مولانا نے ہاتھ ملاتے ہی عمرانی عادتیں اپنانا شروع کر دیں

عمران خان سے ہاتھ ملاتے ہی مولانا فضل الرحمن نے ان کی عادات اپنانا شروع کر دی ہیں۔ عمران خان کو یو ٹرن کہنے والے مولانا ڈیزل نے اب خود یوٹرن مارتے ہوئے قرار دیا ہے کہ تحریک عدم اعتماد میں جنرل فیض بارے ان کا بیان غلط تھا اور جنرل فیض کا نام غلطی سے ان کے منہ سے نکل گیا تھا۔خیال رہے کہ اپنے ایک انٹرویو میں جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا تھا کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے پیچھے جنرل باجوہ اور جنرل فیض تھے‘ تاہم اب انھوں نے سارا الزام سابق آرمی چیف جنرل باجوہ پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ روز جنرل فیض کا نام غلطی سے میری زبان پر آگیا تھا۔ حالانکہ اس میٹنگ میں جنرل فیض کی بجائے جنرل ندیم انجم موجود تھے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیاسی ماحول میں ہونے والی نشستوں اور ایونٹس میں مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے درمیان مفاہمت کے فیصلے اور یوٹرن پر دلچسپ حوالوں سے بھی تبصرہ کیا جارہا ہے۔ مولانا کے غلطی کھ اعتراف بارے ایک سوال کھ جواب میں پیپلز پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ یہ اس سلسلے میں نہ تو مولانا صاحب کی پہلی غلطی ہے اور نہ ہی پہلا اعتراف آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔ ما شاد اللہ پی ٹی آئی سے محض اڑتالیس گھنٹے کی رفاقت کے بعد حضرت صاحب نے یو ٹرن لینے کی عادت سیکھ لی ہے۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن نے ان حالیہ بیانات سے اپنے خلاف پی ٹی آئی کی نفرت کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ’انہوں نے ان بیانات سے اپنے آپ کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے لیکن حقیقت مولانا صاحب کے بیانات کے بالکل برعکس ہے۔‘سہیل وڑائچ کے مطابق جنرل فیص حمید تو عمران خان کو پسند کرتے تھے لہذٰا ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے فیورٹ کو نکالنے کے لیے عدم اعتماد کا حصہ بنتے، اس کے علاوہ جنرل باجوہ بھی عدم اعتماد کے حق میں نہیں تھے۔سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ جنرل باجوہ اور فیض حمید دونوں کی جانب سے ہی ان بیانات کی ترید کی جا چکی ہے۔ ’یہ تو دوسری لابی تھی جو عمران خان کو مزید اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی لیکن مولانا صاحب نے اس لابی کا ذکر نہیں کیا، انہیں اس لابی کا ذکر کرنا چاہیے تھا۔‘
دوسری جانب سینئر صحافی اور تجزیہ کار طلعت حسین نے مولانا صاحب کے ان بیانات کو حقیقت کے پس منظر میں دیکھنے پر زور دیا تاکہ ا ان کے بیانات کی سچائی کو پرکھا جاسکے، ان کے مطابق عدم اعتماد کے آغاز سے میٹنگز اور اس سارے کیلنڈر کو دیکھیں تو بہت سی چیزیں واضح ہو جاتی ہیں۔طلعت حسین کا کہنا تھا کہ ایسا بھی ممکن ہے کہ مولانا صاحب کو کوئی غلط فہمی ہو گئی ہو، یا پھر وہ کہنا کچھ اور چاہتے ہوں اور کہہ کچھ اور دیا ہو۔ ’۔۔۔لیکن مولانا صاحب سے غلط فہمی ہوتی نہیں ہے، جہاں تک بات یہ ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ تو ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ایک سگنل دیا ہے کہ انہیں سب معلوم ہے۔‘طلعت حسین کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن نے خود کو ’اینٹی اسٹیبلشمنٹ‘ بتاتے ہوئے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ سیاسی طور پر اگر کسی نے انہیں ’سائیڈ لائن‘ کرنے کی کوشش کی تو وہ سب کا بھانڈا پھوڑ دیں گے۔
طلعت حسین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد سے مولانا صاحب کی عزت پر مزید دھبہ لگے گا کیونکہ ماضی میں وہ عمران خان اور پی ٹی آئی کو یہودی جماعت کہتے رہے ہیں اور عمران خان بھی ان کو مختلف القابات سے نوازتے رہے ہیں۔’اس سے مولانا صاحب کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ اور یہ دانشمندی بھی نہیں ہے۔ باقی پی ٹی آئی نے جو کچھ حاصل کرنا تھا وہ انتخابات میں کر چکے ہیں۔‘
تجزیہ کار ماجد نظامی کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کے بیانات سیاسی منظر پر ہلچل ضرور مچائیں گے کیونکہ عمران خان کے بعد ایک دوسرے بڑے قومی رہنما کی جانب سے سابقہ اسٹبلشمنٹ پر واضح تنقید کی گئی ہے، اس لیے ان بیانات کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔’۔۔۔البتہ واقعات کی ٹائم لائن اور سابقہ اسٹبلشمنٹ کے ذمہ داران کے کردار کے حوالے سے مزید مستند معلومات کا سامنے آنا ضروری ہے، بظاہر ان بیانات سے مولانا فضل الرحمن کو فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ جے یو آئی اور پی ٹی آئی کا اتحاد قومی اسمبلی اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں کوئی واضح تبدیلی نہیں لا سکے گا۔ماجد نظامی کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کو پہلے ہی اکثریت حاصل ہے جبکہ قومی اسمبلی میں بھی دونوں جماعتوں کے اتحاد سے کوئی بڑا فرق نہیں پڑ سکے گا کیونکہ حکومت ہی نہیں بن پائے گی۔
