"میرا جسم میری مرضی” کا نعرہ عورت مارچ سے جڑ گیا

8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اعلان کردہ عورت مارچ اس برس بھی شدید تنازعات کی زد میں ہے اور اس کے حق اور مخالفت میں زوردار بحثیں جاری ہیں۔
عورت مارچ کا معاملہ اب مین سٹریم میڈیا پر بھی زیر بحث ہے اور خوب گرماگرمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ڈرامہ نگار خلیل الرحمٰن قمر اور خواتین کے حقوق کی کارکن ماروی سرمد کے مابین ایک لائیو ٹی وی پروگرام میں برپا ہونے والے
طوفان بد تمیزی کے بعد توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند روز میں ہونے والے عورت مارچ میں چند نئے نعرے بھی متعارف کرائے جائیں گے جو ہمارے معاشرے کے قدامت پسند مردوں کے غصے کو مزید بڑھانے کا باعث بنیں گے۔
میرا جسم میری مرضی جیسے متنازعہ سلوگن پر جاری بحث کے بعد رواں سال ہونے والے عورت مارچ کو خصوصی اہمیت دی جارہی ہے اور سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے اس کے حق میں اور اس کی مخالفت میں ٹرینڈز دکھائی دے رہے ہیں۔ رواں سال عورت مارچ کا معاملہ عدالت میں بھی پہنچا تاہم لاہور ہائیکورٹ نے عورتوں سے آٹھ مارچ کو عورت مارچ کا حق چھیننے سے انکار کردیا اور ساتھ ہی ہدایت کی کہ منتظمین اس بات کو یقینی بنائیں کہ مارچ کے دوران مردوں کی تذلیل نہیں کی جائے گی اور متنازعہ نعرے نہیں لگائیں گے۔
جہاں ٹی وی اسکرینوں اور سوشل میڈیا پر عورت مارچ کے حوالے سے بحث جاری ہےوہیں سیاسی قیادت بھی اس حوالے سے اپنی آراء پیش کرچکی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عورت مارچ کو مکمل طور پر جائز اور خواتین کا بنیادی حق قرار دیتے ہوئے اس کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔ بلاول کے والد اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے سندھ حکومت کو ہدایت کی ہے کہ 8 مارچ کو ہونے والے عورت مارچ کو بھرپور سکیورٹی اور تعاون فراہم کیا جائے۔ اس کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ کراچی سمیت سندھ کے بڑے شہروں میں عورت مارچ خوب دھوم دھڑکے سے ہوگا کیونکہ سندھ حکومت خواتین کے حقوق کی علمبردار بنی دکھائی دیتی ہے۔
عورت مارچ کے حوالے سے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے تاہم دینی جماعتیں کھل کر عورت مارچ کی مخالفت کر رہی ہیں۔ جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے عورت مارچ کو فحاشی اور عریانیت کے فروغ اور مغربی ایجنڈے کی تکمیل کی ایک کڑی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی نے بھی عورت مارچ کے مقابلے میں غیرت مارچ کا اعلان کرتے ہوئے اسلامی شعائر کو پروموٹ کرنے کے لئے خصوصی تقاریب منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مسلم لیگ ن نے عورت مارچ کی نہ تو کھل کر مخالفت کی ہے اور نہ ہی اس کی حمایت ،،، میاں نواز شریف کی صحت اور پارٹی قیادت کے خلاف مقدمات میں الجھی ہوئی مسلم لیگ نون عورت مارچ پر جاری گرما گرم بحث میں صرف تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز عورت مارچ کو خواتین کی صنفی برابری کے لیے جدوجہد سے تعبیر کرتی ہیں اور ان کا موقف ہے کہ عورتوں کو ان کا اپنا دن اپنی مرضی سے منانے کی اجازت ہونی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button