موٹروے ریپ کیس:12 روزبعد بھی مرکزی ملزم عابد گرفتار نہ ہو سکا

موٹروے ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابدعلی کی گرفتاری پولیس کے لئے ٹیسٹ کیس بن گئی ہے، ملزم عابد کی گرفتاری پر 25 لاکھ روپے انعام کے ساتھ اشتہاری مہم بھی جاری ہے، جب کہ ملزم کا پورا خاندان بھی حراست میں لے لیا گیا ہے تاہم 12 روز گزر جانے کے باوجود بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی۔ مرکزی ملزم کی عدم گرفتاری نے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی کارکردگی کی قلعی کھول دی ہے.
پولیس ذرائع کے مطابق سانحہ گجر پورہ کے مرکزی ملزم عابد نے شناخت چھپانے کیلئے حلیہ بدلنے کی بجائے ایک نیا طریقہ اختیار کر لیا ہے، ملزم فیس ماسک کے استعمال سے باآسانی ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے لگا، شہری، پولیس سیف سٹی کے جدید کیمرے بھی ملزم کی شناخت کرنے میں ناکام ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق سانحہ گجر پورہ کے مرکزی ملزم عابد علی نے گرفتاری سے بچنے کیلئے ایک نئی حکمت عملی اختیار کرلی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم عابد علی اب فیس ماسک کا استعمال کر کے شناخت چھپا رہا ہے۔ فیس ماسک کی وجہ سے شہری اور پولیس ملزم کو پہچاننے سے قاصر ہیں۔ملزم عابد علی نے کرونا وائرس ضوابط کا فائدہ اٹھا کر فیس ماسک کے استعمال سے پولیس کو چکما دینا شروع کر دیا ہے۔سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ملزم کی شناخت کی کوششیں کی گئی ہیں تاہم فیس ماسک کی وجہ سے کسی بھی شہری کی شناخت کرنا بہت مشکل ہے۔
دوسری جانب سانحہ گجر پورہ کو کئی روز گزر جانے کے باوجود ملزم عابد علی کو گرفتار کرنے میں ناکامی کے بعد پولیس نے ملزم کی گرفتار کیلئے پمفلٹ تیار کرلیا ہے۔ پمفلٹ میں گرفتاری میں مدد دینے والوں کےلیے 25 لاکھ کا انعام بھی درج ہیں۔ پولیس نے عابد علی کے 2 متوقع حلیہ جات کی تصاویر بھی پمفلٹ پر لگا دیں اور گرفتاری کی اطلاع کے لیے 2 موبائل نمبرز بھی جاری کئے ہیں۔پمفلٹ پر ایس پی سی آئی اے لاہورعاصم افتخار اور ڈی ایس پی حسنین حیدر کے نمبردرج کیے گئے ہیں۔ مرکزی ملزم کی گرفتاری کیلئے ایک مراسلہ بھی جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملزم درباروں، مزاروں ، مساجد ،امام بارگاہوں میں روپوش ہوسکتاہے۔ پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ ملزم کوعرس، سرکس سمیت دیگر عوامی مقامات پرتلاش کیا جائے۔جبکہ دوسری طرف موٹروے زیادتی کیس کے گرفتار ملزم شفقت کی شناخت پریڈ نہیں ہوسکی اور نہ ہی تاحال متاثرہ خاتون کا بیان ریکارڈ ہوا ہے۔
موٹروے زیادتی کیس میں پولیس تفتیش نقائص کا شکار ہے اور تاحال کیس کے مرکزی ملزمان میں سے گرفتار ملزم شفقت کی شناخت پریڈ نہیں ہوسکی اور نہ ہی تاحال متاثرہ خاتون کا بیان ریکارڈ ہوا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم شفقت 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور جوڈیشل ریمانڈ تک شناخت پریڈ کرانا لازم ہے، تاہم متاثرہ خاتون کے عدم تعاون سے تفتیش سرد مہری کا شکار ہے۔
خیال رہے کہ گجر پورہ کے علاقے میں موٹروے پرانسانیت سوز واقعہ سامنے آیا تھا۔ گوجرانوالہ کی رہائشی ثنا نامی خاتون اپنی بہن سے ملنے کے لیے لاہور آئی تھیں۔ واپسی کے دوران ثنا کی کار کا پیٹرول ختم ہوگیا، انہوں نے اپنے عزیز سردار شہزاد کو اطلاع کردی اور وہ مدد کے انتظار میں گاڑی سے اتر کر کھڑی ہوگئیں۔اس دوران دو مشکوک افراد خاتون کی جانب آئے، جنہیں دیکھ کرخاتون اپنے بچوں کے ساتھ گاڑی میں محصورہوگئی ۔ ڈاکوؤں نے خاتون کو شیشے کھولنے کے لیے کہا جب خاتون نے شیشے نہ کھولے تو ڈاکوؤں نے شیشے توڑ کر گن پوائنٹ پر اس کو گاڑی سے اتار کر کیرول گھاٹی میں واقع کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کرتے رہے۔ذرائع کے مطابق ڈاکوؤں نے خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ بعد ازاں خاتون کی حالت غیر ہونے پر دونوں خاتون کو وہیں پر چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ ڈاکو خاتون سے ایک لاکھ نقدی ، 2 تولے طلائی زیورات، ایک عدد برسلیٹ، گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ اور 3 اے ٹی ایم کارڈز لے کر فرار ہو گئے۔
خاتون کا عزیز سردار جب گاڑی کے پاس پہنچا تو خاتون وہاں سے غائب تھی اور گاڑی کے شیشے کیساتھ خون لگا ہوا تھا ۔ خاتون کے عزیز نے خاتون کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو کرول گھاٹی کے جنگل کے پاس خاتون گاڑی کی طرف آتی ملی جس پر خاتون نے روتے ہوئے اپنے عزیز کو ساری بات کے بارے میں آگاہ کیا۔واقعے کی اطلاع ملنے پر فرانزک اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ۔ پولیس نے خاتون کے رشتہ دار سردار شہزاد کے بیان پر مقدمہ درج کرکے سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے ۔خاتون کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بھی زیادتی ثابت ہوگئی ہے، جس کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی آئی اے اور انوسٹی گیشن کی مشترکہ ٹیم کام کر رہی ہے۔ تاہم ابھی تک مرکزی ملزم چار دفعہ پولیس کو چکمہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہو چکا ہے.
