مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی کی ڈپٹی کمشنر تعیناتی پر ہنگامہ کیوں؟

پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت کی جانب سے جمیعت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے چھوٹے بھائی ضیا الرحمٰن کو کراچی میں ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی تعینات کرنے پر نئی سیاسی بحث چھڑگئی ہے۔
سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق ضیا الرحمٰن کو فرحان غنی کی جگہ ڈی سی سینٹرل تعینات کیا گیا جس کے بعد صوبے کی حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے سخت اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔
ان اعتراضات کے جواب میں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ حکومت کے سینئر عہدیدار نے نام نہ بتانے کی شرط پر بات کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ دراصل وفاق کی جانب سے ضیا الرحمٰن کو ڈیپوٹیشن پر سندھ بھیجنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ افسران کو صوبے میں جہاں چاہیں تعینات کریں۔
ضیا الرحمٰن جمیعت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے چھوٹے بھائی ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کے کل پانچ بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ بھائیوں میں سب سے بڑے خود مولانا فضل الرحمٰن ہیں، ان کے بعد عطا الرحمٰن، پھر لطف الرحمٰن، اس کے بعد ضیا الرحمٰن اور سب سے چھوٹے بھائی کا نام عبید الرحمٰن ہے۔
دستاویزات کے مطابق ضیا الرحمٰن ستمبر 2007 سے قبل صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان ٹیلی کمیونیکشن لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) میں گریڈ 17 کے ملازم تھے اور انہیں اس وقت وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اکرم خان درانی نے ڈپیوٹیشن پر ایڈیشنل کمشنر افغان مہاجرین تعینات کر رکھا تھا۔
ستمبر سنہ 2007 میں اس وقت کے گورنر خیبرپختونخوا على محمد جان اوركزى نے خصوصی احکامات جاری کرتے ہوئے ضیا الرحمٰن کو پراونشل سول سروس میں ضم کرنے کے احکامات جاری کیے۔
ستمبر سنہ 2007 میں اس وقت کے گورنر خیبرپختونخوا على محمد جان اوركزئی نے خصوصی احکامات جاری کرتے ہوئے ضیا الرحمٰن کو پراونشل سول سروس میں ضم کرنے کے احکامات جاری کیے۔ جس کے بعد انہیں پراونشل منیمجمنٹ سروس میں گریڈ 17 میں تعینات کیا گیا۔
ضیا الرحمٰن صوبہ پنجاب میں بھی مختلف عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں۔ سنہ 2018 میں خیبر پختونخوا حکومت نے انہیں او ایس ڈی بنا دیا اور دستاویزات کے مطابق وفاق نے جنوری 2020 میں ضیا الرحمٰن کو سندھ بھیجنے کا حکم نامہ جاری کیا تھا۔ وفاقی حکومت کے نوٹی فکیشن کے مطابق ضیا الرحمٰن کی خدمات ڈیپوٹیشن پر سندھ کو دی گئیں۔ سندھ حکومت نے حال ہی میں انہیں تاحکم ثانی ڈپٹی کمشنر وسطی تعینات کیا ہے۔ جب کہ سابق ڈی سی وسطی فرحان غنی کا تبادلہ کر کے انہیں ایڈیشنل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ تعینات کر دیا گیا ہے۔
صوبہ سندھ کی اپوزیشن جماعتوں نے اس تعیناتی پر پیپلز پارٹی کو مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ سیاسی تعلقات بڑھانے کے عوض ’سیاسی رشوت‘ قرار دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف سندھ کے رہنما اور صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ اقدام سندھ حکومت کی منافقت کو ظاہر کرتا ہے۔ ’ایک طرف سندھ حکومت صوبے میں صوبائی ڈومیسائل پر غیر قانونی نوکریوں کے معاملے کی تحقیقات کرنے کا دعویٰ کرتی ہے تو دوسری جانب لوگوں کو دیگر صوبوں سے لا کر سیاسی مفادات کے لیے تعینات کیا جاتا ہے۔‘
صوبہ سندھ کی اپوزیشن جماعتوں نے اس تعیناتی پر پیپلز پارٹی کو مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ سیاسی تعلقات بڑھانے کے عوض ’سیاسی رشوت‘ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضیا الرحمٰن ڈی ایم جی گروپ سے نہیں بلکہ پراونشل مینجمنٹ سروس (پی ایم ایس) سے تعلق رکھتے ہیں اور ابھی تک ایسا نہیں ہوا کہ پی ایم ایس کے کسی افسر کی بین الصوبائی تعیناتی ہوئی ہو۔
ادھر متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما فیصل سبز واری نے اس حوالے سے اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ’اس تعیناتی پر اعتراضات کی کئی وجوہات ہیں جن میں پہلی وجہ یہ ہے کہ اس وقت سندھ میں بلدیاتی نظام حکومت کی مدت ختم ہونے جا رہی ہے اور غالب امکان یہ ہے کہ سندھ حکومت ماضی کی طرح ان من پسند ڈپٹی کمشنرز کو ایڈمنسٹریٹرز کا بلدیاتی چارج دے گی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے تحفظات یہ ہیں کہ سیاسی بنیادوں پر ڈپٹی کمشنرز کی تعیناتیوں کے باعث سندھ حکومت نے گذشتہ دس برس کے دوران تمام ترقیاتی کام ان کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں سے کروائے ہیں۔
انہوں نے منتخب بلدیاتی حکومتوں کو کراچی اور حیدرآباد سے دور رکھا اور آگے بھی پیپلز پارٹی ایسا ہی ارادہ رکھتی ہے۔ سندھ حکومت کے سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’یہ اپوزیشن والے جو مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ تعلقات میں بہتری کےلیے ان کے بھائی کو نوازنے کی بات کرتے ہیں یہ بے بنیاد ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ماضی میں بھی اور اب بھی افسروں کی ڈپیوٹیشن پر بین الصوبائی تعیناتیاں ہوتی ہیں، ضیا الرحمٰن پہلے پنجاب میں بھی خدمات سرانجام دے چکے ہیں تب شور کیوں نہیں مچا تھا۔‘ وفاقی حکومت کے نوٹی فکیشن کے مطابق ضیا الرحمٰن کی خدمات ڈیپوٹیشن پر سندھ کو دی گئیں۔ اس حوالے سے جب تحریک انصاف کے فردوس شمیم نقوی سے سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ وفاق سے ضیا الرحمٰن کی خدمات لینے سے انکار کر دیتے۔‘
جب کہ ایم کیو ایم کے رہنما فیصل سبزواری نے کہا کہ ‘وفاق کو بھی ایسے فیصلے کرتے وقت سوچنا چاہیے اور دوسرا سندھ حکومت نے ان کو ایم کیو ایم کے گڑھ ضلع وسطی میں ہی کیوں تعینات کیا؟ انہیں لاڑکانہ، خیرپور یا اندرون سندھ کہیں تعینات کر دیتی، اس سے حکومت کی بددیانتی واضح ہوتی ہے۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کے بھائی ضیا الرحمٰن کو کراچی کے ضلع وسطی کا ڈپٹی کمشنر لگائے جانے پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رہنما کنور خالد یونس نے ٹویٹ کرتے ہوئے اس تعیناتی کو آصف علی زرداری اور اسٹیبلشمنٹ کی ایم کیو ایم کے خلاف سیاسی سازش قرار دیا۔
اکثر صارفین سوال اٹھاتے رہے کہ کیا یہ تعیناتی غیر قانونی ہے اور اس کا مولانا فضل الرحمٰن کی پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت سے کیا تعلق ہے۔
اس کے علاوہ صارفین کی جانب سے آئندہ بلدیاتی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے بھی اس تعیناتی پر سوال اٹھائے گئے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’پیپلز پارٹی نے ابھی سے فیلڈنگ سیٹ کرنا شروع کر دی۔‘
