مولانا فضل الرحمن کو نوابزادہ نصراللہ بننے کے لیے کیا کرنا ہوگا؟

اگرچہ مولانا فضل الرحمن عید کے بعد اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے حکومت مخالف تحریک چلانے کے لیے کوشاں ہیں تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمن موجودہ حالات میں نوابزادہ نصراللہ خان بننے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتے۔
کہنے کو تو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی بھی حکومت کے خلاف اِس وقت سب سے بڑی اپوزیشن موجود ہے جس میں پیپلزپارٹی، نواز لیگ اور جمعیت علماء اسلام شامل ہیں۔ یہ بھی ایک سچ ہے کہ کپتان حکومت چند ووٹوں کی اکثریت پر کھڑی ہے، لہذااگر اپوزیشن کی صفوں میں اتحاد ہو تو یہ حکومت کو دن میں تارے دکھا سکتے ہیں، مگر یہ اتحاد اب تک صرف دعووں کی حد تک ہے۔ گذشتہ دو برس میں یہی دیکھا گیا ہے کہ اپوزیشن رہنما بیٹھک کرتے ہیں، وعدے وعید ہوتے ہیں مگر عمل کے وقت سب جماعتوں کے اپنے اپنے مفادات اور مجبوریاں آڑے آ جاتی ہیں۔ کپتان کی زیر کمان چلنے والی نیب کا ایک ہلہ آتا ہے اور اپوزیشن تنکوں کی طرح بکھر جاتی ہے۔
ان حالات میں اگرچہ جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اس وقت اپوزیشن جماعتوں کو جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن وہ نوابزادہ نصراللہ والا کردار نبھانے سے قاصر ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نوابزادہ مرحوم تمام سیاسی جماعتوں کے لئے قابل احترام اور قابل قبول ہوا کرتے تھے کیونکہ وہ سکہ بند جمہوری سیاسی رہنما تھے۔ اس کے علاوہ نصر اللہ خان کبھی اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ بھی نہیں رہے جس وجہ سے وہ بغیر کسی لگی لپٹی کے دبنگ انداز میں اپوزیشن الائنس کی قیادت کیا کرتے تھے۔ اگرچہ مولانا موجودہ سیاسی تناظر میں نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم کا خلا پر کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان کی ساکھ نوابزادہ مرحوم جیسی ہرگز نہیں۔ سب جانتے ہیں کہ چند برس پہلے تک مولانا اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے تھے۔ اگرچہ چند ماہ قبل مقتدر حلقوں کی ناراضی مول لے کر انہوں نے تحریک انصاف حکومت کے خلاف آزادی مارچ کیا لیکن مطلوبہ نتائج نہ ملنے کی وجہ سے ان کی ساکھ اور سٹریٹجی پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے۔
علاوہ ازیں بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں جہاں پاکستان کو مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف کاروائیاں کرکے فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلنے کی فکر لگی ہوئی ہے، وہاں مولانا جیسا کٹر مذہبی اپوزیشن رہنما مقامی اسٹیبلشمنٹ کے عللاوہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے لئے بھی ناقابل قبول ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں اور اُن کے رہنماؤں میں اس قدر شدید نظریاتی اور ذاتی تضادات ہیں کہ انھیں جمہوری جدوجہد کے لیے ایک پلیٹ فارم پر لانا مشکل ترین کام ہے، مگر ماضی ہر نظر دوڑایئں تو نوابزادہ نصراللہ کی دانائی، کرشمہ سازی اور حکمت عملی کو داد دینی پڑتی ہے کہ وہ ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتے تھے۔ وہ طالع آزماوں اعر آمروں کے خلاف اتحاد بنانے کے فن کو جانتے تھے۔ ان کی وفات کے بعد آج تک کوئی برا سیاسی اتحاد نہیں بن سکا۔ ان کی زندگی کا آخری اتحاد بھی انتہائی شاندار تھا جس میں انہوں نے دو، دو مرتبہ وزیراعظم رہنے والے ایک دوسرے کے شدید مخالفین کو بھی مشرف آمریت کے خلاف اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا تھا۔
اگرچہ کہنے کو تو کپتان حکومت جمہوری ہے لیکن اپوزیشن کے خلاف مشرف دور سے بھی زیادہ سخت عمران ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ 40 سال سے زائد عرصہ سیاست میں گزارنے والے خود میں وہ خوبیاں کیوں پیدا نہیں ہو سکی جو نوابزادہ نصراللہ کی شخصیت میں تھیں؟
بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن ایک دن عہد جدید کے نوابزادہ نصراللہ ثابت ہوں گے اور وہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کر کے حقیقی جمہوریت کی بحالی کے لیے سڑکوں پر ہوں گے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ دور سے پہلے مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی سیاسی زندگی میں کبھی بھی اپوزیشن نہیں کی۔
بےنظیربھٹو شہید ہوں یا نواز شریف، آمر مشرف ہو یا کوئی اور، وہ ہر حکومت کا حصہ رہے ہیں۔ 2018 کے انتخابات میں انھیں تحریک انصاف کے امیدواروں نے شکست دی تو یہ بات برداشت کرنا ان کے لیے مشکل ہو گئی۔ ابھی کل کی ہی بات ہے صدر کے انتخابات کے موقعے پر وہ جدوجہد کر رہے تھے کہ اپوزیشن متفقہ امیدوار لائے۔ انھوں نے پیپلزپارٹی اور ن لیگ سے مذاکرات کیے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے دونوں سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول امیدوار تلاش کرتے مگر انھوں نے خود کو صدارتی امیدوار ڈیکلیئر کر دیا جس کی وجہ سے اپوزیشن تنکہ تنکہ ہو گئی۔
وقت نے ثابت کیا ہے کہ یہاں حکومت کے خلاف تحریک اس وقت کامیاب ہوتی ہے جب اپوزیشن رہنماؤں میں اخلاص ہو، وہ خود کو مقدمات سے بچانے اور عہدے حاصل کرنے کے لیے تحریک نہ چلائیں بلکہ عوام کے سیاسی حقوق دلوانے کے لیے جدوجہد کریں۔
بہت سے سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ن لیگ کی جینز میں ہی یہ بات شامل نہیں کہ وہ سڑکوں پر اپوزیشن کریں۔ ن لیگ کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ ڈرائنگ روم کی سیاست کی اور اقتدار میں آئی۔ مشرف آمریت کے خلاف نوابزادہ نصراللہ کی قیادت میں وہ جدوجہد کا حصہ تو بنی مگر نوازشریف انھیں بتائے بغیر جدہ روانہ ہو گئے تھے جس پر نوابزادہ نصراللہ کا یہ بیان میڈیا کی زنیت بنا کہ جمہوری جدوجہد کے لیے پہلی بار کسی تاجر سے ہاتھ ملایا اور میں خسارے میں رہا۔ یہ بھی ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ن لیگ کے صدر شبہاز شریف مقتدرہ کے ساتھ مل کر سیاست کرنے کے عادی ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن جب حکومت کے خلاف لانگ مارچ کر رہے تھے تو شبہاز شریف ملٹری ہاؤس کے سامنے بنگلوں کی لائن میں سے بنگلہ نمبر سات کے مکین کے ساتھ مذاکرات میں مشغول تھے۔ مولانا کے مارچ میں ن لیگ کی شرکت علامتی تھی۔ ادھر آصف زرداری کا خاندان بھی نیب کے کیسوں میں الجھا ہوا ہے اور پی پی پی بھی حکومت کو دباؤ میں لا کر ریلیف لینا چاہتی یے۔
یعنی نتیجہ یہ نکلا کہ اگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہاتھ صاف ہو اور حکومت کے پاس ان کی جھوٹی سچی کمزوریاں یا مجبوریاں نہ ہو تو ہی وہ نوآبادی نصراللہ بن سکتے ہیں۔ لالچ، طمع اور اقتدار کی ہوس سے کوسوں دور نوابزادہ نے زندگی بھر نہ تو کسی حکمران کو ملاقات کی درخواست دی اور نہ ہی کسی کو ان کی ایمانداری پر انگلی اٹھانے کی جرات ہو سکی۔ سیاست کے ذریعے مال کمانا، فیکٹریاں لگانا دور کی بات، وہ تو اپنی زمینیں بیچ کر سیاسی سفر کی مسافتوں کو طے کرتے رہے۔ لہذا اگر مولانا فضل الرحمان نوابزادہ نصراللہ کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے انہیں نوابزادہ کے طے کردہ اصول اپنانا ہوں گے۔
