موٹر سائیکل پر بیٹھنے والی خواتین چست لباس نہ پہنیں

کاروں پر پھرنے والے معروف اداکار بہروز سبزواری نے موٹر سائیکل پر سفر کرنے والی لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لباس کو نامناسب قرار دے دیا ہے۔پاکستانی معاشرے میں مردوں کی جانب سے خواتین کو گھورنے اور ٹکٹکی لگا کر دیکھنے جیسے مسائل پر بات کرتے ہوئے بہروز سبزواری نے دونوں فریقین کو اپنے رویوں پر غور کرنے کا مشورہ دیا۔ انکا کہنا ہے کہ ہماری خواتین مناسب لباس زیب تن کریں جبکہ مردوں کو چاہئے کہ وہ اپنی آنکھوں پر قابو رکھیں۔ یوٹیوبر اور کامیڈین نادر علی کے پوڈ کاسٹ میں گفتگو کے دوران بہروز سبزواری نے ان مسائل کے اثرات پر بات کی جو ہمارے معاشرے میں زیادہ تیزی سے پھیل رہے ہیں، انہوں نے خواتین کو گھورنے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں مردوں سے زیادہ قصور خواتین کا ہے جو کہ چست کپڑے پہن کر اپنا جسم دکھانے کی کوشش کرتی ہیں۔خواتین کے تنگ کپڑوں کے حوالے سے بہروز سبزواری نے کہا کہ پاکستان میں عوام کی بڑی تعداد کے پاس موٹر سائیکلیں ہیں، ظاہر ہے ہر کوئی کار نہیں خرید سکتا، لیکن میں نے نوٹ کیا ہے کہ موٹر بائیکس پر بیٹھنے والی خواتین مناسب لباس نہیں پہنتیں۔
بہروز سبزواری کا کہنا تھا کہ کچھ خواتین عجیب و غریب کپڑے پہن کر بائیک پر بیٹھی ہوتی ہیں جو نا مناسب لباس کے زمرے میں آ جاتا ہے۔ ان کے کپڑے عام طور پر بہت تنگ ہوتے ہیں اور مردوں کو دعوت گناہ دیتے ہیں۔ خواتین کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ وہ مکمل پردہ کریں اور خود کو ڈھانپ کر بائیک پر سوار ہوں، اس کو سختی سے ذہن میں رکھنا چاہئے۔سینئر اداکار نے کہا کہ مردوں کو بھی اپنی آنکھوں پر قابو رکھنا چاہئے اور خواتین کو مناسب انداز میں لباس زیب تن کرنے چاہئیں۔
یاد رہے کہ اداکار جاوید شیخ کی بہن سفینہ کے ساتھ شادی رچانے والے بہروز سبزواری اکثر معاشرے کی اصلاح کیلئے تجاویز دیتے رہتے ہیں حالانکہ ان کے اپنے گھر والے ان کی بات نہیں سنتے۔ بہروز معروف اداکار شہروز سبزواری کے والد ہیں جنہوں نے اپنی پہلی اہلیہ سائرہ شہروز سے طلاق حاصل کرنے کے بعد ماڈل صدف کنول سے دوسری شادی رچالی تھی۔ ایک انٹرویو میں بہروز سبزواری نے شادیوں کی ناکامی کی وجہ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی ایک بڑی وجہ دکھاوا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ شادی کے وقت شاندار تقریبات کا انعقاد اکثر شادی کے ٹوٹنے کی وجہ بنتا ہے، کیونکہ شاہانہ فنکشنز کی وجہ سے دونوں خاندانوں کی ایک دوسرے سے امیدیں بڑھ جاتی ہیں۔
