میرے اغوا کا توہین عدالت کیس سے براہ راست تعلق ہے

سپریم کورٹ آف پاکستان میں توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران صحافی مطیع اللہ جان نے اپنے ‘اغوا’ کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے تحریری جواب جمع کروانے کے لیے مہلت طلب کرلی۔
سپریم کورٹ میں بدھ کو چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل بینچ نے صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اسلام آباد پولیس کو گذشتہ روز مبینہ طور پر اغوا اور پھر بازیاب ہونے والے سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کا بیان ریکارڈ کرنے اور اس معاملے سے متعلق جامع رپورٹ دو ہفتوں میں عدالت عظمی میں جمع کروانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
عدالت عظمی کی جانب سے یہ احکامات صحافی مطیع اللہ جان کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اعلی عدلیہ کے ججز کے خلاف ’توہین آمیز‘ الفاظ استعمال کرنے کے الزام میں شروع ہونے والے ایک کیس کی سماعت کے دوران دیے گئے۔مطیع اللہ جان کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹ پر 15 جولائی کو چیف جسٹس آف پاکستان نے از خود نوٹس لیتے ہوئے مطیع اللہ سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کیے تھے۔ بدھ (آج) کو اس کیس کی پہلی باقاعدہ سماعت ہوئی۔
چونکہ باقاعدہ سماعت سے ایک روز قبل صحافی کو اغوا کر لیا گیا تھا اسی لیے سماعت کے دوران زیادہ تر بات اسی معاملے پر ہوئی۔
یاد رہے کہ منگل کی صبح مطیع اللہ جان کو اسلام آباد کے علاقے سیکٹر جی سکس میں ان کی اہلیہ کے سکول کے باہر سے چند مسلح افراد نے اغوا کیا تھا تاہم اغوا کے 12 گھنٹے بعد وہ اپنے گھر واپس پہنچ گئے تھے۔
چیف جسٹس نے سماعت کے آغاز میں کہا کہ کل بہت شور شرابہ تھا یہ سب کیا تھا؟ اس پر اٹارنی جنرل نے مطیع اللہ کے بھائی شاہد عباسی کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر کا بتایا اور حکومتی بیان پڑھ کر سنایا جس میں بتایا گیا تھا کہ مطیع اللہ فتح جنگ کے علاقے قطب آباد سے بازیاب ہوئے۔ عدالت میں جب صحافی مطیع اللہ نے بولنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے انھیں روکتے ہوئے کہا کہ ’آپ نہ بولیں، آپ کو ہم توہین عدالت کے معاملے میں سنیں گے۔‘دوران سماعت سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا کہ کیا کل کے واقعے کا تعلق آج سپریم کورٹ میں ہونے والی کارروائی سے بھی بنتا ہے؟
صحافی مطیع اللہ نے توہین عدالت کے مقدمے میں عدالت کو بتایا کہ کل کے واقعے کی وجہ سے وہ توہین عدالت کیس میں اپنا جواب تیار نہیں کر سکے۔ انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کو فری اینڈ فیئر ٹرائل کا موقع دیا جائے۔ جس پر چیف جسٹس نے انھیں کہا کہ آپ کو بھرپور موقع دیا جائے گا اور یہ سب شفاف ہو گا۔مطیع اللہ نے کہا کہ وہ وکیل کی خدمات بھی حاصل کریں گے تاہم وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اُن کے اغوا کا اس توہین عدالت کے مقدمے سے براہ راست تعلق ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو بیان دیتے ہوئے محتاط ہونا چاہیے، آپ کے اس بیان کا کیا مطلب ہے۔ اس پر مطیع اللہ نے کہا کہ ’کیوںکہ آپ نے پوچھا تھا کہ کل کے واقعے کا اس کیس سے کوئی تعلق تو نہیں بنتا، میں نے اُس کا جواب دیا ہے۔‘
سماعت کے اختتام پر جب عدالت نے اپنے مختصر تحریری فیصلے میں ’مبینہ اغوا‘ کا لفظ استعمال کیا تو مطیع اللہ نے کہا کہ وہ حقیقت میں اغوا ہوئے اسے ’مبینہ‘ نہ لکھا جائے۔ اس پر جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی زبان ہے، آپ کی بات کو ہم غلط نہیں کہہ رہے۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اس معاملے میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔
سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ یہ ریاست بنانا ریپبلک نہیں ہے یہاں شہریوں کے حقوق ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے آپ کے خدشات کا نوٹس لیا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ شہریوں کے حقوق کوڑے دان میں نہیں پھینکے جا سکتے اور کوئی بھی یہ حقوق سلب نہیں کر سکتا۔ صحافی تنظیموں کے نمائندہ افضل بٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت اس معاملے کو آخر تک سنے۔سپریم کورٹ نے مطیع اللہ کو دو ہفتوں میں توہین عدالت کے کیس میں اپنا جواب تیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے انھیں وکیل کی خدمات حاصل کرنے کو کہا ہے۔ اس کیس میں آئندہ سماعت دو ہفتوں بعد ہو گی۔
واضح رہے کہ 15 جولائی کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے صحافی مطیع اللہ جان کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اعلی عدلیہ کے ججز کے خلاف ’توہین آمیز‘ الفاظ استعمال کرنے کے الزام میں نوٹس جاری کیا تھا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے بدھ کو اپنی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔ آج سپریم کورٹ میں اس کیس پر بھی سماعت ہوئی۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ کے فیصلے کے بعد صحافی مطیع اللہ جان نے اپنی ایک ٹویٹ میں ایسے الفاظ لکھے تھے جس سے عدالت عظمی نے یہ خیال کیا کہ اس سے توہین عدالت کا پہلو نکلتا ہے۔اس حوالے سے مطیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ ظاہری طور پر یہ اسی ٹویٹ کا معاملہ ہو سکتا ہے جس میں انھوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے صدارتی ریفرنس کے کیس کے پس منظر میں اعلی عدلیہ کے سات ججز کے ‘کردار‘ کی بابت بات کی تھی۔انھوں نے کہا کہ ’اعلیٰ عدلیہ کی ججز کی برداشت کو بھی اعلیٰ ہونا چاہیے اور ایک ایسے وقت میں جب ملک میں آزادی اظہار رائے کے حوالے سے پہلے ہی گھٹن کا ماحول ہے تو کہیں نہ کہیں سے بات تو کی جاتی ہے جو شاید چند افراد کو ناپسندیدہ لگے۔‘انھوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ سے ان کی استدعا ہو گی کہ وہ آئندہ سماعت پر اس معاملے میں ان کا مکمل موقف سنیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button