مہنگائی کے ساتھ عوام کی قوت خرید بڑھنے کا جھوٹا حکومتی دعویٰ


ماضی میں کیے گے دیگر کئی بلندوبانگ دعوؤں کی طرح کپتان حکومت کا یہ دعویٰ بھی جھوٹا نکلا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کے ساتھ لوگوں کی قوتِ خرید بھی بڑھی ہے جو کہ حکومت کی کامیاب معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ہوا ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کی جانب سے مہنگائی بڑھنے کے ساتھ عوام کی قوت خرید بھی بڑھنے کا مضحکہ خیز دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں افراط زر کی شرح دس فیصد سے زیادہ کی سطح پر موجود ہے۔ سرکاری ادارے وفاقی ادارہ شماریات نے مئی میں مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ہونے کا اعلان کیا ہے، فنانس ڈویژن نے مئی کے مہینے میں مہنگائی کی شرح 9.8 فیصد رہنے کی توقع کا اظہار کیا تھا۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے رواں برس افراط زر کی شرح کا ہدف 6.5 فیصد رکھا ہے اور ماہرین کے مطابق مالی سال کے اختتام تک اس ہدف کا حصول مشکل نظر آتا ہے۔ پاکستان کے مرکزی بینک نے بھی سال کے اختتام تک مہنگائی کی شرح سات سے نو فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔
ان حالات میں کپتان حکومت کے وزیر اطلاعات کی جانب سے مہنگائی کی شرح بڑھنے کے ساتھ لوگوں کی قوت خرید میں اضافے کے دعوے کو معیشت پر نظر رکھنے والے ماہرین سفید جھوٹ قرسر دیتے ہیں۔ اُن کے مطابق اگرچہ حکومت کی جانب سے جی ڈی پی میں اضافے کے اعداد و شمار پر سوالیہ نشان ہے لیکن اگر انھیں صحیح بھی مان لیا جائے تو اس کا فائدہ اتنی جلدی عام افراد تک منتقل نہیں ہو سکتا۔ دراصل وزیر موصوف کی جانب سے قوت خرید میں اضافے کا دعویٰ حکومت کی جانب سے جاری کردہ فی کس آمدنی میں اضافے کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
وفاقی سطح پر کام کرنے والی نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اعلامیے کے مطابق پاکستانیوں کی فی کس آمدنی میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 13 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔ کمیٹی کے مطابق گذشتہ سال فی کس آمدن 1361 ڈالر تھی جو اب 1543 ڈالر ہو گئی ہے۔یعنی اگر پاکستانی روپے میں بات کی جائے تو فی کس آمدن گذشتہ سال 68403 تھی جو اب بڑھ کر 72 ہزار ہو گئی ہے۔ مسلم لیگ نواز کی حکومت کے آخری مالی سال میں فی کس آمدنی 68705 روپے تھی۔
کراچی میں انسٹیٹوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن میں معیشت کے استاد صائم علی کا کہنا ہے کہ فی کس آمدنی جی ڈی پی کے سائز کو ملک کی مجموعی آبادی پر تقسیم کر کے نکالی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس سال حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق 3.9 فیصد جی ڈی پی میں شرح نمو ہے جس کی وجہ سے اس کا سائز بڑھ گیا ہے جس نے فی کس آمدنی کے اعدادوشمار کو بھی بڑھا دیا ہے۔ لہازا حکومت کی جانب سے جی ڈی پی سائز میں اضافے کی بنیاد پر فی کس آمدنی بڑھنے کے اعداد و شمار جاری کر کے قوت خرید میں اضافے کا جو دعویٰ کیا گیا ہے اسے ماہرین معیشت سراسر غلط سمجھتے ہین۔
ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی کا کہنا یے کہ معیشت کی اصطلاح میں اگر دیکھا جائے تو جب جی ڈی پی میں ترقی ہوتی ہے تو اسی سال لوگوں کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ اسے منتقل ہونے میں دو تین سال کا عرصہ لگتا ہے۔ ڈاکٹر بنگالی نے کہا معیشت میں ترقی کی وجہ سے کمپنیوں کے مالکان کو تو چھ مہینے یا سال کے اختتام پر منافع کی صورت میں منافع ہوتا ہے لیکن ملازمین کو اس کا فوری فائدہ نہیں ہوتا۔ انھوں نے حکومتی دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا جس طرح جی ڈی پی راتوں رات نہیں بڑھتی اسی طرح قوت خرید میں اضافہ بھی راتوں رات نہیں ہوتا۔ انھوں نے کہا کہ دوسال میں کووڈ کے باعث معیشت تو ویسے ہی بُری صورتحال کا شکار تھی اس لیے اب جو اضافہ ہوا ہے ان کا تقابل گذشتہ دو سالوں سے کیسے کیا جا سکتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ جی ڈی پی میں اضافے اور کمپنیوں کے منافع میں اضافے سے سرمایہ دار تو فائدہ اٹھاتے ہیں تاہم یہ کہنا کہ اس کے اثرات عام آدمی کو منتقل ہوئے ہیں یہ بات صحیح نہیں ہے۔
ماہر معیشت ڈاکٹر پرویز طاہر کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ دعویٰ ایسے وقت میں کیا ہے جب کہ اس نے گذشتہ سال خود اپنے ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں اضافہ نہیں کیا جب کہ دوسری جانب مہنگائی کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح عام ورکر کی تنخواہ میں بھی کوئی اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ ڈاکٹر پرویز نے فی کس آمدنی کی بنیاد پر قوت خرید میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا یہ دعویٰ زمینی حقیقت سے بھی مطابقت نہیں رکھتا جب کہ مہنگائی کی وجہ سے عام لوگ پریشان ہیں۔ انہوں نے حکومتی دعوے کو غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر موجودہ مالی سال کو دیکھا جائے تو یہ سال بھی کرونا کی نذر ہو گیا ہے۔ اگرچہ حکومت معاشی ترقی کے دعوے کر رہی ہے تاہم اس وبا کی وجہ سے عام فرد شدید متاثر ہوا ہے۔ ملک میں بیروزگاری پیدا ہوئی تو دوسری جانب لوگوں کے رئیل ویجز یعنی حقیقی آمدنی بھی متاثر ہوئی۔

Back to top button