میانمار میں فوجی بغاوت کرنے والے جرنیل کو سخت مزاحمت کا سامنا

میانمار میں آنگ سان سوچی کو اقتدار سے بیدخل کر کے مارشل لا نافذ کرنے والی فوجی جنتا ملک گیر عوامی مظاہروں میں شدت آنے اور بین الاقوامی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد شدید مشکلات کا شکار ہوگئی ہے اور اس پر اقتدار چھوڑنے کے لیے دباؤ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اقوام متحدہ اور بائیڈن کی نئی امریکی حکومت نے میانمار میں منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنے والے فوجی حکمرانوں کو وارننگ دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ اگر میانمار کی فوجی قیادت بیرکوں میں واپس نہ گئی اور منتخب رہنماوں کو رہا نہ کیا گیا تو امریکا ایک ارب ڈالر کے اثاثوں تک میانمار کی رسائی روک دے گا۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک حکم نامہ جاری کرکے میانمار کی فوجی حکومت پر سخت ترین اقتصادی پابندیاں بھی عائد کردی ہیں۔ بائیڈن نے کہا ہے کہ فوج اس اقتدار سے دست بردار ہوجائے جس پر اس نے بزور طاقت قبضہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں برمی فوج سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سوچی اور صدر ون مائنٹ سمیت گرفتار تمام جمہوری سیاسی رہنماوں اور کارکنوں کو فورا ً رہا کرے۔ بائیڈن کے حکم کے بعد میانمار کے فوجی جرنیلوں کی امریکا میں موجود ایک ارب ڈالر تک رسائی نہیں ہوسکے گی۔ ان پابندیوں کے تحت بغاوت کرنے والے فوجی رہنماوں، ان کے تجارتی مفادات اور ان کے قریبی رشتہ داروں کے اثاثوں کو بھی ہدف بنایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ میانمار کے فوجی سربراہ جنرل منگ آنگ لینگ سمیت کئی جرنیلوں پر روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کی وجہ سے 2019 سے ہی امریکی پابندیاں عائد ہیں۔
دوسری طرف اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف میانمار فوج کی کارروائی کو نسل کشی قرار دیا تھا اور اب اقوام متحدہ نے دوبارہ میانمار کی فوج پر الزام لگایا ہے کہ اس نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف ’اعلانِ جنگ‘ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے برائے میانمار ٹام اینڈریوس نے کہا ہے کہ ایسے سخت اقدامات سے جرنیلوں میں ’بے چینی کی جھلک‘ نظر آرہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا ہے کہ ان جرنیلوں کا ’احتساب کیا جائے گا۔‘ اسکے علاوہ میانمار میں موجود مغربی ممالک کے سفارتخانوں نے بھی فوج سے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بیرکوں میں جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی یونین، برطانیہ اور امریکہ کے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم سکیورٹی فورسز سے اپیل کرتے ہیں کہ ان مظاہرین پر تشدد سے گریز کیا جائے جو کہ اپنی منتخب حکومت کا تخت الٹائے جانے پر سراپا احتجاج ہیں۔ ان حالات میں میانمار کی فوجی جنتا شدید مشکل میں گھر چکی یے۔
یاد رہے کہ میانمار میں فوجی بغاوت سے آنگ سان سوچی کی سویلین حکومت گِرا دی گئی تھی۔ ان کی جماعت نومبر 2020 کے انتخابات میں بڑی اکثریت کے ساتھ فاتح بن کر سامنے آئی تھی لیکن فوج نے انتخابی دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے بغاوت کا اعلان کر دیا تھا کیونکہ آرمی چیف سوچی کی مخالف اپوزیشن جماعت کو اقتدار میں لانا چاہتے تھے۔ یاد رہے کہ بغاوت کرنے والے آرمی چیف من آنگ ہلینگ جولائی 2021 میں 65 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد اپنے عہدے سے ریٹائر ہونے والے تھے لیکن انھوں نے اقتدار پر قبضہ کر کے ملک میں ایک سال کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر کے اپنی مدت ملازمت میں ایک سال کی توسیع کر لی ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ملک بھر میں جاری فوج مخالف مظاہروں اور عالمی پابندیاں عائد ہونے کے بعد شاید میانمار کا فوجی حکمران اقتدار چھوڑ دے۔ لیکن میانمار کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو وہاں کا فوجی حاکم اس سے پہلے کوئی ایسی گارنٹی ضرور چاہے گا جسکے تحت بغاوت کے جرم پر اسکا احتساب نہ ہو۔ سوچی فوج کی سیاسی کردار کے خلاف بیس برس مزاحمت کرنے کے بعد اقتدار میں آئی تھیں لیکن پھر اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کے لئے انہوں نے فوج کے ساتھ سمجھوتا کر لیا جو زیادہ دیر نہ چل سکا۔ حکومت کا تختہ الٹ کر دنیا کو دنگ کر دینے والا جنرل من آنگ ہیلنگ اب تک صرف دو بار سرکاری ٹیلی ویژن پر عوام کے سامنے آیا ہے۔ ٹیلی پرامٹر کے سامنے گبھرائے ہوئے سے نظر آنے والے جنرل من آنگ ہلینگ نے اپنی تقریر میں فوجی بغاوت، ملک کی منتخب سیاسی قیادت کو حراست میں رکھنے، ملک کے طول و عرض میں ہر شعبے زندگی کی جانب سے فوجی حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں، عالمی برادری کی جانب سے مذمتی بیانات اور ملک پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے اثرات پر کوئی بات نہیں کی۔ اس کے بجائے اس نے ملک میں اتحاد اور تنظیم کی ضرورت کے گھسے پٹے فوجی نعروں اور گذشتہ نومبر کے انتخابات میں انتخابی بے ضابطگیوں کے بارے میں اپنے جھوٹے الزامات کو دہرایا۔ منتخب حکومت کا تختہ الٹنے پر عوامی غم و غصہ کو کم کرنے کی کوشش میں ناتجربہ کاری کے باعث ان کی واضح بے چینی کے علاوہ، من آنگ ہلینگ نے اس خطرناک بحران کے متعلق بھی کوئی آگاہی نہیں دی جس میں انھوں نے اقتدار پر قبضہ کر کے اپنے ملک کو گھسیٹا ہے۔
باقی دنیا اور لاکھوں برمی باشندوں کے نقطہ نظر میں جو افراد غیر متوقع طور پر بہت بڑی تعداد میں آنگ سان سوچی اور ان کی سیاسی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے نکلے تھے، ان کے نزدیک فوج کی جانب سے طاقت کے ذریعے اقتدار پر زبردستی قابض ہونا ’فوجی بغاوت‘ ہے جسے پہلے ہی عوام نے گذشتہ انتخابات میں رد کر دیا تھا۔ اس فوج نے ایک ایسے جنرل کے ذریعے اقتدار پر قبضہ جمایا جو نہ صرف رواں برس جولائی میں ریٹائر ہو رہے، بلکہ حال میں آنے والے انتخابی نتائج کے بعد ان کا کوئی خاص کردار بھی نہیں بچا تھا۔ لیکن میانمار کے فوجی جرنیل اپنے آپ کے لیے ایسا نہیں سوچتے۔ انھوں نے ملک میں مسلح افواج کے سیاست میں غالب کردار کو برقرار رکھنے کے لیے موجودہ آئین کی تشکیل میں برسوں گزارے جس کو وہ اب بھی ‘نظم و ضبط سے فروغ پانے والی جمہوریت’ کہتے ہیں۔ وہ ہمیشہ یہی سمجھتے تھے کہ اگر کوئی پروجیکٹ کسی ایسی سمت جا رہا ہے جس کو وہ پسند نہیں کرتے تو وہ اس میں دخل اندازی کر سکیں اور اسی لیے میانمار میں فوج حکومت کی شریک اقتدار ہے۔
یاد رہے کہ میانمار کا 2008 کا آئین سابقہ فوجی دور حکومت میں تیار کیا گیا تھا جو فوج کو ضمانت دیتا ہے کہ ملک کے ایوان بالا اور ایوان زیریں میں ایک چوتھائی نشستیں ان کی ہوں گی، اور اس بات سے بالا تر کہ کس جماعت کی حکومت ہو، ملک کی تین اہم اور طاقتور وزارتیں یعنی دفاع، خارجہ امور، اور داخلی امور بھی انکے پاس ہوں گی۔ آئین کے مطابق وہ صوبائی انتظامیہ کے بھی بیشتر معاملات دیکھیں گے۔ لہذا جب میانمار میں فوجی جرنیلوں نے آنگ سان سوچی کی رہائی کے بعد 2010 کے آخر میں ملک میں جمہوری دور حکمرانی کا آغاز کیا تو ان سے یہہی توقع تھی کہ وہ اس نظام کو اپنی چھڑی کے نیچے رکھیں گے۔ فوجی سربراہ کو بڑی امید تھی کہ انکی پراکسی پارٹی، یو ایس ڈی پی، غیر منتخب فوجی اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ مل کر 2015 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر لے گی اور آنگ سان سوچی کی پارٹی این ایل ڈی کو اگلی حکومت بنانے سے روکنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن فوجی حمایت یافتہ جماعت کو 2015 کے الیکشن میں بری طرح شکست ہوئی تھی اور سوچی کو اقتدار مل گیا تھا۔ نومبر 2020 کے الیکشن میں سوچی حکومت کی پانچ برسوں کی بی حکمرانی کے بعد یو ایس ڈی پی کو انتخابات میں بہتر نتائج کی توقع تھی لیکن اسکی نشستیں مزید سکڑ کر سات فیصد سے بھی کم ہو گیئں۔ چنانچہ نئی پارلیمنٹ کے حلف اٹھانے سے پہلے ہی جنرل من آنگ ہیلنگ نے دھاندلی کے الزامات عائد کر کے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔
اب سوال یہ ہے کہ میانمار کی مسلح افواج کا اگلا قدم کیا ہو گا؟ ان کا فوری چیلنج فوجی بغاوت کو درپیش ملک گیر مزاحمتی تحریک سے نمٹنا ہے۔ میانمار میں جو بات سب کے ذہنوں میں ہے وہ یہ کہ کیا فوج بڑی تعداد میں لوگوں کو مارے بغیر ایسا کر پائے گی۔ ابھی تو میانمار کی فوج نے خود کو اپنے زیر سایہ بنائی ہوئی سیاسی جماعت کی انتخابی مقبولیت بحال کرنے کے لیے ملک میں ایک سال کی ایمرجنسی نافد کر کے وقت دیا ہے، اس دورانیہ میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ برمی جرنیلوں کے پاس اس نظام کی پیروی کرنے کے لیے ایک مثال موجود ہے اور وہ ہے ہمسایہ ملک تھائی لینڈ کا نظام حکومت۔ وہاں بھی فوج نے اقتدار پر قبضہ کرکے اپنی اپنی مرضی کا نظام حکومت نافذ کیا تھا اور پھر اپنی اپنی بنائی ہوئی سیاسی جماعت کو اقتدار دلوا دیا۔ کچھ ایسا ہی معاملہ 2018 کے الیکشن میں پاکستان کی فوج نے بھی اپنایا تھا جب الیکشن میں وسیع پیمانے پر دھاندلی کر کے عمران خان کو اقتدار سونپ دیا گیا۔
اب میانمار میں بھی فوج کچھ ایسا ہی کرنے والی ہے۔ میانمار میں فوج آنگ سان سوچی اور منتخب صدر، ون مائنٹ کے خلاف پہلے ہی مضحکہ خیز مجرمانہ الزامات عائد کرچکی ہے۔ امکان ہے کہ این ایل ڈی کے ہیڈ کوارٹرز اور ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر پر رات کے وقت مارے جانے والے چھاپے ان دستاویزات کے حصول کے لیے ہیں جو فوج کو این ایل ڈی کے خلاف انتخابی دھوکہ دہی کا مقدمہ بنانے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں، جس کا مقصد اس جماعت یا اس کی اعلیٰ قیادت کو آئندہ انتخابات کے لیے نااہل قرار دینا ہے۔ لیکن میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف عوام کے غیر معمولی غصے کی شدت سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مستقبل میں بھی اگر ملک میں قدرے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے تو یو ایس ڈی پی یا جس پارٹی کو بھی مسلح فوج کی حمایت حاصل ہے وہ پت جائے گی۔ مستقبل قریب میں کسی بھی الیکشن کو انجینیئر کرنے کے لیے ہیرا پھیری اور جبر کی ضرورت ہو گی تاکہ فوج کی حمایت یافتہ پارٹی انتخاب جیت سکے۔ میانمار کے فوجی جرنیل یہ امید کر رہے ہیں کہ 75 سالہ آنگ سان سوچی کی بڑھتی عمر اور اقتدار سے بے دخلی انھیں اور ان کی جماعت این ایل ڈی کو سیاسی منظر نامے سے جلد غائب کر دے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میانمار میں آخری فتح فوج کی ہوتی ہے یا عوام کی؟
