مولانا نے آخری لمحے میں عمران سے اتحاد نہ کرنے کا فیصلہ کیوں کیا ؟

مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن اور مزاحمت کیلئے پی ٹی آئی کو جھنڈی دکھا کر اتحادی سیاست کو خیرباد کہتے ہوئے سولو فلائٹ کا فیصلہ کیا ہے۔مولانا نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنی سٹریٹ پاور سے اتحادیوں کو طاقت نہیں دیں گے مولانا اتحادوں کی سیاست سے اس سطح تک مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں کہ ماضی قریب کی اتحادی سیاست کے حوالے سے یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ نہ تو ہم مزید کسی کو شرمندہ کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی خود ہونا چاہتے ہیں، تاہم وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مختلف ایشوز پر دیگر سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے بعد اتحاد ہوسکتا ہے۔

مبصرین کے مطابق مولانا فضل الرحمان جو موجودہ اسمبلیوں کو فروخت شدہ اور خریدی ہوئی اسمبلیاں قرار دیتے آئے ہیں اور آج بھی اپنے اس موقف پر قائم ہیں، اسی موقف کی بنیاد پر انہوں نے اسمبلیوں کےبائیکاٹ کا فیصلہ کیا تھا تاہم اب ان کا کہنا ہے کہ ہم پارلیمنٹ کے اندر بھی اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔ تاہم مولانا پارلیمنٹ لے اندر یا اسمبلیوں کے باہر پی ٹی آئی پر بھی اعتماد کرنے پر تیار نہیں اس لئے انھوں نے تنہا میدان میں نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ منگل کو انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں مقامی میڈیا سے جو گفتگو کی ہے وہ اس صورتحال کی غمازی کرتی ہے کہ بادی النظر میں انہوں نے رواں ماہ کے آغاز پر پیش آنے والی اہم گرفتاریوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کی روشنی میں کچھ اعلانیہ اور غیر اعلانیہ فیصلے کر لئےہیں۔ اسی بنیاد پر انھوں نے تنہا احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح پاکستان تحریک انصاف سے ان کی اتحادی سیاست کا باب تو ختم ہوچکا ہے اور اس ضمن میں انہوں نے اسد قیصر کی سربراہی میں جو کمیٹی بنائی تھی وہ بھی غیر فعال ہو گئی ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف اور جمعیت علمائے اسلام کے درمیان بداعتمادی کی فضا برقرار ہے اسی وجہ سے مولانا پی ٹی آئی کے ساتھ چلنے پر آمادہ نہیں ۔ذرائع کے مطابق جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ قیادت کے درمیان ایک دوسرے پر اعتماد کے فقدان کے باعث آگے بڑھنے اور اپوزیشن اتحاد میں شمولیت پر تاحال ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان پاکستان تحریک انصاف  کی موجودہ قیادت کے متضاد بیانات، خیبر پختونخوا حکومت کی پالیسیوں اور عمران خان کا واضح مؤقف سامنے نہ آنے کی وجہ سے اپوزیشن اتحاد میں فوری شمولیت اختیار کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جے یو آئی ف کی قیادت خیبر پختونخوا حکومت کے قبائلی اضلاع کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مؤقف سے بھی خوش نہیں ہیں اس کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف کے قائدین کی جانب سے متضاد بیانات بھی ڈیڈ لاک کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ جے یو آئی ف کے سربراہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کے کردار سے متعلق متضاد مؤقف پر بھی ناخوش ہیں۔

 مولانا فضل الرحمان سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کے قائدین میں سے کوئی اسٹیبلشمنٹ سے تو کوئی سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کی بات کرتا ہے، اس لیے پی ٹی آئی کی پالیسی واضح نہیں ہے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ محمود خان اچکزئی بھی مولانا فضل الرحمان کو منانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن اس وقت تک مولانا فضل الرحمان نے علیحدہ سے سیاسی تحریک شروع کرنے کا ہی فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم اور بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے مولانا فضل الرحمان کو پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کا ٹاسک اپنی سیاسی قیادت کو سونپ رکھا ہے۔اس حوالے سے دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے متعدد دور بھی ہو چکے ہیں، لیکن ایک دوسرے کے خلاف سیاسی بیان بازی کے سیز فائر کرنے سے آگے بات نہیں بڑھ سکی ہے۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف میں بھی ایک گروپ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ اتحاد کرنے کا حامی نہیں تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان رابطوں کا سلسلہ تو جاری رہے گا لیکن مولانا فضل الرحمان فوری طور پر پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر حکومت کیخلاف تحریک چلانے کی بجائے سولو فلائٹ ہی لینگے۔

Back to top button