دوسروں کو ٹھوکنے والا فیض حمید 2039 تک ٹھک گیا

15 ماہ کی طویل کوٹ مارشل کارروائی کے بعد بالاخر آئی ایس آئی کے متنازع ترین چیف اور عمران خان کے قریبی ساتھی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں اور انہیں 14 برس قید با مشقت کی سزا سنا دی گئی ہے۔ فیض حمید پر سزا کا اطلاق 11 دسمبر 2025 سے ہوگا جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ 11 دسمبر 2039 تک زیر حراست رہیں گے۔ انہیں چار الزامات کے تحت سزا سنائی گئی ہے۔
فیض کے خلاف جن الزامات پر کاروائی کی گئی ہے ان میں 9 مئی 2023 کو بغاوت کی غرض سے فوجی تنصیبات پر حملوں کی سازش تیار کرنے کا الزام شامل نہیں، لیکن فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ مجرم کی چند سیاسی کرداروں سے مل کر ہنگامہ آرائی کرنے اور عدم استحکام پھیلانے کی کوششوں سمیت چند دیگر معاملات کو الگ سے دیکھا جا رہا ہے۔انہوں نے واضح نہیں کیا گیا کہ یہ معاملات کونسے ہیں لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ فیض پر 9 مئی 2023 کی سازش کا کیس علیحدہ سے چلایا جائے گا۔
یاد رہے کہ فیض حمید کو حراست میں لیے جانے کے ایک دن بعد عدالت میں پیشی کے موقع پر سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ فیض حمید کا سارا ڈراما مجھے فوجی عدالت لے جانے کے لیے کیا جا رہا ہے، انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب فوجی ترجمان نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت تادیبی کارروائی شروع کی گئی ہے۔ فیض حمید کے خلاف کارروائی کا آغاز 12 اگست 2024 کو ہوا تھا۔ اس کیس کا ریکارڈ ساڑھے آٹھ سو صفحات پر مشتمل ہے۔ فوجی عدالت کے فیصلے کو ایڈجوٹنٹ جنرل آف پاکستان کی کلیرنس کے بعد آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو بھجوایا گیا جن کی حتمی منظوری کے بعد 14 برس با مشقت قید کی سزا کے فیصلے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان کا کہنا ہےکہ سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمیدکے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈجنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کیا گیا تھا جس کی کاروائی مکمل ہونے کے بعد حتمی سزا کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان میں آئی ایس آئی کے کسی سربراہ کو کورٹ مارشل کے بعد سزا سنائی گئی ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق ملزم کے پاس اس فیصلے کے خلاف مناسب فورم پر اپیل کا حق موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم کے خلاف چار الزامات کے تحت کارروائی کی گئی، جن میں سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنا، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال کرنا اور ذاتی فائدے کے حصول کے لیے لوگوں کو ناجائز نقصان پہنچانا شامل تھے۔ فوجی ترجمان کے مطابق طویل اور محنت طلب قانونی کارروائی کے بعد ملزم فیض حمید تمام الزامات میں قصور وار قرار پایا، فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے اور ملزم کو دفاع کے لیے وکیلوں کی مرضی کی ٹیم منتخب کرنے سمیت تمام قانونی حقوق فراہم کیے گئے۔
واضح رہےکہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید عمران خان کے دور حکومت میں عاصم منیر کو ہٹا کر ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے پر تعینات کیے گے تھے۔ اسکے بعد انہیں کور کمانڈر پشاور تعینات کیا گیا تھا لیکن جنرل عاصم منیر کے آرمی چیف بننے کے بعد انہوں نے قبل از وقت استعفی دے دیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران کئی افسوس ناک پہلو بھی سامنے آئے۔ فیض حمید کے لیے سب سے بڑا المیہ عمران خان کا رویہ تھا۔ فیض حمید وہ شخص تھے جنہوں نے پی ٹی آئی کے لیے اپنی شہرت اور حتیٰ کہ زندگی تک داؤ پر لگا دی تھی، مگر مشکل وقت میں عمران خان نے صرف ایک بیان دینے کے بعد ان کا ساتھ چھوڑ دیا اور اپنی جماعت کے قائدین کو فیض حمید سے دوری اختیار کرنے کا حکم دے دیا۔
فیض حمید نے اپنی صفائی میں 90 گواہوں کی لسٹ دی تھی، جن میں دو سابق وزرائے اعظم عمران خان اور شاہد خاقان عباسی، سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل نوید مختار اور جنرل ندیم انجم سمیت 35 سرکردہ سیاست دان شامل تھے۔ تاہم ان 90 میں سے 50 لوگ تو فیض کی اہلیہ سے ملاقات کے لیے بھی راضی نہ ہوئے۔ صرف 40 افراد نے فیض سے شروع میں ملاقات کی جن میں سے 37 نے ان کے حق میں گواہی دینے سے انکار کر دیا۔ یوں ان کے سینکڑوں ساتھیوں اور دوستوں میں سے صرف تین افراد نے ان کے حق میں گواہی دی، جن میں ان کے سمدھی بریگیڈیئر حامد ڈار بھی شامل تھے۔ یعنی جو شخص کل تک پورے ملک کی سیاست اور طاقت کا محور تھا، اسے اب اگلے 14 برس کے لیے جیل میں ہی بند رہنا ہوگا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فیض حمید نے اپنے دور اقتدار میں جو بویا تھا آج وہی کاٹا ہے لہذا طاقتور عہدوں پر تعینات رہنے والوں کو خیال کرنا چاہیے کہ اقتدار ایک سرکش گھوڑے کی مانند ہے جو ہمیشہ اپنا سوار تبدیل کرتا رہتا ہے۔ کل اس پر فیض حمید سوار تھے، آج کوئی اور ہے، اور کل پھر کوئی اور ہو گا۔ یہ دنیا عبرت کی جگہ ہے؛ لہٰذا طاقت کا بے جا استعمال کرتے وقت عاجزی اختیار کرنی چاہیے چونکہ وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔
