میرا تحفہ میری مرضی، بیچوں یا نہ بیچوں: عمران خان

سابق وزیراعظم عمران خان نے ‘میرا تحفہ میری مرضی’ کا موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے توشہ خانہ سے جو بھی تحائف خریدے، ان کی قیمت ادا کی تھی، جس کے بعد میں انہیں اپنے پاس رکھوں یا بیچ دوں، اس سے کسی کا کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران نے کہا کہ انہوں نے توشہ خانہ سے تحائف 50 فیصد ادائیگی کر کے لیے، انہیں بہت سے تحائف بنی گالہ رہائش گاہ پر ملے جو انہوں نے پہلے توشہ خانہ میں جمع کراوئے اور پھر انکی سرکاری قیمت ادا کر کے انہیں خرید لیا، انہوں نے کہا کہ اس کے بعد اگر میں نے انہیں بیچ دیا تو اس معاملے کا کسی سے کوئی سروکار نہیں بنتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب شہباز حکومت کو میرے خلاف اور کچھ نہیں ملا تو توشہ خانہ سکینڈل نکال لائے۔
تاہم یاد رہے کہ اس معاملے پر عمران خان غلط بیانی کر رہے ہیں چونکہ معروف تحقیقاتی ویب سائٹ فیکٹ فوکس کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے سال 2018 میں ساڑھے آٹھ کروڑ روپے مالیت کی قیمتی گھڑی سمیت کروڑوں روپے کے تحائف سرکاری توشہ خانہ سے صرف 15 فیصد قیمت پر حاصل کرنے کے بعد انہیں خریدنے کے لئے نئی قیمت 50 فیصد مقرر کر دی تھی۔ صحافیوں سے گفتگو میں عمران خان نے اس بات کی تصدیق کی کہ 2018 تک توشہ خانہ سے خریداری 15 فیصد پر ہوتی تھی، اور انکے دور میں یہ قیمت 50 فیصد کر دی گئی۔ جب عمران خان سے قیمتی تحائف بشریٰ بی بی کی سہیلی فرح خان کے ذریعے دبئی میں فروخت کرنے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے بات گھماتے ہوئے کہا کہ فرح خان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا، وہ کرپشن کیسے کرسکتی تھیں، ان کے خلاف کرپشن کا کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کی سہیلی پر جھوٹے الزامات لگائے جارہے ہیں اور انہوں نے کوئی کرپشن نہیں کی۔
سابق وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری میں ان سے غلطی ہوئی، انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت راجہ سکندر سلطان کے خلاف نااہلی کا ریفرنس دائر کر رہی ہے، عمران کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اتنے جانبدار نکلیں گے، میرے خیال میں مستقبل میں چیف الیکشن کمشنر کا تقرر ایک آزاد باڈی کو کرنا چاہیئے۔
عمران خان نے اس تاثر کی تردید کی کہ وہ تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کے ممکنہ فیصلے کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ کیس تمام جماعتوں کے خلاف اکٹھا چلائیں، تحریک انصاف کے سوا کسی جماعت کے پاس فارن فنڈنگ کا ریکارڈ نہیں ہے، عمران خان کا اصرار تھا کہ ان کی پارٹی نے کوئی فارن فنڈنگ نہیں لی، اور انکی پارٹی سے نکالے گئے شخص اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں جھوٹا کیس دائر کیا۔ لیکن یاد رہے کہ الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی، تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کے بارے اکبر ایس بابر کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے ٹھوس ثبوت اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے حاصل کر چکی ہے۔
سابق وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کےخلاف نا اہلی کیس دائر کرنا انکی حکومت کی غلطی تھی، انکا کہنا تھا کہ وزیرقانون فروغ نسیم نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے مختلف فلیٹس اوراثاثوں کے بارے میں انہیں بریف کیا تھا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان کے خلاف کی جانے والی کارروائی غیرضروری تھی۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ فوج ملک کی ضرورت ہے، وہ اس کےخلاف کوئی بات نہیں کریں گے، انکاکہناتھا کہ امریکہ کی جنگ میں فوج کو نقصان ہوا، لیکن میں امریکہ کےخلاف نہیں ہوں۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ انکے دورہ روس پر فوجی قیادت آن بورڈ تھی، میں نے روس جانے سے پہلے جنرل باجوہ کے ساتھ مشورہ کیا تھا، ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ مجھے ضرور جانا چاہیے۔
عمران کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ہائوس میں 9 اپریل کی رات 12 بجے تک صحافی ان کے ساتھ تھے، لہذا اس حوالے سے اڑنے والی افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں۔ سابق وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ پنجاب میں عثمان بزدار کو ہٹانے اور پرویز الٰہی کو امیدوار بنانے کا فیصلہ درست نہیں تھا، انکا کہنا تھا کہ الیکشن 2018 کے بعد میں کرپشن سے پاک شخص کو وزیراعلیٰ پنجاب بنانا چاہتا تھا، جن کےخلاف کیسز تھے وہ وزیراعلیٰ بننا چاہتے تھے، اس لئے میں نے عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنایا اور انہوں نے اپنے دور میں بہترین کام کیا۔
ایک اور سوال پر عمران خان نے فوجی ترجمان کا موقف جھٹلاتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد فوجی اسٹیبلشمنٹ تین تجاویز لے کر ان کے پاس آئی اور انہوں نے نئے الیکشن والی تجویز سے اتفاق کیا جو کہ اپوزیشن نے نہیں مانی تھی۔ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پچھلے انتخابات میں ٹکٹوں پر توجہ نہیں دی تھی، اس بار ٹکٹس خود دیکھ کردوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اتحادیوں کو ٹکٹ دے کر سبق سیکھا ہے کہ اتحادی نہیں ہونے چاہئیں، اب کسی الیکٹ ایبل کو ٹکٹ نہیں دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ میرے خلاف تب سازش ہوئی جب چیزیں ٹھیک ہورہی تھیں عمران نے کہا کہ میرے خلاف نومبر سے سازش شروع ہوئی اور جنوری میں تحریک عدم اعتماد لانے کا پلان ہوا، اسکے بعد امریکی سفارتخانے نے ہمارے ناراض ایم این ایز سے ملاقاتیں کیں، اور امریکی دھمکی آنے کے بعد اتحادی بھی ان کے ساتھ مل گئے۔
