میانمار: بغاوت کے بعد آنگ سان سوچی کے خلاف الزامات دائر

میانمار پولیس نے معزول رہنما آنگ سان سوچی کے خلاف غیر قانونی طور پر مواصلاتی آلات کی درآمد کے الزامات عائد کردیے ہیں۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ہیں انہیں تفتیش کے لیے 15 فروری تک حراست میں رکھا جائے گا۔پولیس نے 75 سالہ آنگ سان سوچی کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کی تفصیلات عدالت پیش کرتے ہوئے استدعا کی کہ دارالحکومت میں ان کے گھر کی تلاشی کے دوران 6 واکی ٹاکی ریڈیو ملے ہیں۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ ریڈیو غیر قانونی طور پر درآمد اور بغیر اجازت استعمال کیے گئے تھے۔مذکورہ دستاویزات میں گواہوں سے پوچھ گچھ کرنے، شواہد کی درخواست کرنے اور مدعا علیہ سے پوچھ گچھ کے بعد قانونی مشورہ لینے کے لیے ’آنگ سان سوچی کی نظربندی کی درخواست کی گئی‘۔ایک علیحدہ دستاویز میں کے مطابق پولیس نے سابق صدر ون مائنٹ کے خلاف پروٹوکول کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں جو پچھلے نومبر میں انتخابی مہم کے دوران کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بنے۔خبر رساں ادارے کی جانب سے مذکورہ پیش رفت سے متعلق پولیس، حکومت یا عدالت سے رابطہ کرنے پر کوئی جواب موصول نہیں ہوادوسری جانب جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی ایسی ایشن (آسیان) کی رکن پارلیمنٹیرین برائے انسانی حقوق چارلس سینٹیاگو نے کہا کہ نئے الزامات مضحکہ خیز ہیں۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’عوام کی جانب سے ان کے غیر قانونی اقتدار پر قبضہ کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کرنا یہ ایک مضحکہ خیز اقدام ہے‘۔
خیال رہے کہ میانمار میں فوج نے یکم فروری کی صبح جمہوری طور پر منتخب حکومت کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا اور آنگ سان سوچی اور ان کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کے دیگر رہنماؤں کو حراست میں لے لیا تھا۔
فوج کے زیر ملکیت ایک ٹی وی اسٹیشن پر جاری ایک بیان کے مطابق فوج نے کہا کہ اس نے انتخابی دھاندلی کے جواب میں نظربندیاں کی ہیں جس میں فوجی سربراہ من آنگ ہیلنگ کو اقتدار دیا گیا ہے اور ملک میں ایک سال کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔برس نومبر میں این ایل ڈی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی جسے آنگ سان سو چی کی جمہوری حکومت کے لیے ریفرنڈم کے طور پر دیکھا گیا۔بغاوت کی یہ صورتحال سول حکومت اور فوج کے درمیان کئی روز سے جاری کشیدگی میں اضافے کے بعد سامنے آئی جس نے انتخابات کے نتیجے میں بغاوت کے خدشات کو جنم دیا تھا۔سیاسی کشیدگی گزشتہ ہفتے اس وقت بڑھ گئی تھی جب ایک فوجی ترجمان نے نئی پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل بغاوت کو مسترد کرنے سے انکار کردیا تھا اور فوجی سربراہ من آنگ ہیلنگ نے آئین ختم کیے جانے کے امکان کو بڑھا دیا تھا۔تاہم فوج نے ہفتے کے آخر میں سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ‘آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے جمہوری اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی ہر ممکن کوشش کرے گی’۔اس سے قبل چند گلیوں میں ٹینکوں کو تعینات کیا گیا تھا اور پارلیمنٹ کی پہلی نشست سے قبل چند شہروں میں فوج کی حمایت میں مظاہرے بھی ہوئے تھے تاہم میانمار کے الیکشن کمیشن نے ووٹوں کی دھوکا دہی کے فوج کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button