موٹروے ریپ کے مفرور ملزم نے عمر شیخ کی نااہلی کا پول کھول دیا

https://www.youtube.com/watch?v=spuGwgZR1w4
دو ہفتے گزر جانے کے باوجود لاہور پولیس کی جانب سے موٹروے ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابد علی کو گرفتار کرنے میں ناکامی نے لاہور کے نئے سی سی پی او عمر شیخ کی نا اہلی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ تاہم نہ تو وزیراعظم اور نہ ہی وزیر اعلی پنجاب سینٹرل سلیکشن بورڈ کی طرف سے داغدار کیریئر کا حامل افسر قرار دیے جانے والے بدنام زمانہ سی سی پی او عمر شیخ کی فوری برطرفی کے مطالبہ کے پر کان دھرنے کو تیار ہیں۔
عمر شیخ کی زیر قیادت لاہور پولیس کی نااہلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ موٹر وے ریپ کیس کا مرکزی ملزم عابد علی چار مرتبہ چار مختلف جگہوں پر پولیس کے گھیرے میں آیا لیکن ہر دفعہ پولیس کو چکمہ دے کر نکل گیا۔ ابھی تک کی پیش رفت کے مطابق اس کیس میں ملوث دو میں سے ایک ملزم شفقت کو گرفتار کیا جا چکا ہے جو اس وقت 14 روزہ جوڈیشیل ریمانڈ پر جیل میں ہے جبکہ مرکزی ملزم عابد ابھی تک پولیس کی گرفت میں نہیں آسکا ہے۔ تاہم پولیس کی جانب سے مسلسل یہی کہا جا رہا ہے کہ ان کی مختلف ٹیمیں اس کی گرفتاری کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔ عابد ایک عادی مجرم ہے اور اس سے پہلے بھی یہ کئی وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ 2013 میں بھی اس نے دوران ڈکیتی ایک ریپ کیا تھا۔ آئی جی پنجاب انعام غنی کے مطابق جب پولیس کو مفرور ملزم کی لوکیشن کے بارے میں پہلی اطلاع ملی تو عابد قلعہ ستار شاہ میں اپنی بیوی اور گھر والوں کے ساتھ موجود تھا۔ پولیس کے اہلکار سادہ کپڑوں میں اور گاڑیوں میں جیسے ہی اُس جگہ پہنچے تو ملزم اور اس کی بیوی انھیں دیکھ کر وہاں سے فرار ہو گئے۔ تاہم پولیس نے ملزم کی بیٹی کو اپنی تحویل لے لیا۔
آئی جی پنجاب کے اس بیان پر صحافیوں کی جانب سے کئی سوالات کیے گئے، جیسا کہ ملزم کے لیے پولیس کی موجودگی کے باوجود فرار ہونا اتنا آسان کیوں تھا اور اطلاع ملنے پر کیا ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس بھرپور تیاری کے ساتھ نہیں گئی تھی کچھ سوالوں کے جواب تو انھوں نے نہیں دیے لیکن یہ وضاحت ضرور پیش کی ’کیونکہ میڈیا پر پہلے ہی ملزم کا ڈی این اے میچ ہونے کی خبریں اور اس کی تصاویر چل چکی تھیں، اس لیے اسے پہلے ہی اس بات کا علم ہو گیا تھا کہ پولیس اس کی تلاش میں ہے۔‘ اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایک اعلی افسر کا کہنا تھا کہ اس کیس کے حوالے سے ’پنجاب حکومت اور پولیس پر کافی دباؤ تھا اس لیے جیسے ہی ایک ملزم کی نشاندہی ہوئی تو حکومتی حلقوں اور افسران کی جانب سے اس دباؤ اور عوامی غصے کو کم کرنے کے لیے پہلی پریس کانفرس کی گئی۔ اس وقت ان کے پاس بتانے کو صرف یہ تھا کہ ڈی این اے میچ ہو گیا ہے جو فارنزک ڈیپارٹمنٹ نے کر کے دیا۔‘
پولیس ذرائع کے مطابق دوسری مرتبہ ملزم کے ضلع قصور کے ایک علاقے راجہ جنگ میں اپنے بہن اور بہنوئی کے گھر میں ہونے کی اطلاع ملی، جس کے بعد پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ اس کی بہن کے گھر چھاپہ مارا گیا لیکن وہ وہاں سے بھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے ایک اعلی افسر نے بتایا کہ اس میں پولیس کی ناکامی صاف دکھائی دے رہی ہے کیونکہ ان کی ٹیمیں کافی وقت سے اس علاقے میں ملزم کے تاک میں بیٹھی تھیں تاہم پولیس کے پہنچنے پر وہ وہاں سے فرار ہو کر قریبی گنے کے کھیتوں میں چلا گیا جہاں سے اسے پکڑنا مشکل ہو گیا۔ اس بار بھی ملزم تو نہیں پکڑا گیا لیکن اس کی جوتی اور چادر پولیس نے قبضے میں لے کر فارنزک کے لیے بھجوا دی اور وہاں سے اس کے رشتہ داروں کو حراست میں لے لیا گیا۔
تیسری مرتبہ پھر ملزم نے اپنے رشتہ داروں کے گھر کا رخ گیا۔ اسنے اپنی سالی سے رابطہ کیا اور ملنے کا کہا، جس کی اطلاع پولیس کو 15 پر ایک شہری کی جانب سے دی گئی۔ تاہم ملزم یہاں بھی پولیس کے پہنچنے سے کچھ دیر بعد پہلے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس بار بھی پولیس نے ملزم کی سالی اور دیگر رشتے داروں کو بھی حراست میں لے لیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کی سالی نے ہی پولیس کو ملزم کے حلیے کے بارے میں بتایا کہ وہ اس وقت موچھوں اور داڑھی کے بغیر ہے۔ اس کے بعد پولیس کی جانب سے یہ بیان بھی جاری ہوا کہ ملزم کو پکڑنے میں دشواری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ بھیس بدلتا ہےاور انھوں نے ملزم کے مختلف بھیس بدلنے والی تصاویر شائع کی تاکہ وہ کسی بھی بھیس میں ہو تو پہچانا جائے۔
پھر ملزم کا موبائل فون ضلع بہاولنگر کے علاقے منچن آباد میں استعمال ہوتے ہوئے بھی ٹریس کیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس نے اپنے ایک عزیز سے اس علاقے میں پیسوں کے لیے رابطہ کیا تھا تاہم یہاں بھی وہ پولیس کی گرفت میں نہ آسکا۔ تاہم ڈی آئی جی آفس کی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ ہماری پولیس کی ٹیمیں جگہ جگہ چھاپے مار رہی ہیں جبکہ ہم نے ملزم کو پکڑنے کے لیے اپنے نیٹ ورک کا جال بچھا رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ غلط تاثر ہے کہ پولیس کی کاوشیں رنگ نہیں لا رہی ہیں۔ جہاں جہاں ملزم جا رہا ہے وہاں وہاں پولیس اس کے پیچھے جا رہی ہے یا پہلے سے موجود ہوتی ہے۔‘ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر تو پولیس کی یہ بات درست ہے تو پھر اس کی اس سے بڑی ناکامی اور کوئی نہیں ہوسکتی کہ ملزم آگے آگے اور پولیس پیچھے پیچھے ہے۔ یعنی ملزم نے پنجاب پولیس کو کو پیچھے لگا کر ایکطرح اپنے آگے لگا رکھا ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کیس میں ملزم کے بارے میں تمام تر معلومات ہوتے ہوئے بھی اس کا نہ پکڑے جانا لاہور پولیس کی بری ناکامی ہے۔ ان کے مطابق یہاں اس بات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے کہ جب جب پولیس کو اسکی موجودگی کی اطلاع ہوئی تب تب اسے پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی کہیں سے خبر مل گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بھی خدشہ ہے کہ ہمارے محکمے کے اندر کے لوگ ہی اسے خبر کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ ملزم کی موجودگی کی خبر کے بعد کسی مخصوص سٹریٹیجی کے تحت گرفتار کرنے لیے کوشش بھی نہیں کی گئی۔
حساس نویت کے اس کیس میں صرف پولیس کا محکمہ ہی نہیں، مزید شعبے بھی اس پر کام کر رہے ہیں۔ اس کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فرانزک ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر نے پوچھا کہ اب تک پولیس نے ملزم کی گرفتاری میں کیا کمال کیا ہے؟ ان کے مطابق اس کی نشاندہی ڈی این اے کے ذریعے کی گئی جبکہ ملزم کے بارے میں معلومات ہونے کے باوجود بھی پولیس اسے نہیں پکڑ پائی۔ دوسری جانب جہاں یہ واقعہ ہوا، اس علاقے سے پولیس نے 70 لوگوں کی فہرست ڈی این اے کرنے کے لیے بھجوا دی۔ جبکہ ہم نے خاتون کی چیزوں پر سے ملنے والے نمونے اپنے ڈیٹا بیس میں ڈالے تو وہ ملزم کے نمونوں سے میچ ہوئے جو پہلے سے ہی ہمارے ڈیٹا میں موجود تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہمارے ڈیٹا میں ملزم کے نمونے موجود نہ ہوتے تو اس کی نشاندہی ہونا بھی انتہائی مشکل کام تھا۔ دوسری جانب اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن اور اس کیس کے ترجمان ذیشان اصغر کا کہنا تھا کہ اس کیس میں ملوث دوسرے ملزم شفقت کو بھی پولیس نے ہی گرفتار کیا ہے۔ جبکہ اس کا ڈی این اے بعد میں میچ ہوا۔
پولیس کا کہنا یے کہ مرکزی ملزم عابد ایک عادی مجرم ہے اور پہلے بھی 2013 میں ایک ماں اور بیٹی کے ساتھ ریپ کر چکا ہے۔ جبکہ اگست کے مہینے میں ہی وہ ضمانت پر رہا ہوا تھا۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ ملزم کے بارے میں ہر قسم کی معلومات پہلے ہی میڈیا پر لیک ہوگئی تھیں جس کی وجہ سے بھی اس کی گرفتاری میں دشواری ہوئی۔ ہمیں امید ہے کہ وہ جلد ہی پکڑا جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ پولیس ملزم کو پکڑنے کے لیے ٹیکنالوجی، فارنزک اور دیگر جدید طریقوں سمیت پولیس کے روایتی طریقوں کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔ جس میں مخبری کرنے والی ٹیموں سمیت چھاپہ مار ٹیمیں بھی شامل ہیں۔ ملزم کی معلومات کس نے لیک کی؟ ملزم کی گرفتاری اب تک عمل میں نہ لائے جانے کی ایک وجہ حکام کی جانب سے یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ میڈیا اس کا ذمہ دار ہے۔ اس بارے میں مزید تحقیقات کرنے کے لیے حکومت کے دیگر اداروں اور محکوموں سے بھی تحقیقات کی گئیں۔ اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایک اعلی افسر کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ ملزم کی تصویر اور اس کے بارے میں معلومات فارنزک ڈیپارٹمنٹ سے لیک ہوئیں اور ہم نے ان افراد کی نشاندہی بھی کر لی ہے۔
دوسری جانب پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ مرکزی ملزم ہی نہیں بلکہ اس کے گرفتار ہونے والے ساتھی کے ڈی این اے میچنگ کے بارے میں پولیس کو معلوم ہونے سے پہلے ہی فارنزک ڈیپارنمنٹ کے ایک افسر کے اہلیہ نے سوشل میڈیا پر یہ معلومات اپ لوڈ کر دی تھیں کہ ڈی این اے میچ ہو گیا ہے۔ اس بارے میں ڈی جی فارنزکس کا کہنا تھا میں نے خود سب سے پہلے یہ معلومات اعلی افسران کو دی تھیں اور انھیں نے تمام معلومات کو راز میں رکھا تھا۔ تاہم اس کیس کے حوالے سے ہم نے پولیس کی ہر قسم کی معاونت کی ہے تاکہ ملزمان کو جلدی پکڑا جا سکے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ موٹروے ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابد کی دو ہفتے گزر جانے کے باوجود گرفتاری میں ناکامی اصل میں نئے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی نااہلی کا ثبوت ہے۔
