میرا جسم میری مرضی فحاشی اورعریانیت ہے

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا ہے کہ میرا جسم میری مرضی فحاشی اور عریانیت ہے، اس سوچ کی نہ اسلام اجازت دیتا ہے نہ ہی پاکستان کی جمہوریت میں اس کی کوئی گنجائش موجود ہے، ایک فیصد سے بھی کم خواتین مغربی ایجنڈے کو پاکستان میں عام کرنا چاہتی ہیں، ایک فیصد سے کم خواتین پورے پاکستان کی خواتین کے حقوق کی بات نہیں کر سکتیں.
ملتان میں جامعہ قاسم العلوم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےسربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ وہ وعدے عوام کے سامنے لانا پڑیں گے جس پر دھرنا ختم کرایا گیا۔ پاکستان میں حالات ٹھیک نہ ہوئے تو انقلاب آسکتا ہے. انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے کاروباری افراد پیسہ نکال کر باہر جا رہے ہیں، معیشت کی تباہی سے جغرافیہ تبدیل ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سوچ ملک اور ریاست کو بچانا ہے جب کہ اپوزیشن متحد ہوتی ہے تو حالات بہتر ہوسکتے ہیں، اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کو بڑا کردار ادا کرنا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمن نے مزید کہا کہ ہم سے معاہدہ کرنے والے اپنا کردار ادا کریں، ہمیں مجبوراً وہ وعدے عوام کے سامنے لانے پڑیں گے جس پر ہمارا دھرنا ختم کرایا گیا. ان کا مزید کہنا تھا کہ جس نے کہا تھا کہ جنوری آخری مہینہ ہو گا اُن کو جلد سامنے لائیں گے، ہم نے کسی اور کی بات مانی ہے تاہم دکھایا ق لیگ کو گیا ہے، ق لیگ کے پاس کوئی اختیار ہے ہی نہیں۔وعدے کی پاسداری نہ کی گئی تو نام سامنے لائیں گے، کسی سے ڈرنے والے نہیں۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کا کہنا تھا کہ ہمارے نظام میں ایسے عناصر موجود ہیں جو ختم نبوت کے معاملے پر حملہ کرتے ہیں جبکہ بلدیاتی الیکشن سے مُلک میں انارکی پھیل جائے گی، بلدیاتی انتخابات کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے، ہم صرف جنرل الیکشن کو تسلیم کریں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حکومت کو خاموشی سے برداشت نہیں کیا جائے گا، اگر اپوزیشن آج بھی ایک صف پر آجائے تو بہت کم عرصے میں لوگوں کو حقیقی جمہوریت دے سکتے ہیں. انھوں نے کہا کہ حکمران اس ملک کی کشتی کو ڈبو رہے ہیں، ہم میدان میں ہیں اور عوام کا ساتھ دیں گے، ہم نے 14 ملین مارچ اور ایک آزادی مارچ کیا مگر کہیں بدنظمی نہیں ہوئی، ہماری تربیت یہ نہیں کہ ہم نظام کو درہم برہم کریں۔
فضل الرحمن نے کہا کہ امریکہ طالبان معاہدہ امن کی علامت ہے، دونوں فریقین کو استحکام اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا، بہت سی دنیا اس معاہدے سے خوش نہیں، سازشوں کے ذریعے معاہدے کے اثرات کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عورت مارچ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میرا جسم میری مرضی فحاشی ہے، اس سوچ کی نہ اسلام اجازت دیتا ہے نہ ہی پاکستان کی جمہوریت میں اس کی اجازت ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button