں پوچھا گیا ہے کہ اس کے پیچھے کہانی کیا ہے اور اس میں کتنی حقیقت ہے۔ اسی الزام کے بارے میں حامد میر نے ایک پروگرام میں پوچھا تو مولانا فضل الرحمٰن نے جواب دیا، ’اگر میں نے کوئی ڈیزل پرمٹ لیا ہے تو پرمٹ تو بغیر دستاویزات کے نہیں لیا جاتا تو اگر پرمٹ لیا ہے، تو اس کے ثبوت سامنے لے کر آئیں۔‘ اس معاملے پر جمعیت علمائے اسلام خیبر پختونخوا کے ترجمان عبدالجلیل جان نے بتایا کہ تحریک انصاف کی مرکز میں حکومت کا چوتھا اور خیبر پختونخوا میں آٹھواں سال چل رہا ہے
لہٰذا اس تمام عرصے میں اب تک پی ٹی آئی یا عمران خان نے مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف اس الزام کی تحقیق کیوں نہیں کی یا کوئی ثبوت کیوں سامنے نہیں لے کر آئے۔ انہوں نے بتایا، ’یہ سراسر جھوٹ ہے۔ اگر پی ٹی آئی کے پاس کچھ ثبوت ہوتے تو ابھی تک سامنے لا چکے ہوتے لیکن جب ان کے پاس دلائل ختم ہوجاتے ہیں تو وہ گالیوں پر اتر آتے ہیں اور ملک مین انتشار پھیلانا چاہتے ہیں۔‘ جلیل جان سے جب پوچھا گا کہ کیا مولانا فضل الرحمٰن کے خلاف اگر اس الزام کی تحقیقات حکومت کرتی ہے تو کیا وہ پیش ہونے کے لیے تیار ہوں گے، اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مولانا تو پہلے بھی اور اب بھی تیار ہیں کہ اس کی تحقیقات کیا ایک غیر جانب دار احتساب ادارے سے کرایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔
