مولانا فضل الرحمن کی بے تدبیری نے PDM کو کیسے توڑا؟


بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اپنی جماعت کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں شاہد خاقان عباسی کی جانب سے بھجوایا گیا شوکاز نوٹس پھاڑ کر پھینکنے کے اگلے روز پریس کانفرنس میں اپوزیشن اتحاد سے راہیں جدا کرنے کا باقاعدہ فیصلہ سنا دیا گیا جس سے عملی طور پر اپوزیشن اتحاد کا خاتمہ ہوگیا۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ چھ ماہ پہلے بننے والے اپوزیشن اتحاد کے خاتمے کی بنیادی وجہ مولانا فضل الرحمن کی بے تدبیری بنی کیونکہ انہوں نے بطور پی ڈی ایم سربراہ اتحادی جماعتوں میں بیلنس رکھنے کی بجائے نواز لیگ کے ساتھ مل کر پارٹی بازی شروع کر دی تھی جس سے یہ تاثر قائم ہوا کہ شاید وہ اتحاد کی سربراہی کے قابل ہی نہیں تھے۔ ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں یوسف رضا گیلانی کے اپوزیشن لیڈر بننے کے بعد لفظی جنگ شروع ہوئی تو مولانا نے بیماری کا بہانہ بنا کر گوشہ نشینی اختیار رکھی حالانکہ ان کا فرض تھا کہ وہ منظر عام پر آکر فائز فائٹنگ کرتے لیکن مولانا کی کمزوری کیوجہ سے روزبروز پھلتا پھولتا پی ڈی ایم اتحاد پری میچور موت کا شکار ہوگیا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگرچہ مولانا فضل الرحمٰن ذہین سیاست دان سمجھے جاتے ہیں لیکن بطور اپوزیشن اتحاد کے سربراہ وہ ایک اچھے حکمت ساز ثابت نہیں ہوئے۔ پی ڈی ایم بننے سے پہلے وہ اپوزیشن کی بڑی جماعتوں سے معاملہ فہمی کے بغیر تن تنہا اسلام آباد دھرنا دینے چلے گے جو بلاشبہ بے حد منظم اور پرامن تھا، مگر انہیں بڑی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے دھرنا نتائج حاصل کیے بغیر منسوخ کرنا پڑا۔ اسی طرح سیاسی بے تدبیری کا دوبارہ مظاہرہ اسوقت ہوا جب انہوں نے لانگ مارچ کو استعفوں کے ساتھ منسلک کر دیا، حالانکہ پیپلز پارٹی کی قیادت استعفے دینا نہیں چاہتی تھی اور اس کا اصرار تھا کہ سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لے کر حکومت کے لیے بڑا چیلنج پیدا کیا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں پی پی پی نے بڑی سیاسی مہارت سے یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ الیکشن کے میدان میں اتار کر اور حفیظ شیخ کو ہروا کر وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے پر مجبور کیا۔ یوں کپتان کے اقتدار کو پہلی بار انتہائی زوردار جھٹکا لگا۔ آصف زرداری کی حکمت عملی کی وجہ سے پی ڈی ایم نے کئی حیران کن کامیابیاں سمیٹیں مگر مولانا نے نواز لیگ کے ساتھ مل کر پیپلز پارٹی کو استعفے دینے کے لئے مجبور کرکے ساری گیم خراب کردی جس کے نتیجے میں پیپلزپارٹی مجبوراً اپوزیشن اتحاد سے الگ ہو گئی۔
یاد رہے کہ گیارہ اپریل کو پی پی پی کے سی ای سی اجلاس میں شاہد خاقان عباسی کا نوٹس پھاڑے جانے اور اس پر تالیاں بجانے کی خبرلیک ہونے کے بعد اگرچہ بعض اہم اپوزیشن شخصیات نے معاملہ ٹھنڈا کرنے کے لیے پیپلزپارٹی کی قیادت سے رابطہ کیا تاہم مولانا فضل الرحمن نے چپ کا روزہ نہ توڑا۔ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ مولانا کی اتحاد پر کمزور گرفت اور انکے ن لیگ کی بی ٹیم بننے کے تاثر نے پیپلز پارٹی اور اے این پی کے اعتماد کو متزلزل کر دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے اے این پی اور پھر پیپلز پارٹی نے بھی پی ڈی ایم کو خیر باد کہہ دیا۔ واضح رہے کہ بلاول کی جانب سے شوکاز نوٹس پھاڑنے کی خبر پر بجائے کہ نواز لیگ مصالحانہ رویہ اختیار کرتی، ن لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا۔ انکا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کے نوٹس پھاڑنے کا مطلب یہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے پی ڈی ایم سے اپنی وابستگی کو بھی ریزہ ریزہ کردیا ہے اور پھر اگلے ہی روز پیپلز پارٹی نے ن لیگ اور جے یو آئی کے رویے سے مایوس ہوکر اپوزیشن اتحاد سے راہیں جدا کرلیں۔
پیپلزپارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گیارہ اپریل کو بلاول نے پیپلزپارٹی کے اجلاس میں پی ڈی ایم کے سیکرٹری جنرل شاہد خاقان عباسی کا بھیجا گیا شوکاز نوٹس پڑھ کر سنایا اورجذباتی ہوگئے اس کے بعد انہوں نے شوکاز نوٹس کوپھاڑ کر پھینک دیا تھا جس پر شرکاء کی جانب سے تالیاں بجائی گئیں،بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم سیاست عزت کیلئے کرتے ہیں، اور بے عزتی برداشت نہیں کریں گے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی ارکان کا کہنا تھا کہ وہ نہ تو پارلیمانی فورم چھوڑیں گے اور نہ ہی استعفے دیں گے، انکا کہنا تھا کہ ہم کسی کے جماعت ماتحت نہیں، پی ڈی ایم جمہوریت مضبوط کرنے کیلئے بنائی تھی، کمزور کرنے کیلئے نہیں۔ بارہ اپریل کو پریس کانفرنس میں بلاول نے ن لیگ اور مولانا کو چیلنج دیا کہ اب وہ اسمبلیوں سے استعفے دے کر دکھائیں۔ یاد رہے کہ پیپلزپارٹی قیادت کو گلہ تھا کہ شاہد خاقان عباسی کی جانب سے پیپلز پارٹی اور اے این پی کو نوٹسز بھجوانا دراصل ن لیگ کا ایجنڈا مسلط کرنے کے مترادف ہے لہذا فیصلہ کیا گیا کہ ایسے بے وقعت شوکاز نوٹس کا کوئی جواب نہیں دیا جائے گا۔ جیالے رہنما سمجھتے ہیں کہ پی ڈی ایم کی بانی جماعت پیپلزپارٹی ہے جسے ن لیگ اور جے یو آئی نے ہائی جیک کرنے کی کوشش کی لیکن اس اقدام کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی۔
پی ڈی ایم کے قیام کے حوالے سے تجزیہ کار یاد دلاتے ہیں کہ 2018 کے عام انتخابات کے بعد سے صاحب اقتدار تحریک انصاف کی مایوس کن کارکردگی عوام پر بجلی بن کے گر رہی ہے۔ اس جاں کنی پر جب عوام کے اندر شدید بے چینی پیدا ہوئی، تو وزیراعظم کے ترجمانوں، مشیروں اور وزیروں نے یہ عذر تراشنا شروع کر دیا کہ اپوزیشن حکومت کے منصوبوں میں رخنے ڈال رہی ہے اور اکٹھے ہونے اور تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے۔ اس مستقل طعنہ زنی سے طیش میں آ کر بلاول بھٹو نے تمام اپوزیشن جماعتوں کے سربراہوں کو کھانے کی دعوت دی اور کئی گھنٹوں کے غوروخوص کے بعد پی ڈی ایم کے قیام کا اعلان ہوا۔ مولانا فضل الرحمٰن صدر جبکہ شاہد خاقان عباسی سیکرٹری جنرل چنے گئے۔ تب 26 نکات پر اتفاق ہوا تھا جن میں ملک بھر میں جلسے جلوس منعقد کرنا، اسلام آباد میں دھرنا دینا اور اسمبلیوں سے مستعفی ہو جانا جیسے انقلابی اقدامات شامل تھے۔ پی ڈی ایم نے پورے ملک میں بڑے بڑے جلسے کیے اور کرونا کے باوجود عوامی تحریک زور پکڑنے لگی۔ ایسے میں حکمرانوں کو احساس ہوا کہ ہم بہت بڑی سیاسی بے تدبیری کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اسی دوران ریاستی اداروں کے اندر بھی یہ سوچ ابھرنے لگی کہ عمران نے حقیقی تبدیلی لانے، عوام کی مشکلات دور کرنے اور پاکستان کو معاشی طور پر مستحکم بنانے کے جو وعدے کیے تھے، ان میں عملیت کا عنصر ناپید ہے۔ فوی اسٹیبلشمنٹ نے یہ بھی محسوس کیا کہ کابینہ میں شامل پچاس سے زائد وزرا اور مشیروں میں بھی کوئی صلاحیت ہے نہ کوئی وژن، چنانچہ ان پر نا اہلی، بددیانتی اور مافیاؤں کی سرپرستی کے تازیانے برسنے لگے۔ پی ڈی ایم یکے بعد دیگرے کامیابیاں سمیٹ رہی تھی کہ یوسف رضا گیلانی سینیٹ چیئرمین کے معرکے میں تکنیکی طور پر ہرا دیئے گئے جس کے بعد پیپلز پارٹی نے سنگل لارجسٹ پارٹی کے اصول پر انہیں اپوزیشن لیڈر مقرر کروادیا۔ اس واقعے کو بنیاد بناتے ہوئے ن لیگ نے پیپلزپارٹی کو نشانے پر رکھ لیا اور مولانا فضل الرحمن اتحاد کے سربراہ ہونے کے باوجود ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے اور پیپلزپارٹی کو مستعفی ہونے کا چیلنج دے ڈالا یوں معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچنے کے بعد بالآخر بارہ اپریل کو بلاول نے باضابطہ طور پر پی ڈی ایم سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔
کراچی میں پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی طرف سے استعفوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کو شو کاز نوٹس بھیجنے پر احتجاجاً ان کی پارٹی پی ڈی ایم کے تمام عہدوں سے مستعفیٰ ہو گی۔ بلاول کے مطابق ان کی جماعت پی ڈی ایم کی طرف سے دیے گئے شوکاز نوٹس کو مسترد کرتی ہے۔ ان کے مطابق سیاست اور بالخصوص اتحاد کی سیاست عزت اور برابری کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس شوکاز نوٹس کی کوئی تُک نہیں تھی اور نہ ہی ایسی کوئی روایت ہے کہ شوکاز نوٹس دیے جائیں۔ اب جو استعفی دینا چاہتے ہیں وہ استعفی دیں مگر اپنا کوئی بھی فیصلہ ہم پر مسلط نہ کریں۔
بلاول نے کہا کہ ہم اے این پی کے ساتھ ہیں اور آئندہ تمام فیصلے باہمی بات چیت سے کریں گے۔ ہمارے دروازے ہر اس پارٹی کے لیے کھلے ہیں جو اس حکومت کو گرانا چاہتی ہے اور حقیقی اپوزیشن کرنا چاہتی ہے۔ ہم حکومت کے خلاف حقیقی اپوزیشن کرتے رہیں گے۔‘ شوکاز نوٹس دینے پر انھوں نے پی ڈی ایم سے پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی سے غیر مشروط معافی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے لانگ مارچ کو استعفیوں سے نتھی کر کے ایک سازش کے تحت نقصان پہنچایا گیا۔ ’استعفیٰ ٹائم بم ہیں، یہ آخری ہتھیار ہیں اور ہم اپنے اس موقف پر قائم ہیں۔ ہمارا یہ تاریخی موقف درست ثابت ہوا، ضمنی انتخابات میں حکومت کو ایکسپوز کیا گیا دنیا نے دیکھا کہ عوام اپوزیشن کے ساتھ ہے حکومت کے ساتھ نہیں۔‘ بلاول کا کہنا تھا کہ ’ہم نے حکومت کو نہ پہلے بیٹھنے دیا نہ آئندہ بیٹھنے دیں گے۔ جس کو استعفیٰ دینا ہے دے، مگر کسی دوسری پارٹی کو ڈکٹیٹ نہ کرے۔ پنجاب میں سینیٹ کی پانچ سیٹیں پی ٹی آئی کو دی گئیں تو کسی کو شوکاز نوٹس نہیں دیا گیا۔‘ بلاول کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم اپوزیشن کے خلاف اپوزیشن کی سیاست نہیں کرنا چاہتے ہیں اور ایسی سیاست کی مخالفت کریں گے۔ دوسری جماعتوں کے کہنے پر اگر الیکشن کا بائیکاٹ کرتے تو تحریک انصاف تمام سیٹیں جیت جاتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button