مولانا کے دورہ افغانستان سے پاکستان کو کیا ملے گا؟

کابل اور اسلام آباد میں کشیدہ صورت حال کے درمیان جعمیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن افغانستان کے دورے پر ہیں، مولانا کی افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ سے ملاقات کو سیاسی تجزیہ کار اہم قرار دے رہے ہیں کیونکہ طالبان کے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ملا ہیبت اللہ کی کسی بھی بیرونی رہنما سے یہ دوسری ملاقات ہے، اس لیے پاکستان میں کئی حلقے اس دورے کو بہت اہمیت دے رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ مولانا کے دورے سے دونوں ممالک میں تعلقات بہتر ہوں گے۔
واضح رہے کہ جب سے افغان طالبان دوبارہ سے بر سر اقتدار آئے ہیں کالعدم ٹی ٹی پی کے حملوں میں کئی گناہ اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ان حملوں میں کچھ افغان شہری بھی ملوث پائے گئے ہیں جبکہ کابل ٹی ٹی پی کو پاکستان کا اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے۔ تاہم دونوں عسکریت پسند گروہوں میں نظریاتی رشتہ ہے اور دونوں نے ایک دوسرے کی متعدد مواقع پر مدد کی ہے۔
خیال کیا جاتا کہ افغان طالبان رہنما اور کمانڈرز کے جے یو آئی ایف کے رہنماؤں کے ساتھ اچھے مراسم ہیں۔ شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسند کمانڈر حافظ گل بہادر جے یو آئی ایف کی طلبا ونگ کے رہنما رہ چکے ہیں اور ان کے حقانی نیٹ ورک اور دوسرے افغان رہنماؤں سے بھی بہت قریبی مراسم ہیں۔
پاکستان اور افغانستان میں عسکریت پسندی پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار احسان اللہ ٹیپو محسود کا کہنا ہے کہ فضل الرحمن کو افغانستان میں ملنے والا استقبال بہت اہمیت کا حامل ہے۔طالبان کے سپریم رہنما نے اس سے پہلے صرف قطر کے وزیر اعظم سے ملاقات کی ہے اور اس کے بعد فضل الرحمن سے ان کی ملاقات بہت اہمیت کی حامل ہے۔ یہ ملاقات ظاہر کرتی ہے کہ کابل مولانا فضل الرحمن کو کتنی زیادہ سنجیدگی سے لیتا ہے۔‘‘
احسان اللہ ٹیپو محسود کے مطابق مولانا کے دورہ افغانستان کے مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ ”یقیناً نتائج میں تھوڑا وقت لگ سکتا ہے لیکن اسلام آباد اور ٹی ٹی پی کے درمیان افغان طالبان کی مداخلت پر جنگ بندی ہوسکتی ہے اور بعد میں معاملات مزید آگے بھی بڑھ سکتے ہیں۔‘‘
کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ افغان طالبان پاکستان سے ”کچھ دو اور کچھ لو‘‘ کے اصول پر کام کریں گے۔ واضح رہے کہ افغان طالبان ماضی میں سرحدی تجارت، سرحدی باڑھ اور افغان مہاجرین کے حوالے سے پاکستانی پالیسی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرچکے ہیں۔ بین الاقوامی امور کی ماہر ڈاکٹر طلعت اے وزارت کے خیال میں پاکستان چاہتا ہے کہ کابل ٹی ٹی پی کو کنٹرول کرے۔ ”لیکن افغان طالبان آسانی سے پاکستان کے مطالبات نہیں مانیں گے۔ کابل چاہے گا کہ پاکستان سرحدی تجارت، سرحدی باڑھ اور افغان مہاجرین کے حوالے سے اپنی پالیسی میں تبدیلی لائے۔‘‘
طلعت اے وزارت اس دورے کو ملکی انتخابات کے تناظر میں بھی دیکھتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کے پی میں دہشت گردانہ حملے جاری ہیں۔ ”اس میں زیادہ تر حملے جے یو آئی ایف پر نہیں ہوئے لیکن اگر ٹی ٹی پی کے حملے کے پی میں جاری رہتے ہیں، جہاں فضل الرحمن سیاسی طور پر بہت طاقتور ہیں، تو وہاں ان کو انتخابی مہم چلانے میں بہت پریشانی ہوگی۔‘‘طلعت اے وزارت کے مطابق حملے اگر جے یو آئی ایف پر نہیں بھی ہوتے تو پھر بھی ان سے خوف کا ماحول پیدا ہوگا۔ ”اور ایسے ماحول میں مولانا کیسے انتخابی مہم چلا سکیں گے۔‘‘
