مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کے لئے اب بجلی کے جھٹکے


کپتان حکومت کی جانب سے لگائی گئی مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کو اب بجلی کے جان لیوا جھٹکے دینے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے جس کے تحت وفاقی حکومت نے بلا روک ٹوک عوام پر کوئی بھی اضافی سرچارج لگانے اور کسی بھی وقت بجلی مزید مہنگی کرنے کا اختیار حاصل کر لیا ہے۔ اس سے پہلے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے لیے لگائی گئی شرائط کو پورا کرنے کے لیے کپتان حکومت نے پچھلے ہفتے بجلی کی قیمت میں تقریبا 6 روپے فی یونٹ اضافہ کردیا تھا جس سے اب بجلی کا ایک یونٹ 25 روپے کا ہوگیا ہے۔
مہنگائی کے ہاتھوں تنگ عوام کی مزید چیخیں نکالنے کے لیے حکومت نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یا نیپرا ایکٹ میں ترمیم کا آرڈیننس جاری کر دیا ہے جس کے مطابق حکومت بجلی کے بلوں پر عوام سے اب مذید 10 فی صد سر چارج وصول کرسکے گی، نیپرا ایکٹ میں ترمیم کے آرڈیننس کا اطلاق فوری ہوگا، یوں حکومت نے ایک روپے 40 پیسےفی یونٹ تک سر چارج لگانے کا نیا اختیار حاصل کر لیا یے۔
اس سے قبل مسلم لیگ ن کے سابقہ دور میں حکومت کو سرچارج عائد کرنے کا اختیار ختم کردیا گیا تھا لیکن وزیر اعظم عمران خان کے ایماء پر جاری ہونے والے نیپرا آرڈیننس کے تحت حکومت کو آئندہ دو سال میں بجلی ساڑھے 5 روپے تک مہنگا کرنے کا اختیار ہوگا، یوں مہنگائی کے مارے عوام پر سر چارج کی مد میں 150 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ آرڈیننس کے مطابق بجلی سسٹم کو سالانہ 1400 ارب روپے کمانا ہیں، جیسا کہ آئی ایم ایف نے شرط عائد کی ہے چنانچہ حکومت نے سرچارج لگانے کے اختیارات حاصل کر لیے ہیں اور اسے بجلی کی قیمت طے کرنے کے حوالے سے خود مختاری مل گئی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو رام کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں میں اضافہ ملک میں مہنگائی کی شرح کو مذید بڑھایے گا اور آئی ایم ایف کی پاکستان کے لیے پچاس کروڑ ڈالر کی قسط جاری ہونے کے بعد مہنگائی اور بھی بڑھ سکتی ہے۔ انکا کہنا یے کہ آئی ایم ایف کیا اس قسط کے حصول کے لیے حکومت نے جن شرائط پر رضامندی ظاہر کی ہے وہ بہت سخت ہیں اور بظاہر عوام دشمن ہیں۔ حکومت نے جن شرائط پر رضامندی ظاہر کی ہے ان میں بجلی کے شعبے میں نرخوں کو بڑھانا اور ٹیکسوں پر چھوٹ کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
ماہرین معیشت کے مطابق آنے والے دنوں میں ہونے والی مذید مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سٹیٹ بینک شرح سود میں اضافہ کر سکتا ہے جو ملکی معاشی پیداوار کو بری طرح متاثر کرے گا اور مصنوعات کو مہنگا کرے گا۔ پاکستان کو پچاس کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرنے کی منظوری دینے کے بعد آئی ایم ایف نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ پاکستانی حکام نے کلیدی شعبوں میں اصلاحات کا عمل جاری رکھا ہے جن میں سٹیٹ بینک کی خود مختاری، پاور سیکٹر میں اصلاحات، کارپوریٹ ٹیکس وغیرہ شامل ہیں۔ واضح رہے کہ پچاس کروڑ ڈالر کی قسط پاکستان کو ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی کے تحت جاری کرنے کی منظوری دی گئی ہے جس پر آئی ایم ایف اور پاکستان نے جولائی 2019 میں دستخط کیے تھے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے چھ ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری دی گئی تھی تاکہ ملک کی بیرونی ادائیگیوں کے ساتھ ساتھ پائیدار اقتصادی ترقی کو مدد فراہم کی جا سکے۔
اس پروگرام کے تحت اب تک پاکستان کو دو قسطوں میں 1.5 ارب ڈالر کی رقم وصول ہو چکی تھی اور اب پچاس کروڑ ڈالر کے بعد اس قرضے میں سے دو ارب ڈالر وصول ہو جائیں گے۔ اس پروگرام کے تحت اب تک پاکستان کو دو قسطوں میں 1.5 ارب ڈالر کی رقم وصول ہو چکی تھی اور اب پچاس کروڑ ڈالر کے بعد اس قرضے میں سے دو ارب ڈالر وصول ہو جائیں گے. اس وقت پاکستان میں مہنگائی کے عمومی منظر نامے کو دیکھا جائے تو اس کی شرح بلندی کی طرف گامزن ہے۔ پاکستان کے مرکزی بینک نے حال ہی میں اپنے مانیٹری پالیسی بیان میں کہا کہ مہنگائی کے حالیہ اعدادوشمار متغیر رہے ہیں اور جنوری میں دو سال سے زیادہ عرصے میں عمومی مہنگائی کم رہی ہے جس کے بعد فروری میں اس میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ سٹیٹ بینک کے تخمینوں کے مطابق بجلی کے نرخوں میں حالیہ اضافہ اور چینی و گندم کی قیمتیں، جنوری اور فروری کے اعدادوشمار کے مابین مہنگائی میں 3 فیصد درجے اضافے کے تقریباً 1.5 فیصد درجے کی ذمہ دار ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ آئندہ مہینوں کے دوران عمومی مہنگائی کے اعدادوشمار میں ظاہر ہو گا جس سے مالی سال 2021 میں اوسط مہنگائی قبل ازیں اعلان کردہ 7-9 فیصد کی حدود کی بالائی حد کے قریب رہے گی۔ اے کے ڈی سیکورٹیز میں معاشی امور کی ماہر ایلیا نعیم نے امکان ظاہر کیا ہے کہ مالی سال کے آخری چار مہینوں میں مہنگائی کی شرح میں مذید اضافے کا امکان ہے اور یہ دس فیصد تک جا سکتی ہے۔ یاد ریے کہ حکومت نے ملک میں بجلی کے نرخوں میں اس سال کے شروع میں 16 فیصد اضافہ کیا تھا جبکہ اس سال کی آخری سہ ماہی تک 36 فیصد اضافے پر رضامندی ظاہر کی ہے جو آئی ایم ایف سے پیسے لینے کے لیے شرائط کا حصہ تھی۔ ابھی پچھلے ہی ہفتے وفاقی کابینہ نے بجلی کے فی یونٹ پر 5.65 روپے بڑھانے کی منظوری دی تھی جس کے ذریعے اکتوبر 2021 تک صارفین سے آٹھ سو چالیس ارب روپے وصول کیے جائیں گے جس کا مقصد بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے کو کم کرنا ہے۔ تاہم اس سے عوام کی کمر مکمل طور پر ٹوٹ جائے گی۔
پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اور ماضی میں آئی ایم ایف سے معاہدوں کی ٹیم کا حصہ رہنے والے ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ موجودہ پروگرام کی بحالی کے لیے شرائط میں سب سے بڑی پریشانی بجلی کے نرخوں میں بے تحاشا اضافے پر پاکستان کا رضامند ہونا ہے جو مہنگائی کی ایک نئی لہر کو جنم دے گا اور اس سے عام آدمی کے ساتھ ملک کا درآمدی شعبہ بھی شدید متاثر ہو گا۔ ڈاکٹر پاشا نے کہا کہ محدود آمدنی والے خاندانوں کے بجلی کے بل اس سے دگنے ہو جائیں گے۔
ایلیا نعیم نے اس سلسلے میں کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت بجلی کے نرخوں میں اضافہ اگلے تین برسوں تک بڑھتا رہے گا۔ انھوں نے کہا آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت بجلی کے نرخوں میں ہونے والا اضافہ ایک عام آدمی کو شدید متاثر کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button